Tag: شمالی کوریا

  • شمالی کوریا: کم جونگ اُن کی نگرانی میں نئے بحری جنگی جہاز سے کروز میزائل تجربات، عالمی جنگی کشیدگی کے ماحول میں ایسے تجربے پر کئی سوالات

    شمالی کوریا: کم جونگ اُن کی نگرانی میں نئے بحری جنگی جہاز سے کروز میزائل تجربات، عالمی جنگی کشیدگی کے ماحول میں ایسے تجربے پر کئی سوالات

    مشرقِ ایشیا میں ایک بار پھر عسکری سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے حال ہی میں ملک کے ایک نئے بحری جنگی جہاز سے کروز میزائلوں کے تجربات کی براہِ راست نگرانی کی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تجربات شمالی کوریا کی بحری دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ تاہم عالمی سطح پر اس اقدام کو صرف ایک فوجی مشق نہیں بلکہ ایک سیاسی اور تزویراتی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ تجربات ایک جدید بحری تباہ کن جہاز سے کیے گئے، جسے حالیہ برسوں میں ملک کی بحری طاقت میں ایک اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کم جونگ اُن نے اس موقع پر نہ صرف میزائل فائرنگ کے عمل کا مشاہدہ کیا بلکہ بحریہ کے افسران سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ملک کو اپنی سمندری دفاعی صلاحیتوں کو مزید جدید اور مؤثر بنانا ہوگا۔

    بحری طاقت بڑھانے کی کوشش

    شمالی کوریا کی بحریہ ماضی میں زیادہ تر ساحلی دفاع اور چھوٹے جنگی جہازوں تک محدود سمجھی جاتی رہی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں پیانگ یانگ نے بحری قوت کو جدید بنانے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت نہ صرف نئے جنگی جہاز تیار کیے جا رہے ہیں بلکہ ایسے ہتھیار بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں جو سمندر سے دور دراز اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    نئے بحری جنگی جہاز سے کروز میزائل داغنے کا مقصد بھی اسی سمت میں ایک قدم سمجھا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جب کسی ملک کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہوں جو زمین، فضا اور سمندر تینوں سے استعمال کیے جا سکیں تو اس کی دفاعی حکمت عملی کہیں زیادہ پیچیدہ اور مؤثر ہو جاتی ہے۔

    کروز میزائل کی صلاحیت

    کروز میزائل دراصل ایسے ہتھیار ہوتے ہیں جو کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچتے ہیں۔ یہ میزائل طیارے کی طرح فضا میں طویل فاصلے تک سفر کر سکتے ہیں اور جدید رہنمائی نظام کی مدد سے انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بناتے ہیں۔ ان کی پرواز کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ اکثر یہ روایتی نگرانی کے نظام سے بچ نکلتے ہیں۔

    اسی وجہ سے جدید جنگی حکمت عملی میں کروز میزائلوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اگر انہیں بحری جہاز سے داغا جائے تو یہ دشمن کے ساحلی شہروں، فوجی اڈوں یا اہم تنصیبات تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    خطے میں بڑھتی کشیدگی

    یہ تجربات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ ایشیا پہلے ہی کشیدگی کے ماحول سے گزر رہا ہے۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے تناؤ کا شکار ہیں، جبکہ جاپان اور امریکا بھی خطے میں سکیورٹی کے معاملات میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربات اکثر ایسے مواقع پر سامنے آتے ہیں جب خطے میں مشترکہ فوجی مشقیں یا سیاسی کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے تجربات صرف عسکری طاقت کا مظاہرہ نہیں ہوتے بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام بھی دیتے ہیں۔

    عالمی سطح پر تشویش

    شمالی کوریا کے میزائل پروگرام پر پہلے ہی کئی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت پیانگ یانگ کو بعض اقسام کے میزائل اور ہتھیاروں کے تجربات سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم شمالی کوریا بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اسے اپنے دفاع کے لیے جدید ہتھیار تیار کرنے کا حق حاصل ہے۔

    اسی وجہ سے جب بھی شمالی کوریا نئے میزائل تجربات کا اعلان کرتا ہے تو عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے تجربات نہ صرف خطے کے سکیورٹی ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی کشیدگی کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔

    طاقت کے توازن پر ممکنہ اثر

    دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر شمالی کوریا اپنی بحری قوت کو جدید میزائل نظام سے لیس کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا اثر پورے خطے کے عسکری توازن پر پڑ سکتا ہے۔ سمندر سے داغے جانے والے میزائل دشمن کے دفاعی نظام کے لیے ایک اضافی چیلنج بن سکتے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ کم جونگ اُن کی نگرانی میں ہونے والے حالیہ تجربات کو محض ایک فوجی سرگرمی نہیں بلکہ ایک وسیع تر تزویراتی حکمت عملی کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    کئی سوالات باقی

    ان تجربات کے بعد کئی سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔ کیا شمالی کوریا اپنی بحریہ کو مکمل طور پر جدید میزائل نظام سے لیس کرنے جا رہا ہے؟ کیا یہ تجربات خطے میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ کو جنم دے سکتے ہیں؟ اور کیا اس کے نتیجے میں عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے؟

    فی الحال ان سوالات کے واضح جواب سامنے نہیں آئے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ مشرقِ ایشیا کے سمندروں میں ہونے والے یہ تجربات عالمی سیاست اور سلامتی کے منظرنامے میں ایک نئی بحث کو جنم دے چکے ہیں۔