Tag: شعلے

  • ‘اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی’، شعلے فلم کے مولوی صاحب کی نظر میں وہ کراچی جو اب نہیں رہا

    ‘اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی’، شعلے فلم کے مولوی صاحب کی نظر میں وہ کراچی جو اب نہیں رہا

    بھارتی فلم ‘شعلے’ کا یہ مکالمہ آج بھی لوگوں کی زبان پر ہے، ‘اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی’۔ مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ الفاظ ادا کرنے والے اداکار کی زندگی کا ایک اہم باب اسی شہر سے جڑا ہے جسے آج کراچی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    یہ کردار ادا کرنے والے اے کے ہنگل محض ایک اداکار نہیں تھے۔ وہ ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے ابتدائی ارکان میں سے ایک، پیشے کے لحاظ سے درزی اور جذبے سے ایک انسان دوست فنکار تھے۔

    کراچی سے رشتہ

    پاکستان کے قیام سے کچھ برس پہلے ہنگل روزگار کی تلاش میں کراچی آئے۔ یہاں قیام کے دوران وہ اشتراکی نظریات سے متاثر ہوئے اور مزدور تحریک میں عملی طور پر شریک ہو گئے۔ انہوں نے اپنی مختصر خودنوشت میں کراچی کے حوالے سے ایک مستقل باب لکھا ہے جو اس شہر کی ایک انوکھی تاریخی گواہی پیش کرتا ہے۔

    وہ کراچی جو ہنگل نے دیکھا

    ہنگل لکھتے ہیں کہ اس زمانے کا کراچی حیرت انگیز حد تک منظم شہر تھا۔ بندرگاہ سرگرم تھی، ٹرام چلتی تھی، سڑکیں صاف تھیں اور رہائشی و تجارتی علاقے واضح طور پر الگ الگ تھے۔

    مگر جو بات انہیں سب سے زیادہ متاثر کرتی تھی وہ اس شہر کی سماجی ہم آہنگی تھی۔ ہندو، مسلمان، سکھ اور پارسی سب ایک ساتھ کام کرتے، ایک ساتھ رہتے اور روزمرہ زندگی میں مذہب موضوع بحث نہیں بنتا تھا۔

    وہ تھیٹر کے اپنے دنوں کو یاد کرتے ہیں جب مختلف مذاہب کے فنکار ایک ہی اسٹیج پر جمع ہوتے تھے۔ ان کے بقول سیاسی اختلاف ضرور تھے، مگر باہمی تعلقات میں تلخی نہیں تھی۔

    طوفان کی آہٹ

    پھر وہ وقت آیا جب تقسیم کی بحث نے پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہنگل لکھتے ہیں کہ کراچی ابتدا میں نسبتاً پُرسکون رہا، لیکن جیسے جیسے پنجاب اور دیگر علاقوں سے فسادات کی خبریں آنے لگیں، شہر میں بے چینی پھیلنے لگی۔

    انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جاننے والے خاندان اچانک گھر بیچنے اور شہر چھوڑنے کی تیاری میں لگ گئے۔ گھروں کی فروخت، دکانوں کی منتقلی اور آخری الوداع کے یہ مناظر انہیں اندر سے ہلا گئے۔ پہلی بار انہیں احساس ہوا کہ یہ شہر، جو اتنا مستحکم نظر آتا تھا، دراصل ایک بڑے طوفان کے دہانے پر کھڑا ہے۔

    مہاجرین، ہجوم اور ٹوٹتا توازن

    تقسیم کے بعد جب ہندوستان سے لاکھوں افراد کراچی پہنچے تو ہنگل نے انسانوں کا وہ سیلاب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ریلوے اسٹیشنوں اور بندرگاہ پر تھکے، خوفزدہ اور بے گھر لوگوں کا ہجوم تھا۔

    رہائش کا بحران یکدم پیدا ہو گیا۔ خالی مکانات پر قبضے ہونے لگے۔ سرکاری عمارتیں مہاجرین سے بھر گئیں اور شہری سہولتیں شدید دباؤ کا شکار ہو گئیں۔

    ہنگل لکھتے ہیں کہ یہی وہ لمحہ تھا جب کراچی کی پرانی ترتیب بکھر گئی۔ جو شہر کبھی منصوبہ بندی کی مثال تھا، وہ ہنگامی انتظامات کا میدان بن گیا۔

    ذاتی خوف اور ہجرت کا فیصلہ

    ان حالات میں ہنگل کو خود بھی شک کی نظروں کا سامنا کرنا پڑا۔ بائیں بازو سے وابستگی اور مزدور تحریک میں سرگرمی کے باعث ان جیسے لوگوں پر نظر رکھی جانے لگی۔ بعض ساتھی گرفتار ہوئے اور بعض شہر چھوڑ گئے۔

    پھر وہ لمحہ آیا جب انہیں بھی فیصلہ کرنا پڑا، کراچی میں رہیں یا ہندوستان جائیں۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، کیونکہ کراچی اب صرف ایک شہر نہیں بلکہ ان کا گھر بن چکا تھا۔ مگر بدلتی سیاسی فضا اور بڑھتے خدشات نے انہیں ہجرت پر مجبور کر دیا۔

    ایک زمانے کو الوداع

    ہنگل کی تحریر کے آخری صفحات میں ایک گہرا دکھ جھلکتا ہے۔ وہ کراچی کو ایک خوبصورت، باوقار اور ہم آہنگ شہر کے طور پر یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اصل المیہ مہاجرین کی آمد نہیں بلکہ وہ غیر منصوبہ بند ہنگامی حالات تھے جنہوں نے شہر کا توازن بگاڑ دیا۔

    یہ یادداشت بیک وقت ایک ذاتی داستان بھی ہے اور ایک تاریخی دستاویز بھی۔ اسے پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ہنگل صرف ایک شہر کو نہیں بلکہ اپنے پورے ایک زمانے کو الوداع کہہ رہے تھے۔