سندھ کے ضلع عمرکوٹ کے شہر نیوچھور سے ایک ایسی آواز ابھر رہی ہے جو نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے خطے میں اپنی پہچان بنا رہی ہے۔ یہ آواز ہے 10 سالہ گلوکار شاہ زین کی، جس نے اپنی کم عمری کے باوجود اپنی دلکش اور سریلی گائیکی سے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔
شاہ زین کی آواز میں ایک فطری مٹھاس اور سادگی پائی جاتی ہے، جو سننے والے کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔ ان کی گائیکی میں بناوٹ یا مصنوعی پن کے بجائے ایک معصومیت جھلکتی ہے، جو شاید ان کی اصل طاقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ کوئی گانا گاتے ہیں تو سننے والے صرف سنتے ہی نہیں بلکہ اس کیفیت کو محسوس بھی کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ٹیلنٹ کو سامنے آنے کے لیے ایک پلیٹ فارم درکار ہوتا ہے، شاہ زین کی ویڈیوز تیزی سے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ان کی گائیکی پر مبنی مختصر ویڈیوز مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی ہیں، جہاں صارفین نہ صرف انہیں سراہ رہے ہیں بلکہ ان کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں بھی دے رہے ہیں۔ کئی لوگوں نے ان کی آواز کو قدرتی صلاحیت کا بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔
شاہ زین کا یہ سفر کسی بڑے شہر یا جدید میوزک اکیڈمی سے شروع نہیں ہوا، بلکہ ایک سادہ سے ماحول سے پروان چڑھا ہے۔ مقامی تقریبات، چھوٹی محافل اور علاقے کے سماجی پروگرامز میں گاتے گاتے وہ آج اس مقام تک پہنچے ہیں جہاں ان کا نام سندھ کے مختلف شہروں میں جانا پہچانا جا رہا ہے۔ اب انہیں مختلف تقریبات میں بطور خاص مدعو کیا جاتا ہے، جہاں وہ اپنی آواز سے سامعین کو محظوظ کرتے ہیں اور خوب داد سمیٹتے ہیں۔
ان کے والد نواز علی کا کردار اس سفر میں نہایت اہم ہے۔ وہ نہ صرف اپنے بیٹے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ اس کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے ہر ممکن کوشش بھی کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ایسے بچوں کو بروقت رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ مستقبل میں ملک کے بڑے فنکار بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی اور ثقافتی ادارے ایسے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو پہچانیں اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے سہولیات فراہم کریں۔
موسیقی سے وابستہ افراد بھی شاہ زین کی آواز کو سن کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں ایک قدرتی صلاحیت موجود ہے، جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ اگر اس صلاحیت کو باقاعدہ تربیت، کلاسیکل بنیادوں اور جدید موسیقی کے امتزاج کے ساتھ پروان چڑھایا جائے تو وہ مستقبل میں ایک نمایاں گلوکار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔
علاقہ مکینوں کے لیے شاہ زین صرف ایک گلوکار نہیں بلکہ امید کی ایک علامت بن چکے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایک چھوٹے سے شہر کا بچہ اپنی آواز کے ذریعے اتنی پہچان حاصل کر سکتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ کسی جگہ یا وسائل کا محتاج نہیں ہوتا۔ تاہم، وہ حکومت سے یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر انداز میں پیش کر سکیں۔
شاہ زین کی کہانی دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کے چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں بے شمار باصلاحیت بچے موجود ہیں، جو صرف ایک موقع اور رہنمائی کے منتظر ہیں۔ اگر ان کی صلاحیتوں کو بروقت پہچان لیا جائے اور انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے تو یہی بچے مستقبل میں ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

