Tag: شاہنواز بھٹو

  • جب کالج کے پرنسپل نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے کو سزا دی

    جب کالج کے پرنسپل نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے کو سزا دی

    وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے چھوٹے بیٹے شاہنواز بھٹو کو کیڈٹ کالج حسن ابدال میں داخل کروایا۔ بیگم نصرت بھٹو کے کہنے پر اس وقت کے وفاقی وزیر تعلیم و قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کیڈٹ کالج حسن ابدال کے پرنسپل کرنل این ڈی حسن سے ملاقات کی اور ان سے وزیر اعظم کے بیٹے شاہنواز بھٹو کا خیال رکھنے کی درخواست کی۔

    لیکن کالج کے پرنسپل کرنل این ڈی حسن نے عبدالحفیظ پیرزادہ کو صاف الفاظ میں بتا دیا کہ وزیر اعظم کے بیٹے کو کسی قسم کا پروٹوکول یا خصوصی اہمیت نہیں دی جائے گی۔ کالج میں اسے عام طلبہ کی طرح رہنا ہوگا اور اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو دوسرے طلبہ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

    عبدالحفیظ پیرزادہ خاموشی سے واپس چلے گئے۔ جب یہ بات وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو معلوم ہوئی تو انہوں نے عبدالحفیظ پیرزادہ سے کہا کہ شاہنواز بھٹو وقت کے وزیر اعظم کا بیٹا ضرور ہے، لیکن یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ اسے کالج میں ایک عام طالب علم کی طرح ہی رہنا ہوگا۔

    بیگم نصرت بھٹو آخر ایک ماں تھیں۔ انہیں فوجی اسکول کی سختیوں اور دشواریوں کا اندازہ تھا، لیکن وہ اپنے شوہر کا فیصلہ بدلنے کی ہمت نہ کر سکیں۔ تاہم انہوں نے دبے لفظوں میں ’عمر ونگ‘ (عمر ہاسٹل) کے ہاؤس ماسٹر سے مودبانہ درخواست کی کہ ان کے بیٹے شاہنواز کو دمے کی تکلیف ہے، اس لیے اسے زیادہ دوڑ دھوپ والی ورزش نہ کرائی جائے۔

    عمر ونگ کے ہاؤس ماسٹر سلیمی صاحب نے نہایت شائستگی سے خاتون اول بیگم نصرت بھٹو کو جواب دیا کہ وہ اس بارے میں کسی قسم کا وعدہ نہیں کر سکتے۔ اہم بات یہ بھی تھی کہ بیگم نصرت بھٹو کالج کے پرنسپل سے اس بارے میں کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکیں۔

    شاہنواز بھٹو، وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے چھوٹے بیٹے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا ایک سخت ماحول میں رہے تاکہ وہ محنتی، باہمت اور اچھا طالب علم بن سکے۔ اس مقصد کے لیے ان دنوں کیڈٹ کالج حسن ابدال سے بہتر کوئی ادارہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔

    پندرہ سولہ سالہ شاہنواز پہلی بار بورڈنگ اسکول میں رہنے آئے تھے، اس لیے انہیں اس زندگی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ کالج کے پرنسپل کرنل حسن کا پہلا فیصلہ یہ تھا کہ شاہنواز کو الگ کمرہ نہیں دیا جائے گا۔ حسن ابدال میں سنگل روم صرف ہاسٹل کے ونگ کمانڈر اور تین دیگر سیکشن کمانڈروں کے لیے مخصوص تھے۔

    شاہنواز بھٹو کو پہلی منزل پر جو کمرہ ملا، اس میں پہلے سے دو اور طالب علم بھی رہتے تھے۔ ہر طالب علم کے لیے ایک سادہ چارپائی، ایک میز، ایک کرسی اور آدھی الماری موجود تھی، اور شاہنواز کو بھی یہی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ نہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اور نہ ہی بیگم نصرت بھٹو نے کبھی یہ مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کو الگ کمرہ یا بہتر چارپائی دی جائے۔

    چند دن بعد شاہنواز کو احساس ہوا کہ انہیں ایسی کوئی بیماری نہیں کہ وہ باسکٹ بال یا دوسری کھیلیں نہ کھیل سکیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی والدہ کی ہدایت کے برخلاف باسکٹ بال کھیلنا شروع کر دیا۔ کالج میں کھیلوں کے انچارج سر جی لارنس تھے، جو تاریخ کے پروفیسر تھے، مگر باسکٹ بال کے بہترین کھلاڑی اور کوچ بھی تھے۔

    سر لارنس کو بتایا گیا تھا کہ شاہنواز کو دمے کی تکلیف ہے، اس لیے انہوں نے پرنسپل کرنل حسن سے اس بارے میں پوچھا۔ پرنسپل نے شاہنواز کا کالج کے ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرایا، جس نے بتایا کہ وہ کھیل سکتے ہیں۔ صرف چار ماہ میں سر لارنس نے ان کی کھیلنے کی صلاحیت اس قدر بہتر بنا دی کہ وہ ٹیم کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے لگے۔

    جب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا باسکٹ بال کھیل رہا ہے تو وہ حیران رہ گئے۔ بیگم نصرت بھٹو نے کالج کے پرنسپل کرنل این ڈی حسن سے شکایت کی کہ ان کے بیٹے کو دمے کی تکلیف ہے، اس کے باوجود اسے باسکٹ بال کھلائی جا رہی ہے۔

    اس پر پرنسپل کرنل حسن نے جواب دیا: ’مجھے پورا یقین ہے کہ شاہنواز ایک بہترین کھلاڑی ہے۔ آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر اسے کچھ بھی ہوا تو اس کی ذمہ داری میری ہوگی۔‘ یہ سن کر بیگم نصرت بھٹو خاموش ہو گئیں۔

    جوتوں کی پالش اور ہاسٹل کی صفائی کی سزا

    کالج کی سالانہ پریڈ کی تیاریوں کے دوران سیاہ فوجی بوٹ واٹر پالش سے چمکانا ضروری ہوتا تھا۔ شاہنواز کو واٹر پالش کا کوئی تجربہ نہیں تھا، اس لیے انہوں نے کسی سے پوچھے بغیر اپنے بوٹ وزیر اعظم ہاؤس بھجوا دیے، جہاں ایک ملازم نے انہیں پالش کروا کر واپس بھیج دیا۔

    جب پرنسپل نے معائنہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ شاہنواز نے اپنے بوٹ خود پالش نہیں کیے۔ کالج کے پرنسپل کرنل حسن ناراض ہو گئے، کیونکہ یہ کالج کے ضابطے کے خلاف تھا۔

    ہاؤس ماسٹر نے شاہنواز کو سزا دی کہ وہ ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات میں گھر نہیں جائیں گے بلکہ سزا کے طور پر پورے ’عمر ہاؤس‘ ہاسٹل کے تمام کمروں اور کھڑکیوں کے شیشے صاف کریں گے۔

    جب خاتون اول بیگم نصرت بھٹو اپنے بیٹے کو لینے کالج پہنچیں اور انہیں معلوم ہوا کہ شاہنواز پورے ہاسٹل کے شیشے صاف کر رہے ہیں تو انہوں نے نہ کالج انتظامیہ پر دباؤ ڈالا، نہ اپنا منصب جتایا، بلکہ خاموشی اور احترام کے ساتھ واپس چلی گئیں۔ شاہنواز نے بھی کالج کے ضابطے کے مطابق اپنی سزا مکمل کی۔

    ابتدا میں جب بیگم نصرت بھٹو اور ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو شاہنواز سے ملنے آتی تھیں تو ان کی مرسڈیز کار سیدھی ہاسٹل تک جاتی تھی۔ لیکن کالج انتظامیہ نے محسوس کیا کہ یہ سہولت تمام والدین کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔

    کرنل این ڈی حسن نے وزیر اعظم کے فوجی سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل امتیاز وڑائچ کو فون کر کے کہا کہ آئندہ بیگم نصرت بھٹو اپنی گاڑی کالج کے اندر نہ لائیں، کیونکہ یہ سہولت کسی دوسرے طالب علم کے والدین کو حاصل نہیں۔

    اس کے بعد بیگم نصرت بھٹو عام والدین کی طرح کالج کی پارکنگ میں اپنی گاڑی کھڑی کرتیں اور تقریباً ایک فرلانگ پیدل چل کر عمر ونگ ہاسٹل پہنچتیں۔ وہ ساڑھی میں جبکہ بے نظیر بھٹو سادہ لباس میں پیدل چل کر اپنے بھائی سے ملنے آتی تھیں۔

    ایک سال بعد جب شاہنواز بھٹو کا امریکہ میں داخلہ ہو گیا تو کالج چھوڑتے وقت وہ بہت روئے، کیونکہ حسن ابدال میں ان کے بہت سے قریبی دوست بن چکے تھے۔

    یہ اس دور کے اصول اور ضابطے تھے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بہت سے ارکانِ اسمبلی، وزراء، مشیر اور بااثر افراد خود کو اس قدر طاقتور سمجھتے ہیں کہ وہ ڈپٹی کمشنروں اور پولیس افسران کو اپنا ذاتی ملازم تصور کرتے ہیں اور قانون کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔