Tag: شادی

  • نئی تحقیقی رپورٹ: سندھ میں کم عمری کی شادی کے 472 مقدمات درج، ایک فیصد سے بھی کم کیسز میں سزا

    نئی تحقیقی رپورٹ: سندھ میں کم عمری کی شادی کے 472 مقدمات درج، ایک فیصد سے بھی کم کیسز میں سزا

    ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق سندھ میں کم عمری کی شادی سے متعلق 472 مقدمات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں 65.3 فیصد مقدمات میں الزامات عائد کیے گئے، لیکن ایک فیصد سے بھی کم مقدمات میں ملزمان کو سزا ہوئی۔ 

    ان مقدمات میں 180، یعنی تقریباً 38 فیصد میں نکاح پڑھانے والے مذہبی عہدیداروں کو کم عمری کی شادی میں سہولت فراہم کرنے والا قرار دیا گیا، تاہم ان میں سے کسی کو سزا نہیں ہوئی۔

    متاثرہ بچوں میں 129 کی عمریں نو سے 12 سال، 215 کی عمریں 13 سے 15 سال اور 128 کی عمریں 16 سے 17 سال تھیں۔ یوں 73 فیصد متاثرہ بچے 15 سال یا اس سے کم عمر کے تھے۔

    نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ، اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف، آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین اور چائلڈ فرنٹیئرز کی تحقیق پر مبنی یہ رپورٹ کم عمری کی شادی کے مذہبی، معاشرتی، معاشی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیتی ہے۔ اس میں مختلف صوبوں کے آٹھ اضلاع میں تحقیق، 400 سے زائد افراد کے انٹرویوز، گروہی مباحثوں اور پولیس مقدمات کے تجزیے کو شامل کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 18 فیصد نوجوان خواتین کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہوئی، جبکہ لڑکوں میں یہ شرح تقریباً پانچ فیصد ہے۔

    تحقیق میں بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی شرح سب سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ صوبے میں 10 سے 17 سال کی عمر کے پانچ اشعاریہ 18 فیصد بچوں کی شادی ہو چکی تھی۔ خیبر پختونخوا میں بھی یہ شرح قومی اوسط سے زیادہ پائی گئی، جبکہ پنجاب میں آبادی زیادہ ہونے کے باعث ایسے واقعات کی مجموعی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ سندھ میں یہ شرح قومی اوسط کے قریب بتائی گئی ہے۔

    رپورٹ سندھ کو اس حوالے سے اہم مثال قرار دیتی ہے کہ صوبے نے 2013 میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کا قانون منظور کیا، جس کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق سندھ میں اس قانون کے تحت تقریباً ایک دہائی کے عدالتی مقدمات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے باوجود سزا کی کم شرح ظاہر کرتی ہے کہ قانون کی موجودگی اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے درمیان نمایاں فرق ہے۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کم عمری کی شادی کا مسئلہ محض غربت یا آگاہی کی کمی تک محدود نہیں، بلکہ مذہبی تشریحات، سماجی روایات، صنفی امتیاز، معاشی مشکلات اور قانون پر عمل درآمد میں کمزوری بھی اس عمل کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    چائلڈ میرج ریسرچ اِن پاکستان کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی کی شرح میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران کمی ضرور آئی ہے، لیکن اس رفتار سے 2030 تک اس عمل کا خاتمہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ رپورٹ کے مطابق 1993 میں 18 سال سے پہلے شادی کرنے والی نوجوان خواتین کی شرح 37 فیصد تھی، جو 2018 میں کم ہو کر 18 فیصد رہ گئی۔

    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ان مقدمات میں 27 فیصد بچے صرف 9 سے 12 سال کی عمر کے تھے، جبکہ 46 فیصد کی عمریں 13 سے 15 سال کے درمیان تھیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 73 فیصد متاثرہ بچوں کی عمر 15 سال یا اس سے کم تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی اور بچوں کے تحفظ کے لیے موجود نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی کی ایک بڑی وجہ یہ تصور ہے کہ لڑکیوں کی جلد شادی انہیں ہراسانی، بدنامی اور معاشرتی تنقید سے محفوظ رکھتی ہے۔ والدین کو خدشہ ہوتا ہے کہ اگر بیٹی کی شادی میں تاخیر ہوئی تو اس کے لیے مناسب رشتہ ملنا مشکل ہو جائے گا یا خاندان کو تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس دباؤ میں اکثر لڑکیوں کی اپنی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی اور شادی کا فیصلہ والد، چچا اور خاندان کے دیگر بزرگ کرتے ہیں۔

    تحقیق کے مطابق لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے بالغ ہونے کے تصورات بھی مختلف ہیں۔ بہت سے معاشروں میں لڑکی کی بلوغت کے بعد شادی کو اس کی زندگی کا فطری اگلا مرحلہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ لڑکوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ شادی سے پہلے معاشی طور پر خودمختار ہوں اور خاندان کی کفالت کے قابل بنیں۔ یہ فرق لڑکیوں کو کم عمری میں شادی کے زیادہ خطرے سے دوچار کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق غربت اور مالی عدم استحکام بھی کم عمری کی شادی کو فروغ دیتے ہیں۔ غریب خاندان بعض اوقات بیٹی کی شادی کو اپنے مالی بوجھ میں کمی یا اس کے مستقبل کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے آبادی اور صحت سے متعلق سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 1990 میں غریب ترین طبقے میں 20 سے 24 سال کی خواتین میں سے 42.3 فیصد کی شادی 16 سال کی عمر سے پہلے ہوئی تھی، جبکہ خوشحال ترین طبقے میں یہ شرح 17.6 فیصد تھی۔

    اگرچہ وقت کے ساتھ دونوں طبقوں میں یہ شرح کم ہوئی، لیکن معاشی فرق برقرار رہا۔ 2017 میں غریب ترین طبقے میں یہ شرح 30.8 فیصد تھی، جبکہ خوشحال ترین طبقے میں تقریباً چھ فیصد رہ گئی تھی۔

    تعلیم کی کمی بھی اس مسئلے کو بڑھاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب لڑکیاں مالی مشکلات، اسکولوں سے دوری، محفوظ آمدورفت کی کمی یا دیگر وجوہات کے باعث تعلیم چھوڑ دیتی ہیں تو خاندان اکثر شادی کو ان کے لیے واحد قابل قبول راستہ سمجھنے لگتے ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان کے پانچ سے 16 سال کی عمر کے تقریباً دو کروڑ 20 لاکھ سے ڈھائی کروڑ بچوں کے اسکولوں سے باہر ہونے کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا ہے۔

    مذہبی تشریحات اور قانونی کمزوریاں

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض حلقے کم عمری کی شادی کے جواز میں مذہبی دلائل پیش کرتے ہیں، لیکن اسلامی فقہ میں جسمانی بلوغت کے ساتھ ذہنی اور جذباتی پختگی، ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت اور نقصان سے بچاؤ کے اصولوں کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ تحقیق کے مطابق مذہبی تعلیمات کی ایسی تشریحات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جو بچوں کے تحفظ اور ان کی فلاح کو مقدم رکھیں۔

    رپورٹ کے مطابق سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے لیے قانونی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ پنجاب میں بھی اس سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم قوانین میں صوبائی فرق، نکاح اور رجسٹریشن کے الگ الگ انتظامات اور کمزور قانونی کارروائی کے باعث ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

    رپورٹ خیبر پختونخوا میں بھی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے اور پورے ملک میں یکساں قانون سازی کی سفارش کرتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیلاب، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات خاندانوں کی معاشی مشکلات بڑھا کر بچوں کو کم عمری کی شادی کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہیں۔ بعض خاندان نقل مکانی، عدم تحفظ اور معاشی غیر یقینی صورت حال کے باعث لڑکیوں کی جلد شادی کا فیصلہ کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ کم عمری کی شادی روکنے کے لیے صرف آگاہی مہمات کافی نہیں ہوں گی۔ نکاح پڑھانے والوں اور نکاح رجسٹراروں کے فرائض کو مربوط کیا جائے، شادی سے پہلے عمر کی تصدیق لازمی بنائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔

    اس کے ساتھ مذہبی رہنماؤں، والدین، بزرگوں، اساتذہ اور مقامی برادریوں کو بھی اس کوشش میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ غریب خاندانوں کو معاشی مدد، لڑکیوں کو محفوظ تعلیمی سہولتیں، ثانوی تعلیم جاری رکھنے کے مواقع اور فنی تربیت فراہم کی جائے تاکہ کم عمری کی شادی کے بجائے تعلیم اور ہنر ان کے مستقبل کا راستہ بن سکیں۔

    رپورٹ کے مطابق حکومت، عدالتی اداروں، تعلیمی نظام، مذہبی قیادت اور شہری تنظیموں کے درمیان مربوط تعاون کے بغیر اس مسئلے کا پائیدار حل ممکن نہیں۔ مقصد صرف شادی کی عمر بڑھانا نہیں، بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں بچے تعلیم حاصل کر سکیں، ذہنی اور جذباتی طور پر بالغ ہوں اور اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں ان کی رائے اور حقوق کا احترام کیا جائے۔

  • سویڈن: جبری شادی، غیرت کے نام پر تشدد کو روکنے کے لیے قریبی رشتہ داروں میں شادی پر پابندی عائد

    سویڈن: جبری شادی، غیرت کے نام پر تشدد کو روکنے کے لیے قریبی رشتہ داروں میں شادی پر پابندی عائد

    سویڈن میں یکم جولائی 2026 سے ایک نیا قانون نافذ ہو گیا ہے، جس کے تحت فرسٹ کزن یعنی چچا، تایا، ماموں یا خالہ کی اولاد کے درمیان شادی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد جبری شادیوں، غیرت کے نام پر ہونے والے تشدد، خاندانی دباؤ اور خواتین و نوجوانوں کے استحصال کی روک تھام کرنا ہے۔

    یہ قانون سویڈش پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا، جس کی باقاعدہ منظوری کے بعد اب اس پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔ حکومت کے مطابق نئی قانون سازی سے ایسے افراد کو زیادہ قانونی تحفظ ملے گا جو خاندان یا سماجی دباؤ کے باعث اپنی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کیے جاتے ہیں۔

    نئے قانون کے تحت صرف کزنز کی شادی ہی ممنوع نہیں ہوگی بلکہ ایسے رشتوں میں بھی شادی کی اجازت نہیں ہوگی جہاں ایک فرد دوسرے شخص کے بہن یا بھائی کی اولاد ہو۔

    اس کے علاوہ سوتیلے بہن بھائی اور ایسے بہن بھائی جن کا تعلق گود لینے کے عمل سے قائم ہوا ہو، ان کے درمیان شادی کی اجازت دینے کی گنجائش بھی ختم کر دی گئی ہے۔

    اس سے پہلے بعض مخصوص حالات میں سوتیلے بہن بھائیوں یا گود لیے گئے بہن بھائیوں کو خصوصی اجازت کے ذریعے شادی کی اجازت دی جا سکتی تھی، تاہم نئے قانون کے بعد یہ استثنا بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

    حکومت نے ایک اور اہم تبدیلی یہ کی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے ملک میں اپنے کزن سے شادی کرتا ہے تو ایسی شادی کو بھی عام طور پر سویڈن میں قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اس راستے کو بند کرنا ہے جس کے ذریعے لوگ بیرون ملک شادی کرکے واپس آ کر اسے سویڈن میں رجسٹر کروا لیتے تھے۔

    سویڈش حکومت کے مطابق بعض خاندان ملکی قوانین سے بچنے کے لیے دوسرے ممالک میں جا کر ایسی شادیاں کرتے تھے جو سویڈن کے قوانین یا سماجی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ نئی قانون سازی کے بعد ایسے طریقوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ شادی ہر فرد کا ذاتی فیصلہ ہونا چاہیے اور کسی بھی شخص کو خاندان، برادری یا ثقافتی دباؤ کے تحت شادی پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

    حکام کے مطابق یہ قانون خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ کو مزید مضبوط بنائے گا۔

    سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غیرت کے نام پر تشدد، جبری شادی اور خاندانی دباؤ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے صرف سماجی اقدامات کافی نہیں بلکہ مؤثر قانونی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ اسی مقصد کے تحت شادی کے قوانین میں یہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

    سویڈن میں گزشتہ چند برسوں سے کزنز کی شادی کے معاملے پر سیاسی اور عوامی سطح پر بحث جاری تھی۔ مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس موضوع پر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے تھے۔

    قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ قریبی رشتہ داروں میں شادی پر پابندی سے جبری شادیوں کے امکانات کم ہوں گے اور ایسے نوجوانوں کو بہتر تحفظ ملے گا جن پر خاندان کی جانب سے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون ان افراد کو بھی سہارا فراہم کرے گا جو اپنی پسند کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

    دوسری جانب بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ تمام کزنز کی شادیوں پر مکمل پابندی ضروری نہیں تھی کیونکہ بہت سے خاندانوں میں ایسی شادیاں دونوں فریقوں کی رضامندی سے ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ہر معاملے کو جبری شادی قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے انفرادی حالات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

    تاہم سویڈش حکومت کا مؤقف ہے کہ مجموعی طور پر یہ قانون انسانی حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات اور ذاتی آزادی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ حکام کے مطابق قانون کا بنیادی مقصد کسی خاص ثقافت یا برادری کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ہر فرد کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق فراہم کرنا ہے۔

    نئے قانون کے تحت دو جولائی 2026 سے رجسٹر ہونے والی تمام نئی شادیوں کا جائزہ انہی نئے قواعد کے مطابق لیا جائے گا۔ متعلقہ سرکاری ادارے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ملک میں ہونے والی یا بیرون ملک انجام پانے والی ایسی شادیاں جو نئے قانون کی خلاف ورزی کرتی ہوں، انہیں قانونی حیثیت نہ مل سکے۔

    سویڈن کو انسانی حقوق، صنفی مساوات اور بچوں و خواتین کے تحفظ کے حوالے سے دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شادی کے قوانین میں یہ تبدیلی بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ہر فرد کو آزاد، محفوظ اور باوقار زندگی گزارنے کا حق فراہم کرنا ہے۔

    نئی قانون سازی سے توقع کی جا رہی ہے کہ جبری شادیوں اور غیرت کے نام پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی روک تھام میں مدد ملے گی اور متاثرہ افراد کو مزید قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

  • شادی کا وعدہ کرکے مکر جانا جرم نہیں۔

    شادی کا وعدہ کرکے مکر جانا جرم نہیں۔

    بھارت کی ایک ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ان دنوں سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔

    بھارتی ریاست تلنگانہ کی ہائی کورٹ نے شادی کے وعدے سے پیچھے ہٹ جانے والے شخص کو بے گناہ قرار دے دیا۔

    کہانی شروع ہوئی 2022 میں ایک خاتون نے پولیس کو شکایت کی کہ اس کے بوائے فرینڈ نے 2018 سے محبت کا جھانسہ دے کر اس کے ساتھ تعلق قائم رکھا۔

    تقریباً پانچ سال جب خاتون نے شادی پر زور دیا تو بوائے فرینڈ نے انکار کر دیا۔ اکتوبر 2022 میں برادری کی پنچائیت کے دوران لڑکے نے شادی کی حامی بھر لی مگر بعد میں مکر گیا۔

    لڑکی کی درخواست پر420 اور دیگر دفعات کے تحت پولیس نے کارروائی شروع کردی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شکایت میں ایسی کوئی ٹھوس بات نہیں جو یہ ظاہر کرے کہ تعلق کے آغاز میں ہی ملزم کی نیت دھوکہ دینے کی تھی۔

    اس کے برعکس، تعلق کی مدت اور نوعیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ ایک رضامندی کا تعلق تھا جو بعد میں ناکام ہو گیا۔

    عدالت نے قرار دیا کہ دھوکہ دہی کا جرم ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ابتدا ہی سے دھوکہ دینے کی نیت موجود ہو۔ ‘شادی کے وعدے کی محض خلاف ورزی، اگر ابتدا میں دھوکہ دہی کی نیت ثابت نہ ہو، تو تعزیراتِ ہند کی دفعات 417 یا 420 کے تحت جرم نہیں بنتی۔’