Tag: سیہون شریف

  • سیہون شریف: حضرت لعل شہباز قلندر کا سالانہ عرس، رنگ، دھمال اور عقیدت کا سمندر

    سیہون شریف: حضرت لعل شہباز قلندر کا سالانہ عرس، رنگ، دھمال اور عقیدت کا سمندر

    سیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر کا 774 واں سالانہ عرس ہفتہ سات فروری سے شروع ہو رہا ہے۔ پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں سے زائرین کی سیہون آمد کا سلسلہ کئی روز سے جاری ہے اور شہر ایک بار پھر قلندری رنگ میں ڈھل گیا ہے۔

    سیہون کی گلیاں اور محلے دمادم مست قلندر کی صداؤں سے گونج رہے ہیں۔ زائرین گروہوں کی صورت میں دھمال ڈالتے ہوئے مزار کی طرف بڑھتے ہیں۔ کوئی دف بجاتا ہے، کوئی وجد میں گھومتا ہے، اور کوئی خاموشی سے عقیدت کے ساتھ سر جھکائے آگے بڑھتا ہے۔

    مزار لعل شہباز قلندر پر زائرین چادریں، اگربتیاں اور دیگر نذرانے لے کر حاضری دے رہے ہیں۔ کوئی منت مانگ رہا ہے، کوئی پوری ہونے والی دعا کا شکر ادا کر رہا ہے۔ مزار کے احاطے میں رات گئے تک چراغاں، دھمال اور قلندری کلام کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

    شہباز میلہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ عرس کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ تین روزہ تقریبات کا افتتاح گورنر سندھ کامران ٹسوری مزار پر حاضری دے کر کریں گے، جبکہ آخری روز کی تقریبات میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی شرکت متوقع ہے۔

    میلا گراؤنڈ میں سندھ کی روایتی ثقافت کے رنگ نمایاں ہوں گے۔ ملھ اور ملاکھڑے کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے، جہاں دیہی طاقت، روایت اور تماشے ایک ساتھ نظر آئیں گے۔ شہباز آڈیٹوریم ہال میں سگھڑن کی کچھری کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جہاں لوک دانش اور روایتی گفتگو کو سنا جائے گا۔

    عرس کے موقع پر صحت کے انتظامات بھی سخت کر دیے گئے ہیں۔ سید عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

    سیکیورٹی کے حوالے سے سیہون شہر کو چھ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی جامشورو کے مطابق ہر زون کی نگرانی ڈی ایس پی رینک کا افسر کرے گا۔ شہر بھر میں تین سو سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں جن کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ عرس کے دوران پانچ ہزار پولیس اہلکار اور تین سو رینجرز اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔

    حضرت لعل شہباز قلندر کا عرس صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں، بلکہ سندھ کی روح، ثقافت اور اجتماعی یادداشت کا مظہر ہے۔ سیہون ان دنوں صرف ایک شہر نہیں رہتا، بلکہ عقیدت، دھمال اور رنگوں کی ایسی دنیا بن جاتا ہے جہاں ہر راستہ مزار کی طرف جاتا ہے اور ہر دل قلندر کے نام پر دھڑکتا ہے۔