دنیا بھر میں سینیٹری پیڈ کی قیمتوں میں بڑا فرق ہے۔ 2024 میں ہیلتھ نیوز کی ایک تحقیق کے مطابق، 30 ممالک میں پیڈ کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سب سے مہنگا ملک نکلا، جہاں ایک پیڈ کی قیمت 23 سینٹ (تقریباً 64 پاکستانی روپے) ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکہ ہے جہاں ایک پیڈ 15 سینٹ (تقریباً 42 روپے) کا پڑتا ہے، جبکہ آسٹریلیا تیسرے نمبر پر ہے جہاں قیمت 18 سینٹ (تقریباً 50 روپے) ہے۔
دوسری طرف، سب سے سستے پیڈ جرمنی اور فن لینڈ میں ملتے ہیں جہاں ایک پیڈ کی قیمت صرف 4 سینٹ (تقریباً 11 روپے) ہے۔ ان کے بعد جاپان اور پولینڈ کا نمبر آتا ہے جہاں ایک پیڈ 6 سینٹ (تقریباً 17 روپے) کا ملتا ہے۔ برطانیہ میں ایک پیڈ 63 سینٹ (تقریباً 176 روپے) کا پڑتا ہے، تاہم سکاٹ لینڈ میں 2022 سے سینیٹری پیڈ مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔
یہ قیمتیں کسی بھی ملک میں لگنے والے ٹیکسز سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ بہت سے ممالک میں سینیٹری پیڈز کو ’لگژری آئٹمز‘ تصور کیا جاتا ہے اور ان پر بھاری ٹیکس عائد ہے۔ اسے ’ٹیمپون ٹیکس‘ کہا جاتا ہے۔ کینیا نے 2004 میں سب سے پہلے یہ ٹیکس ختم کیا، جس کے بعد 17 دیگر ممالک نے ایسا ہی کیا۔ ان میں میکسیکو، برطانیہ اور نمیبیا شامل ہیں۔ 10 ممالک نے ان مصنوعات کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس، کچھ ممالک میں اب بھی بہت زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ ہنگری میں ٹیمپون پر 27 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) لگتا ہے جو یورپی یونین میں سب سے زیادہ ہے۔
سینیٹری پیڈز کی قیمت کے لحاظ سے پاکستان صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان میں سینیٹری پیڈز پر مجموعی طور پر 40 فیصد تک ٹیکس عائد ہے۔ اس ٹیکس میں مقامی طور پر بننے والے پیڈز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس اور درآمد شدہ پیڈز یا ان کے خام مال پر 25 فیصد کسٹم ڈیوٹی شامل ہے۔ یونیسف پاکستان کے مطابق، یہ تمام ٹیکسز مل کر ایک پیڈ کی قیمت میں 40 فیصد تک اضافہ کر دیتے ہیں۔
پاکستان میں 10 پیڈز کے ایک معیاری پیکٹ کی قیمت 450 روپے (تقریباً 1.60 ڈالر) ہے۔ جبکہ یہاں اوسط ماہانہ فی کس آمدن تقریباً 35,000 روپے (120 ڈالر) ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کم آمدنی والے خاندان کے لیے سینیٹری پیڈ کی قیمت ایک وقت کے کھانے کے برابر ہے۔ یونیسف اور واٹر ایڈ کی 2024 کی ایک مشترکہ تحقیق کے مطابق، پاکستان میں صرف 12 فیصد خواتین تجارتی طور پر تیار کردہ سینیٹری پیڈز استعمال کرتی ہیں۔ باقی خواتین کپڑے یا دیگر ناقص متبادلات پر انحصار کرتی ہیں۔
پاکستان میں ایک وکیل ماہنور عمر نے اس ’پیریڈ ٹیکس‘ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ اس کیس کی سماعت جاری ہے۔ جبکہ عالمی سطح پر، ہندوستان (2018)، نیپال (2025) اور برطانیہ (2021) سمیت کئی ممالک پہلے ہی ’پیریڈ ٹیکس‘ ختم کر چکے ہیں۔
Tag: سینیٹری پیڈز
-

پاکستان میں کئی دہائیوں سے سینیٹری پیڈز پر مجموعی طور پر 40 فیصد تک ٹیکس عائد
