Tag: سینٹرل جیل

  • محکمہ جیل خانہ جات سندھ کی جانب سے کراچی سینٹرل جیل سمیت صوبے کی جیلوں کے لیے نئی گاڑیاں، ایمبولینسز اور موٹر سائیکلیں فراہم

    محکمہ جیل خانہ جات سندھ کی جانب سے کراچی سینٹرل جیل سمیت صوبے کی جیلوں کے لیے نئی گاڑیاں، ایمبولینسز اور موٹر سائیکلیں فراہم

    محکمہ جیل خانہ جات سندھ کی جانب سے کراچی سینٹرل جیل کے اسٹاف سمیت سندھ کی مختلف جیلوں اور متعلقہ یونٹس کے لیے نئی گاڑیاں، پولیس موبائلز، ایمبولینسز اور موٹر سائیکلیں فراہم کردی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں کراچی سینٹرل جیل میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں سندھ کے وزیر جیل خانہ جات و ورکس اینڈ سروسز علی حسن زرداری نے مختلف جیل اضلاع کے افسران میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چابیاں تقسیم کیں۔

    تقریب کے دوران مجموعی طور پر 60 جیل پولیس موبائلز، 25 ایمبولینسز اور 35 موٹر سائیکلوں کی چابیاں متعلقہ افسران کے حوالے کی گئیں۔ یہ گاڑیاں سندھ کی مختلف جیلوں اور متعلقہ یونٹس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فراہم کی گئی ہیں تاکہ جیلوں کے سکیورٹی اور انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔

    نئی جیل پولیس موبائلز کو سکیورٹی کے مختلف امور، قیدیوں کی منتقلی اور جیل سے متعلق انتظامی ذمہ داریوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ جیلوں میں قیدیوں کی نقل و حرکت اور دیگر ضروری کارروائیوں کے دوران پولیس موبائلز کی دستیابی سکیورٹی انتظامات میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

    اسی طرح فراہم کی جانے والی 25 ایمبولینسز کا مقصد جیلوں میں موجود قیدیوں کو ہنگامی طبی صورت حال میں بروقت طبی مراکز تک منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ کسی قیدی کو فوری طبی امداد کی ضرورت پڑنے کی صورت میں ایمبولینس کی دستیابی طبی منتقلی کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

    محکمہ جیل خانہ جات کو فراہم کی جانے والی 35 موٹر سائیکلیں بھی جیل اسٹاف کی روزمرہ ذمہ داریوں کے لیے استعمال ہوں گی۔ ان موٹر سائیکلوں سے جیلوں کے مختلف انتظامی اور فیلڈ امور کے لیے عملے کی نقل و حرکت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

    کراچی سینٹرل جیل سندھ کے قدیم جیل خانہ جات میں شامل ہے۔ یہ جیل 1897 میں قائم ہوئی تھی اور اس وقت اس کی اصل گنجائش صرف 990 قیدیوں کی تھی۔ وقت کے ساتھ مختلف بیرکس کی تعمیر کے بعد اس کی گنجائش بڑھا کر 2,400 قیدیوں تک کردی گئی۔ جیل میں 52 بیرکس اور 203 مختلف سائز کے سیل بھی موجود ہیں۔

    محکمہ جیل خانہ جات سندھ کے انسپکٹر جنرل فدا حسین مستوئی کے مطابق محکمہ نے مختلف جیلوں کی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد گاڑیوں کی فراہمی کے لیے سمری تیار کی تھی، جس پر عمل درآمد کیا گیا۔ ان کے مطابق نئی گاڑیوں کی فراہمی سے جیلوں کو درپیش سکیورٹی، نقل و حمل اور دیگر انتظامی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر جیل خانہ جات علی حسن زرداری نے کہا کہ سندھ بھر کی جیلوں کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی توجہ صرف جیلوں کی سکیورٹی اور انتظامی نظام کو بہتر بنانے تک محدود نہیں بلکہ قیدیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ان اقدامات کا حصہ ہے۔

    علی حسن زرداری کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ جیلوں میں موجود افراد کو ایسی سہولیات اور ماحول فراہم کیا جائے جس کے نتیجے میں وہ رہائی کے بعد بہتر انداز میں معاشرے کا حصہ بن سکیں۔ اس مقصد کے لیے جیلوں کے انتظامی نظام کے ساتھ قیدیوں کی بنیادی ضروریات اور فلاح سے متعلق امور کو بھی بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

    تقریب کے دوران جیل اسٹاف میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے، جبکہ بعض افسران کی ترقی کا اعلان بھی کیا گیا۔ اس موقع پر محکمہ جیل خانہ جات کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

    حکام کے مطابق سندھ کی جیلوں کی سکیورٹی کو مزید جدید بنانے کے لیے مستقبل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی کیمروں کی تنصیب پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ ایسے نظام کا مقصد جیلوں میں نگرانی اور سکیورٹی کے موجودہ انتظامات کو جدید ٹیکنالوجی سے بہتر بنانا ہے۔

    نئی پولیس موبائلز، ایمبولینسز اور موٹر سائیکلوں کی فراہمی کو سندھ کے جیل خانہ جات کے نظام میں سکیورٹی، طبی امداد، نقل و حمل اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق ان سہولیات کی فراہمی سے جیل اسٹاف کو اپنی ذمہ داریاں انجام دینے اور قیدیوں کو ضروری سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔