Tag: سہیل سانگی

  • سہیل سانگی کو صفائی کا موقع ضرور دیں

    سہیل سانگی کو صفائی کا موقع ضرور دیں

    ھيرا تہ ڏِسو ڪَنڪر نہ ھَڻو

     اِيندو نہ وَرِي ھِي وَڻجارو

    ڪُجهہ ڏَات ڏِسو پوءِ بات ڪيو

     ھي شور اجايو آ پيارا

    سہیل سانگی کا نام سندھ کی صحافت، سچائی اور بے باک کردار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ وہ تھر کی سرزمین میں پیدا ہونے والے ایک بے باک اور حق گو صحافی ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اصولوں، قلم کی حرمت اور عوام کے حقوق کی جدوجہد کے لیے وقف کر دی۔

    طاقتور حلقوں کے دباؤ کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ جب بھی سندھ کے بہادر اور اصول پسند لوگوں کا ذکر ہوگا، سہیل سانگی کا نام نمایاں رہے گا۔

    1980 کی دہائی پاکستان اور سندھ کی تاریخ کا ایک سخت دور تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی مارشل لا حکومت قائم تھی۔ شہید نظیر عباسی کی شہادت کے بعد سہیل سانگی، جام ساقی، شبیر شر، امر لعل، کمال وارثی، بدر ابڑو اور پروفیسر جمال نقوی سمیت کئی کارکن آمریت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔ انہیں بھی گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مشہور ’جام ساقی کیس‘ میں بھی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔

    جب ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمات چل رہے تھے تو اس وقت ملک کی بڑی سیاسی اور سماجی شخصیات، جن میں شہید بے نظیر بھٹو، خان عبدالولی خان اور میر غوث بخش بزنجو شامل تھے، عدالت میں پیش ہوئیں اور سہیل سانگی اور ان کے ساتھیوں کے کردار اور دیانت داری کی گواہی دی۔ یہ ان کی ساکھ کا بڑا ثبوت تھا۔

    سہیل سانگی چاہتے تو اپنی صحافتی حیثیت استعمال کرکے دولت، بنگلے اور آسائشیں حاصل کر سکتے تھے، مگر انہوں نے ہمیشہ سادہ زندگی اور عزت کو ترجیح دی۔ انہوں نے مراعات اور فائدوں کے بجائے اصولوں پر قائم رہنا پسند کیا اور ثابت کیا کہ ایک سچا صحافی کسی کا غلام نہیں ہوتا۔

    شیخ ایاز کا ایک شعر ہے:

    هوءَ جو پٿرن تي، لکي ويو آ ڪهاڻي،

     اها ئي ته آهي، منهنجي سنڌ سياڻي!

     ڪير چئي ٿو جوش جو، سورج لٿو آ،

     اڃا تائين سنڌ جي مٽيءَ ۾ آهي پاڻي.

    حال ہی میں سہیل سانگی کے بیٹے فیاض جنجھی کے حوالے سے نادرا اور ایف آئی اے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ قانون کے مطابق جب تک عدالت کسی شخص پر جرم ثابت نہ کرے، وہ صرف ملزم ہوتا ہے، مجرم نہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ بغیر مکمل معلومات کے فوراً فیصلے سنانا شروع کر دیتے ہیں۔

    سہیل سانگی پر تنقید کرنے والوں اور ان پر الزام لگانے والوں کو چاہیے کہ وہ جلد بازی سے کام نہ لیں بلکہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کا انتظار کریں۔

    شاھ عبداللطیف بھٹائی کا ایک شعر ہے:

    جيڪي چايو چڱو، سي پڻ چڱا هئا،

    ڏٺائون ڏوهه ۾، ته به دل جا سچا هئا.

    کُهڙا کڏا کير ٿيا، جوڳين جا جام،

    سچ جو سامهون سدا، رب رکيو نام

    تاریخ گواہ ہے کہ سچ کو دبانے کی کوششیں ہمیشہ کی گئی ہیں، لیکن سچ آخرکار سامنے آ ہی جاتا ہے۔ سہیل سانگی کی پوری زندگی سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اصولوں پر چلنے کی کوشش کی ہے۔

    حسن درس کا نظم ہے:

    ڪنهن پڇيو ته سچ ڪٿي آ؟

     مون چيو: سنڌو جي ارڏن ساهن ۾،

    جتي ڪوبه جھڪيو ناهي،

     تتيءَ ٿڌيءَ راهن ۾ “

    ابراهيم منشی کہتے ہیں:

    “ ويهي نه رھ وڙهانءِ، سچو سڄڻ سامهون،

    طوفانن کان ڊڄندڙ، ڪڏهن منزل نه لهن

    وقت آنے پر حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی کہ کون سچا تھا اور کون غلط۔ سہیل سانگی کا کردار ایک کھلی کتاب کی طرح ہے، جسے کسی بھی سازش یا الزام سے چھپایا نہیں جا سکتا۔ اگر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں تو فیصلہ بھی حقائق کی بنیاد پر ہی ہونا چاہیے، نہ کہ قیاس آرائیوں پر۔ سچائی کی اس جنگ میں آخرکار فتح سچ ہی کی ہوگی۔