Tag: سٹرٹیجک ریٹریٹ

  • مشرقِ وسطیٰ میں سٹرٹیجک ریٹریٹ: پیٹرو ڈالر کا دفاع اور چین روس کا خاموش معاشی وار

    مشرقِ وسطیٰ میں سٹرٹیجک ریٹریٹ: پیٹرو ڈالر کا دفاع اور چین روس کا خاموش معاشی وار

    مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر اس وقت شطرنج کے مہرے جس تیزی سے بدل رہے ہیں، اس نے عالمی امور کے ماہرین کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ رواں سال 2026 کے آغاز میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی براہِ راست جنگ نے جہاں دہائیوں پرانے دفاعی توازن کو ہلا کر رکھ دیا، وہاں اب خطے میں ایک نیا جیو پولیٹیکل آرڈر جنم لے رہا ہے۔

    ایک ایسی صورتِ حال سامنے آ رہی ہے جہاں امریکہ اپنی فوجی حکمتِ عملی کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے، ایران پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے، اور چین و روس بغیر کوئی گولی چلائے واشنگٹن کی معیشت کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے چکر میں ہیں۔ اس پورے منظرنامے میں پاکستانی سپہ سالار کا حالیہ دورۂ تہران محض ایک روایتی دورہ نہیں، بلکہ اس عظیم علاقائی تبدیلی کی ایک اہم کڑی ہے۔

    امریکی فوجی طاقت کا ابھرتا ہوا نیا حصار، خروج یا منتقلی؟

    عام طور پر یہ تاثر عام ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے امریکی اثر و رسوخ ختم ہو رہا ہے، لیکن باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ ‘انخلا’ نہیں بلکہ ایک ‘سٹرٹیجک ریٹریٹ’ یعنی چالاک منتقلی ہے۔ فروری کی جنگ کے دوران قطر میں قائم امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ، العدید، اور خلیجِ فارس کی دیگر تنصیبات ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا آسان نشانہ بنیں۔ اس تجربے نے پینٹاگون کو یہ سکھایا کہ خلیج کے اندر براہِ راست فوج رکھنا اب اثاثہ نہیں بلکہ ایک بڑی کمزوری بن چکا ہے۔

    چنانچہ امریکہ اب خلیجِ فارس کے اڈوں سے پیچھے ہٹ کر اپنے اثاثوں کو ایک نئے محور پر منتقل کر رہا ہے، جس کا مرکز اسرائیل اور اردن ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شام میں قائم امریکی طفیلی حکومت اور عراق میں موجود امریکی اثر و رسوخ کو بطور ‘بفر زون’ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس نئے دفاعی حصار کا مقصد خلیج کے پانیوں میں براہِ راست اترے بغیر، دور بیٹھ کر پورے خطے اور بالخصوص بحری تجارتی راستوں کی چوکیداری کرنا ہے۔

    پیٹرو ڈالر: امریکی معیشت کی وہ لائف لائن جسے چھوڑا نہیں جا سکتا، امریکہ اس نئی بساط کو کیوں بچھا رہا ہے؟

    اس کا جواب ایک لفظ میں چھپا ہے اور وہ ہے پیٹرو ڈالر۔ 1970 کی دہائی سے قائم اس نظام کے تحت دنیا بھر کے ممالک پابند ہیں کہ وہ تیل کی خرید و فروخت صرف امریکی ڈالر میں کریں۔ یہی وہ جادوئی چابی ہے جس کی بدولت امریکہ کھربوں ڈالر کے اندرونی و بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہونے کے باوجود سپر پاور بنا ہوا ہے، کیونکہ دنیا بھر میں اس کے کاغذ کے نوٹ کی مانگ کبھی کم نہیں ہوتی۔

    امریکہ مشرقِ وسطیٰ کو مکمل طور پر کبھی نہیں چھوڑ سکتا، کیونکہ خلیج کے تیل پر کنٹرول کھونے کا مطلب پیٹرو ڈالر کا خاتمہ اور امریکی معیشت کا فوری طور پر دیوالیہ ہو جانا ہے۔ اس لیے واشنگٹن نے اسرائیل، اردن اور شام کے نئے محور کو اپنا سٹرٹیجک ہیڈکوارٹر بنا لیا ہے تاکہ تیل کی سپلائی لائنز پر اس کی دھاک برقرار رہے۔

    شام کی بے وفائی اور ایران کی ‘پھونک پھونک کر قدم رکھنے’ کی مجبوری

    اس پورے کھیل میں سب سے بڑا سسپنس شامی محاذ پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اسرائیل اور شام کے درمیان شروع ہونے والے حالیہ خفیہ مذاکرات نے دمشق میں ایران کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ دی ہے۔ ایک دہائی تک ایران نے جس شام کو اپنے ‘محورِ مزاحمت’ کا گڑھ بنایا اور حزب اللہ تک ہتھیار پہنچانے کا پل سمجھا، اب وہاں کی کمزور اور معاشی طور پر بدحال حکومت اپنی بقا اور تعمیرِ نو کے فنڈز کے لیے امریکہ اور اسرائیل کے کیمپ میں جانے کو تیار بیٹھی ہے۔

    شام کی اس ممکنہ بے وفائی نے ایران کو شدید تزویراتی دھچکا پہنچایا ہے۔ ایران یہ جانتا ہے کہ اگر اس نے شام کے اندر موجود اپنی مسلح ملیشیاؤں کے ذریعے اس مذاکراتی عمل کو روکنے کی کوشش کی، تو شام کے اندر ایک نئی خانہ جنگی شروع ہو جائے گی جس کا وہ اس وقت معاشی اور فوجی طور پر متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اس وقت جارحیت کے بجائے ‘سیاسی بقا’ کے موڈ میں ہے اور بارگیننگ کی اس میز پر انتہائی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے۔

    پاکستانی فیلڈ مارشل کا دورہ تہران، مکہ معاہدہ اور بیک چینل ڈپلومیسی

    اس نازک موڑ پر پاکستان کے آرمی چیف کا دورہ تہران غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اس وقت خطے میں ایک ‘بفر اسٹیٹ’ اور سکیورٹی پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ حال ہی میں قائم ہونے والا ‘مکہ معاہدہ’، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ بلاک، اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کی بڑی مسلم طاقتیں اب امریکی ڈیزائن کردہ سکیورٹی آرڈر سے باہر نکل کر اپنا وزن قائم کر رہی ہیں۔

    پاکستانی سپہ سالار کا تہران میں ہونا دراصل واشنگٹن کی خاموش رضامندی اور سعودی عرب کے تعاون سے چلنے والی ‘بیک چینل ڈپلومیسی’ کا حصہ ہے۔ پاکستان کا مشن ایران کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ امریکی اڈوں کی پیچھے منتقلی کو اپنی فتح سمجھ کر آبنائے ہرمز یا خلیجی ممالک کے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرنے کی غلطی نہ کرے۔

    مکہ معاہدے کے ممالک ایران کو ایک سفارتی چھتری فراہم کر رہے ہیں تاکہ اسے مکمل تنہا ہونے اور کسی بڑے امریکی و اسرائیلی حملے سے بچایا جا سکے، بشرطیکہ ایران اپنی علاقائی جارحیت میں کمی لائے۔

    چین اور روس کا معاشی جال، بغیر گولی چلائے سپر پاور کو تھکانے کی پالیسی

    ایران اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ مکہ معاہدے کے ممالک، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ، کے امریکہ کے ساتھ گہرے معاشی و دفاعی روابط ہیں، اس لیے وہ ان پر اندھا بھروسہ نہیں کرے گا۔ شام کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد، ایران اپنی حتمی پناہ گاہ روس اور چین کے بلاک میں ہی تلاش کرے گا۔

    لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا چین اور روس ایران کے لیے امریکہ سے براہِ راست لڑیں گے؟

    جواب ہے، ہرگز نہیں۔ روس اور چین اس پوزیشن یا موڈ میں نہیں ہیں کہ وہ واشنگٹن سے کوئی روایتی فوجی ٹکراؤ کریں۔ ان کی حکمتِ عملی اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور گہری ہے۔ وہ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور تائیوان جیسے متعدد محاذوں پر الجھا کر ‘ہزار زخموں سے تھکانے کی پالیسی’ پر عمل پیرا ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ اپنے مہنگے پیٹریاٹ میزائل اور بحری بیڑے تعینات رکھ رکھ کر اپنے وسائل کا خود ہی دیوالیہ نکال لے۔

    اصل جنگ فوجی نہیں بلکہ معاشی ہے۔ چین اور روس ‘برکس پلس’ کے ذریعے خاموشی سے پیٹرو ڈالر کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کو اس بلاک میں شامل کر کے اب تیل کی تجارت کو چینی یوآن اور مقامی کرنسیوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ چین کا ہدف یہ ہے کہ جب دنیا کا نصف سے زیادہ تیل ڈالر کے بغیر بکنے لگے گا تو امریکی معیشت کا ڈبہ خود بخود گول ہو جائے گا۔

    مستقبل کا مشرقِ وسطیٰ

    آرٹیکل کا لبِ لباب یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ کا نیا فوجی حصار ہے جو اسرائیل، اردن اور شام پر مشتمل ہے اور جس کا مقصد پیٹرو ڈالر کا تحفظ ہے۔ دوسری طرف چین اور روس کا یوریشین بلاک ہے، جس میں ایران معاشی مجبوری کے تحت ایک ‘بفر’ کے طور پر شامل ہو رہا ہے۔

    امریکہ اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اثاثے منتقل کر کے خطے کو دوبارہ کنٹرول کر لے گا، لیکن اس کا اصل حریف یعنی بیجنگ، اس کے پاؤں تلے سے پیٹرو ڈالر کا معاشی قالین کھینچ رہا ہے۔ فوجیں سرحدیں تو بچا سکتی ہیں، لیکن وہ گرتی ہوئی معیشت کو سہارا نہیں دے سکتیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی یہ دلدل امریکی بالادستی کے سورج کے غروب ہونے کا سبب بن سکتی ہے، اور چین کی یہی خاموش معاشی جنگ اس صدی کا سب سے بڑا جیو پولیٹیکل موڑ ہے۔