Tag: سول ہسپتال

  • سول ہسپتال کراچی کی ایمرجنسی میں بڑی توسیع، جدید سہولیات کا اضافہ

    سول ہسپتال کراچی کی ایمرجنسی میں بڑی توسیع، جدید سہولیات کا اضافہ

    کراچی کے ڈاکٹر رتھ پفاؤ سول ہسپتال کی ایمرجنسی اور کیژولٹی شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرنو تعمیر اور توسیع دے دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ محض عمارت کی مرمت یا تزئین تک محدود نہیں، بلکہ ایمرجنسی میں مریضوں کی گنجائش بڑھانے، ان کی فوری درجہ بندی، بروقت علاج، انتہائی نگہداشت اور تشخیصی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مکمل کیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت کے ترقیاتی پروگرام کے تحت سول ہسپتال کراچی کے کیژولٹی اور ایمرجنسی یونٹ کی تعمیر نو کا منصوبہ مکمل کیا گیا۔ اس منصوبے کے لیے ابتدا میں 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم بعد میں اس کی لاگت بڑھا کر 30 کروڑ روپے کردی گئی۔

    منصوبے کے نتیجے میں ایمرجنسی شعبے میں بستروں کی گنجائش 45 سے بڑھا کر 85 کردی گئی ہے، یعنی اب یہاں پہلے کے مقابلے میں 40 اضافی بستروں کی گنجائش موجود ہے۔ یہ اضافہ ایسے ہسپتال میں خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض ایمرجنسی علاج کے لیے پہنچتے ہیں۔

    نئے ایمرجنسی شعبے میں 20 بستروں پر مشتمل الگ آئسولیشن وارڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس وارڈ کا مقصد ایسے مریضوں کو دوسرے مریضوں سے الگ رکھنا ہے جنہیں متعدی یا ایسی بیماریوں کے باعث علیحدہ طبی نگہداشت کی ضرورت ہو۔

    ایمرجنسی کے اندر چار بستروں پر مشتمل انتہائی نگہداشت یونٹ بھی بنایا گیا ہے۔ یہاں ایسے شدید بیمار مریضوں کو فوری اور مسلسل طبی نگرانی فراہم کی جاسکتی ہے جن کی حالت نازک ہو اور جنہیں فوری طبی مداخلت کی ضرورت ہو۔

    نئے شعبے کی ایک اہم سہولت فاسٹ ٹریک زون ہے۔ اس حصے میں نسبتاً مستحکم حالت والے مریضوں کو تیزی سے طبی امداد فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس نظام کا مقصد ایسے مریضوں کو، جنہیں فوری مگر پیچیدہ علاج یا داخلے کی ضرورت نہیں، انتہائی تشویش ناک حالت میں آنے والے مریضوں سے الگ رکھنا ہے تاکہ ایمرجنسی کا نظام زیادہ منظم انداز میں کام کرسکے۔

    اس کے ساتھ ٹرائی ایج ایریا بھی قائم کیا گیا ہے۔ ٹرائی ایج ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی فوری طبی جانچ اور ترجیح طے کرنے کا نظام ہے۔ اس کے ذریعے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس مریض کو فوری علاج درکار ہے، کون کچھ دیر انتظار کرسکتا ہے اور کس مریض کو کس نوعیت کی طبی سہولت کی ضرورت ہے۔

    ایمرجنسی میں مکمل ریسسی ٹیشن روم بھی بنایا گیا ہے۔ یہ وہ خصوصی جگہ ہوتی ہے جہاں انتہائی نازک حالت میں پہنچنے والے مریضوں کو فوری طور پر زندگی بچانے والی طبی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ دل کا دورہ، سانس رکنے، شدید صدمے یا دیگر جان لیوا صورتحال میں یہ سہولت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

    نئے شعبے میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے لیے الگ کمرے اور معاون سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں۔ طبی تربیت، اجلاسوں اور عملے کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے سیمینار روم بھی بنایا گیا ہے۔

    اس اپ گریڈیشن کی ایک اہم خصوصیت ایمرجنسی کے اندر ایکسرے اور الٹراساؤنڈ کی سہولت ہے۔ اس سے ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کو بنیادی تشخیصی عمل کے لیے ہسپتال کے دوسرے حصوں میں منتقل کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے اور ڈاکٹر زیادہ تیزی سے تشخیص اور علاج کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

    نئے ایمرجنسی شعبے کو مختلف حصوں میں منظم کرنے کا مقصد مریض کے ہسپتال پہنچنے سے لے کر ابتدائی جانچ، ٹرائی ایج، تشخیص، فوری علاج اور ضرورت پڑنے پر انتہائی نگہداشت تک کے مراحل کو زیادہ مربوط بنانا ہے۔

    ڈاکٹر رتھ پفاؤ سول ہسپتال کراچی سندھ کے بڑے سرکاری تدریسی اور ثالثی سطح کے ہسپتالوں میں شامل ہے، جہاں ایمرجنسی شعبے پر مسلسل مریضوں کا دباؤ رہتا ہے۔ یہ شعبہ چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن خدمات فراہم کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں ایمرجنسی کی کارکردگی کا تعلق صرف بستروں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ مریض کو کتنی جلدی دیکھا جاتا ہے، اس کی حالت کی ترجیح کیسے طے ہوتی ہے، ضروری تشخیص کتنی تیزی سے ہوتی ہے اور علاج کب شروع کیا جاتا ہے۔

    فاسٹ ٹریک زون، ٹرائی ایج ایریا، ریسسی ٹیشن روم، انتہائی نگہداشت یونٹ، آئسولیشن وارڈ اور ایمرجنسی کے اندر ایکسرے اور الٹراساؤنڈ جیسی سہولیات اسی عمل کو زیادہ منظم بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

    اس منصوبے کی اہمیت صرف روزمرہ کے مریضوں تک محدود نہیں۔ کراچی میں شدید گرمی کے دوران ہیٹ اسٹروک کے مریضوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ ڈینگی اور ملیریا جیسی بیماریاں بھی ہسپتالوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ 20 بستروں پر مشتمل الگ آئسولیشن وارڈ ایسے حالات میں مریضوں کو علیحدہ رکھنے اور ایمرجنسی کے مجموعی انتظام کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

    سول ہسپتال کراچی کی ایمرجنسی کی یہ توسیع دراصل ایک ایسے شعبے کو جدید بنانے کی کوشش ہے جہاں چند منٹ بھی اہم ہوتے ہیں۔ 45 سے 85 بستروں تک توسیع، ٹرائی ایج سے ریسسی ٹیشن تک الگ سہولیات، انتہائی نگہداشت، آئسولیشن اور تشخیصی خدمات کا ایمرجنسی کے اندر موجود ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ توجہ صرف زیادہ مریض رکھنے پر نہیں بلکہ انہیں زیادہ منظم اور بروقت طبی نگہداشت فراہم کرنے پر بھی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل

    جہاں خبر صرف خبر نہیں، اس کے پیچھے چھپی کہانی بھی سامنے آتی ہے۔