قومی احتساب بیورو نے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے دوران وزیر اعلی سندھ کو خط لکھ کر سرکاری افسران کو نیب کے کام میں مداخلت سے باز رکھنے اور مکمل تعاون کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔ نیب کے مطابق تحقیقات کے دوران مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے رکاوٹیں اور تاخیری حربے سامنے آئے، جس کے بعد یہ معاملہ براہ راست وزیر اعلی تک لے جانا پڑا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب نیب نے سندھ کے مختلف سرکاری افسران کو نوٹس جاری کیے اور بعد ازاں وزیر اعلی مراد علی شاہ کو بھی باضابطہ طور پر خط لکھا۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ نیب اچانک اتنا متحرک کیوں ہوا اور ترقیاتی منصوبوں میں تحقیقات کی رفتار میں تیزی کیوں آئی۔
یہ معاملہ سندھ سولر انرجی پروجیکٹ سے جڑا ہے، جس میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کی بات کی جا رہی ہے۔ جنوری 2019 میں سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کے درمیان سندھ میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 100 ملین ڈالر کے منصوبے کا معاہدہ طے پایا تھا۔ منصوبہ چار مراحل پر مشتمل تھا، جس کے پہلے مرحلے میں 400 میگا واٹ کا سولر پارک قائم کیا جانا تھا تاکہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جا سکے۔
پہلے مرحلے کے لیے 40 ملین ڈالر مختص کیے گئے، جو پاکستانی کرنسی میں 11 ارب روپے سے زائد بنتے ہیں۔ اس مرحلے میں کے الیکٹرک کو بھی شامل کیا گیا تاکہ پیدا ہونے والی بجلی صارفین تک پہنچائی جا سکے۔ منصوبے کے تحت حب کے قریب دو مقامات، ملیر کے قریب ایک اور جامشورو میں ایک مقام پر زمین کا انتخاب کیا گیا۔ زمین ہموار کرنے اور ابتدائی کام کے لیے دو ٹھیکے داروں کو ڈھائی ارب روپے ایڈوانس ادا کیے گئے، حالانکہ منصوبہ ورلڈ بینک کے قرض پر شروع ہونا تھا۔ بعد ازاں یہ منصوبہ فائلوں میں دب کر رہ گیا۔
دوسرے مرحلے میں سندھ کی سرکاری عمارتوں، جن میں اسکول اور ہسپتال شامل تھے، کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس مرحلے کے لیے مختص 25 ملین ڈالر کی رقم کو ریوائز کر کے 50 ملین ڈالر کر دیا گیا اور بچ جانے والی رقم ورلڈ بینک کو واپس کرنے کے بجائے اسی مرحلے میں شامل کر دی گئی۔
2022 کے سیلاب کے بعد جیکب آباد کے پمپنگ اسٹیشنز کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے لیے امریکی ادارے کی جانب سے سندھ حکومت کو خط لکھا گیا۔ ورلڈ بینک نے اس منصوبے کو بھی سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔ جنوری 2023 میں ایک کمپنی کو پمپنگ اسٹیشنز کے لیے ٹھیکہ دیا گیا، تاہم جیکب آباد میں 1.4 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا سولر پروجیکٹ بند پڑا ہے اور ورلڈ بینک کے تیس کروڑ روپے بظاہر ضائع ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب یو ایس ایڈ کی جانب سے شکایتی خطوط بھی لکھے گئے، مگر ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں یہ منصوبہ مکمل ظاہر کیا گیا اور کمپلیشن سرٹیفیکیٹ بھی جاری کر دیا گیا۔ اسی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں 56 سائٹس کو سولر انرجی پر منتقل کرنے اور مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
نیب کے مطابق جب اس میگا پروجیکٹ میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات شروع کی گئیں تو سندھ کا اینٹی کرپشن محکمہ اور بعض سرکاری افسران مداخلت کرنے لگے اور ٹال مٹول کے ہتھکنڈے اختیار کیے گئے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر نیب نے وزیر اعلی سندھ کو خط لکھ کر افسران کو تعاون کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا۔
نیب کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کی تحقیقات میں تیزی کی وجوہات اور دیگر تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

