Tag: سوشلزم

  • سوشلزم بمقابلہ سرمایہ داری: ‘امریکی سیاست کی نئی جنگ’

    سوشلزم بمقابلہ سرمایہ داری: ‘امریکی سیاست کی نئی جنگ’

    امریکہ کی اندرونی سیاست کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ آج دنیا جو کچھ بھگت رہی ہے، اس کی بڑی وجہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی کامیابی ہے۔ اس وقت جب امریکہ میں مڈٹرم انتخابات قریب ہیں، تب صدر ٹرمپ اپنی پارٹی کو ایک یقینی شکست سے بچانے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی سوشلسٹ لابی اور اس کے رہنما زہران ممدانی کو ہدف بنا رہا ہے۔

    وہ دعویٰ کررہے ہیں کہ یہ لوگ امریکہ میں ذاتی ملکیت ختم کر کے کمیونزم لانا چاہتے ہیں، جسے روکنا اس کی ذمہ داری ہے۔ ایک ایسی بات جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں، لیکن صدر ٹرمپ اپنی ڈوبتی سیاست کو بچانے کے لیے ہر طریقہ استعمال کرنا چاہتا ہے۔

    یہ اب صرف صدر ٹرمپ کا معاملہ نہیں بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی ہو رہا ہے۔ پارٹی کے اندر اعتدال پسند، بائیڈن گروپ، اور ترقی پسند، ڈیموکریٹک سوشلسٹ دھڑے، ممدانی، کے درمیان قیادت کی جنگ چل رہی ہے۔ یہ امریکی سیاست میں ایک نیا زلزلہ ہے۔ لیکن حقیقت میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ کیا ہیں، اور مستقبل میں امریکہ پر ان کے کیا اثرات پڑیں گے، یہ سمجھنا بھی ضروری ہے۔

    موجودہ سال 2026 کے وسط تک امریکہ میں ایک نیا سیاسی مقابلہ واضح نظر آ رہا ہے۔ یہ اب دونوں پارٹیوں میں بھی ہو رہا ہے۔ حالیہ کامیابیوں کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کا ترقی پسند، ممدانی، دھڑا زیادہ اعتماد کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ صرف ‘ٹرمپ کی مخالفت’ کافی نہیں۔ پارٹی کو عام مزدور، نوجوان اور متوسط طبقے کے لیے واضح معاشی فوائد دکھانا ہوں گے۔ وہ عموماً ذاتی ملکیت ختم کرنے یا سوویت طرز کا نظام لانے کی بات نہیں کرتے بلکہ ان کا ماڈل زیادہ تر شمالی یورپ کی سماجی جمہوریت سے مشابہت رکھتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت امریکی سیاست میں سوشلسٹ بلاک کے ابھار کو اپنی ‘مڈٹرم انتخابات’ کی حکمت عملی کے لیے ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ٹرمپ اس وقت ایک مشکل صورتحال میں ہے، کیونکہ اس کی مقبولیت کے اعداد و شمار کم ہیں اور ووٹرز میں مہنگائی اور بیرونی جنگوں، خاص طور پر ایران کے ساتھ جنگ، کے بارے میں غصہ ہے۔

    اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹرمپ اس وقت ‘خوف کا عنصر’ استعمال کر رہا ہے۔ ٹرمپ ووٹرز کو ڈرا رہا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس جیت گئے تو ملک میں ‘کمیونسٹ نظام’ آ جائے گا، جو مذہب اور روایتی امریکی طرز زندگی کو تباہ کر دے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ممدانی یا اس کے ساتھیوں نے کبھی بھی ذاتی ملکیت ختم کرنے کی بات نہیں کی۔

    صدر ٹرمپ ان پر برہم ہے اور کہتا ہے کہ یہ ‘کمیونسٹ جانور’ ہیں، جو مخالفین کو قتل کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ یہ بے رحم کمیونسٹ تمام مذاہب پر حملہ کریں گے۔ خاص طور پر عیسائیوں کو ان سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ جو ہمارے ملک کے لیے بڑا خطرہ ہیں، انہیں روکنا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر سرمایہ دار ختم ہو جائیں گے تو پھر لوگ کھائیں گے کہاں سے۔

    ٹرمپ کی اس بیان بازی کا مقصد اپنے ‘ووٹنگ بیس’، سخت گیر ووٹرز، کو متحرک کرنا ہے۔ اگر یہ بیانیہ کامیاب رہا تو شاید ریپبلکن پارٹی کچھ سیٹیں بچا لے، لیکن اگر عوام کی اصل توجہ معاشی مسائل، مہنگائی، پر رہی تو ٹرمپ کی اس ‘کمیونسٹ’ مہم کا اثر کم ہو سکتا ہے، جس سے اسے مڈٹرم انتخابات میں نقصان ہونے کا امکان ہے۔

    گروپ کون سا ہے؟

    آخر یہ کون سا گروپ ہے، جس کے نام پر صدر ٹرمپ پوری قوم کو ڈرا رہا ہے؟ اس کا نام ہے ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ۔ اس کا کوئی ایک سربراہ نہیں بلکہ برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز سالوں سے اس کی پشت پر کھڑے ہیں۔ یہ ایک گراس روٹ تحریک ہے، جس کی بڑھتی رفتار حیران کن ہے۔ صرف دس سالوں میں ممبرشپ پانچ ہزار سے ایک لاکھ تک پہنچی ہے، یعنی بیس گنا اضافہ۔ یہ کوئی معمولی رجحان نہیں، یہ ایک سیاسی زلزلہ ہے۔

    نیویارک سٹی ڈی ایس اے اس کا سب سے طاقتور دھڑا ہے، جس کی قیادت اب نیویارک سٹی کا نوجوان میئر زہران ممدانی کر رہا ہے۔ لیکن کیا یہ واقعی ذاتی ملکیت ختم کرنا یا سوویت طرز کا نظام لانا چاہتے ہیں، جیسا ٹرمپ دعویٰ کر رہا ہے؟ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ ان کا ماڈل زیادہ تر شمالی یورپ کی سماجی جمہوریت سے ملتا ہے، نہ روسی نظام سے اور نہ چینی نظام سے۔

     یہ چاہتے ہیں کہ سرمایہ داروں سے ٹیکس وصول کر کے غریب لوگوں کو اس کا فائدہ دیا جائے۔ یونیورسل ہیلتھ سہولیات، رینٹ فریز، مفت چائلڈ کیئر، مفت بسیں اور شہر کی اپنی گروسری دکانیں۔

    کامیابی کیوں مل رہی ہے؟

    جون 2026 کے نیویارک پرائمری انتخابات میں ایک واضح اشارہ ملا۔ ممدانی کی طرف سے تجویز کردہ تینوں کانگریشنل امیدوار جیت گئے، جن میں تجربہ کار سیاست دان ایڈریانو ایسپیلاٹ بھی شامل تھا، جو پانچ بار جیتتا رہا ہے۔ یہ صرف نیویارک کی بات نہیں۔ واشنگٹن ڈی سی اور لاس اینجلس میں بھی ایسے ہی سوشلسٹ امیدوار آگے بڑھ رہے ہیں۔ ممدانی کی مقبولیت کا گراف دیکھیں تو پتا چلے گا کہ نیویارک سٹی میں اب یہ 58 سے 26 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

    کچھ ماہرین، جیسے کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ شاپیرو، کہتے ہیں کہ یہ اثر شاید صرف نیویارک تک محدود رہے، لیکن وہ خود بھی مانتے ہیں کہ مہنگائی اور معاشی مشکلات کا بیانیہ قومی سطح پر بھی اثر کر سکتا ہے۔

    اصل صورتحال اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ 44 فیصد امریکی سوشلزم کو رد کرتے ہیں، لیکن ڈیموکریٹس کے اندر یہ عدد بالکل برعکس ہے۔ 46 فیصد اسے پسند کرتے ہیں۔ یہی وہ عدد ہے جس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے بڑے رہنماؤں، حکیم جیفریز اور چک شومر، کو پریشان کر رکھا ہے۔

    نیویارک اٹارنی جنرل لیٹیٹیا جیمز نے کہا ہے کہ ممدانی کی حمایتیں پارٹی کو ‘توڑ’ سکتی ہیں۔ ممدانی بلاک کو شہری سطح پر بڑی کامیابی مل چکی ہے، لیکن قومی سطح پر 2026 اور 2028 کے انتخابات ہی یہ طے کریں گے کہ یہ رجحان کب تک چلے گا یا یہ صرف نیویارک تک محدود رہے گا۔

    جب کہ جو بائیڈن کا اعتدال پسند گروپ آج بھی ملک کی کئی ریاستوں میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ قومی سطح پر ڈیموکریٹک پارٹی ابھی بھی متوسط دھڑے، موڈریٹس، اور ترقی پسند دھڑے کی مشترکہ پارٹی ہے۔ اس وقت ممدانی کا گروپ مڈٹرم انتخابات میں کم آمدنی والے طبقے کے لیے سرکاری صحت کی مفت سہولیات، مزدور یونینز کی بحالی، مناسب اجرت، سستے گھر، مفت تعلیم اور سرمایہ داروں سے ٹیکس لے کر لیبر کلاس میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

    ارب پتیوں اور بڑی کمپنیوں سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جائے۔ یہ پیسہ صحت، تعلیم، رہائش، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر عوامی خدمات پر خرچ کیا جائے۔ معاشی عدم مساوات کم کی جائے، جبکہ امریکی ترقی پسند اکثر ان کی حمایت کر رہے ہیں۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کا بڑا حصہ ابھی بھی سینٹرسٹ ہے، جو کارپوریٹ لابی کے قریب ہیں۔ یہ سوشلسٹ پالیسیوں کو ‘انتہا پسند’ قرار دے کر روکیں گے۔ یہ گروپ ایک نئی سیاسی طاقت بن کر ابھر رہا ہے، جو امریکہ کی روایتی سیاست کو چیلنج کر رہا ہے۔

    اگرچہ ان کی کامیابی کا راستہ مشکل ہے، لیکن انہوں نے بحث کا محور تبدیل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اب بڑی پارٹیاں بھی صحت اور تعلیم کے حقوق پر بات کرنے کے لیے مجبور ہیں۔ ان کا ابھار امریکی سیاست کے لیے ایک نیا موڑ ہے۔ ان کی اقتصادی اور خارجہ پالیسی ریپبلکن سے مختلف ہے۔ یہ پالیسی امریکی سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں کو ہلا دیتی ہے۔ جب یہ ارب پتیوں پر ٹیکس بڑھانے کی بات کرتے ہیں تو وہ اصل میں امریکہ کے اس کارپوریٹ کلچر کو چیلنج کرتے ہیں، جو دہائیوں سے سیاست پر اثر انداز ہے۔

    ان کی کامیابی کا مطلب ہو گا امریکہ میں ‘مڈل کلاس’ کی بحالی، لیکن اس کے نتیجے میں کارپوریٹ سیکٹر کا سیاسی اثر کم ہو جائے گا۔ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے ساتھ جنگیں ختم کی جائیں، وہ بجٹ غریب امریکیوں پر خرچ کیا جائے۔ اسرائیل کو خیرباد کہہ کر فلسطینیوں کی نسل کشی بند کی جائے اور عرب ممالک کے ساتھ تجارت بڑھائی جائے۔ ایران کے ساتھ ہر معاملہ سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔

    اگر یہ گروپ کامیاب ہوتا ہے تو امریکہ شاید اپنی ‘گلوبل ہیجیمنی’ سے ہاتھ کھینچ کر ایک زیادہ ‘آئسولیشنسٹ’ یا کم جارحانہ ملک بن جائے۔ یہ تبدیلی مشرق اور مغرب کے درمیان طاقت کے توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گی۔

    ان کی کامیابی کے امکانات اس بات پر منحصر ہیں کہ کیا یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ‘امریکہ کو اپنے شہریوں کا خیال رکھنے کے لیے عالمی جنگوں کی ضرورت نہیں۔’ اگر یہ یہ بیانیہ مستحکم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی بلکہ پوری امریکی ریاست کا رخ تبدیل ہو جائے گا۔ لیکن اس راستے میں امریکی ‘ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس’، فوجی صنعتی ڈھانچہ، کا بڑی رکاوٹ ہونا یقینی ہے، کیونکہ اس کا وجود ہی ان جنگوں سے وابستہ ہے جنہیں یہ گروپ ختم کرنا چاہتا ہے۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ کیا ممدانی بلاک جیتے گا یا ہارے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ امریکہ کی سیاست کا بنیادی بیانیہ بدل چکے ہیں۔ اس کا جواب پہلے ہی ‘ہاں’ میں مل رہا ہے۔ صحت، تعلیم اور سستائی کے مسائل اب بڑی پارٹیوں کی بھی مرکزی بحث بن چکے ہیں۔ جسے کچھ سال پہلے ‘انتہا پسند’ سمجھا جاتا تھا، وہ اب مین اسٹریم بحث ہے۔

    یہی وہ سبب ہے جو ٹرمپ کو اتنا پریشان کر رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر مقابلہ خالص معیشت پر رہا تو وہ ہار جائے گا۔ اس لیے وہ بحث کو ‘نظریاتی جنگ’ کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ سوشلزم بمقابلہ امریکیزم۔ کیونکہ یہی وہ میدان ہے جس پر وہ ابھی کچھ ووٹرز کو متحرک کر سکتا ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ خوف کا کارڈ ہمیشہ کارگر رہے گا، یا نئی نسل، جسے بیرونی جنگوں سے زیادہ اپنے گھر کی معیشت کی فکر ہے، آخرکار اس سے بالاتر ہو جائے گی؟ اس کا جواب نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی کے مستقبل بلکہ پوری امریکہ کے عالمی کردار کو بھی نئے سرے سے طے کرے گا۔