Tag: سورج کی روشنی

  • سورج کی روشنی سے پلاسٹک کو سرکہ بنانے کا نیا طریقہ دریافت

    سورج کی روشنی سے پلاسٹک کو سرکہ بنانے کا نیا طریقہ دریافت

    سائنسدانوں نے ایک ایسا تجرباتی طریقہ پیش کیا ہے جس کے ذریعے استعمال شدہ پلاسٹک کو سورج کی روشنی کی مدد سے سرکے کے بنیادی جزو میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے عالمی مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتی ہے۔

    سورج کی روشنی سے پلاسٹک کی تحلیل

    اونٹاریو، کینیڈا کی واٹر لو یونیورسٹی میں اس منصوبے پر کام کرنے والے محققین پروفیسر ڈاکٹر یمین ووہ اور ان کے پی ایچ ڈی اسٹوڈنٹ ڈاکٹر وی وی نے بتایا ہے کہ اس طریقہ کار میں پلاسٹک کو توڑنے کے لیے نہ بھٹی درکار ہے، نہ بھاری مشینری اور نہ ہی بلند درجہ حرارت۔ اس عمل کو سائنسی اصطلاح میں بایو انسپائرڈ کیسکیڈ فوٹو کیٹالیسس کہا جاتا ہے۔

    اس تکنیک میں آئرن کے ایٹم کو کاربن نائٹرائیڈ نامی مادے میں شامل کر کے ایک خاص کیٹالسٹ، یعنی عمل انگیز مواد، تیار کیا گیا ہے۔ یہ کیٹالسٹ سورج کی روشنی جذب کر کے پلاسٹک کے پیچیدہ سالمات کو کیمیائی طور پر توڑ دیتا ہے۔ یہ پورا عمل پانی میں انجام پاتا ہے، جس سے توانائی کی اضافی کھپت کم رہتی ہے۔

    مختلف اقسام کے پلاسٹک پر آزمائش

    تحقیق کے دوران مختلف اقسام کے پلاسٹک کو آزمایا گیا۔ ان میں پی ای ٹی، جو عام طور پر پانی کی بوتلوں میں استعمال ہوتا ہے، پی پی اور پی ای، جو روزمرہ اشیا میں پائے جاتے ہیں، اور مخلوط پلاسٹک شامل تھے جن کی ری سائیکلنگ نسبتاً مشکل سمجھی جاتی ہے۔

    محققین کے مطابق ہر صورت میں حتمی پیداوار ایسیٹک ایسڈ رہی۔ ایسیٹک ایسڈ سرکے کا بنیادی جزو ہے اور اسے خوراک، ادویات اور صنعتی مصنوعات کی تیاری میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    مائیکرو پلاسٹک کے مسئلے میں ممکنہ کمی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر پلاسٹک مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا بلکہ ٹوٹ کر مائیکرو پلاسٹک میں بدل جاتا ہے، جو ماحول اور انسانی صحت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

    نئی تکنیک کے تحت پلاسٹک کو محض چھوٹے ذرات میں تبدیل نہیں کیا جاتا بلکہ اسے کیمیائی سطح پر توڑا جاتا ہے، جس سے مائیکرو پلاسٹک بننے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق اس عمل کے دوران اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی نہیں ہوتا، جو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

    فی الحال لیبارٹری تک محدود

    یہ تمام تجربات ابھی لیبارٹری کی سطح پر کیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے صنعتی پیمانے پر آزمانا باقی ہے۔

    اس حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں، مثلاً طویل مدت میں اس کی کارکردگی، لاگت اور مختلف موسمی حالات میں اس کی افادیت کیسی ہوگی، یہ جاننا ابھی باقی ہے۔

    تاہم سائنسدانوں کا ہدف ایسا نظام تیار کرنا ہے جو صرف سورج کی روشنی پر کام کرے اور پلاسٹک کے فضلے کو براہ راست قابل استعمال کیمیائی مادے میں تبدیل کر سکے۔

    فضلے کو خام مال سمجھنے کا تصور

    ماہرین کے مطابق اس تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پلاسٹک کو محض کچرا نہیں بلکہ ممکنہ خام مال سمجھا جائے۔

    اگر یہ طریقہ عملی طور پر کامیاب ہو جاتا ہے تو روزمرہ استعمال کی پلاسٹک کی اشیا مستقبل میں صنعت اور ادویات سازی کے لیے کارآمد مواد فراہم کر سکتی ہیں۔