Tag: سورجیو بیل’

  • مٹھی: گائے کی زچگی کے دوران موت ہونے یتیم نر بچھڑے ’سورجیو بیل’ کی مقامی افرادتمام عمر اجتماعی کفالت کیسے کرتے ہیں؟

    مٹھی: گائے کی زچگی کے دوران موت ہونے یتیم نر بچھڑے ’سورجیو بیل’ کی مقامی افرادتمام عمر اجتماعی کفالت کیسے کرتے ہیں؟

    سندھ کے ضلع تھرپارکر میں اگر زچگی کے دوران گائے مر جائے اور نر بچھڑا زندہ بچ جائے تو اس یتیم بچھڑے کو مٹھی شہر کے مرکزی چوک پر رکھ دیا جاتا ہے اور مٹھی کے رہائشی اجتماعی طور پر اس یتیم بچھڑے کو پال کر نہ صرف بڑا کرتے ہیں، مگر جب تک وہ زندہ ہوتا ہے اس بیل کی اجتماعی کفالت کی جاتی ہے۔

    یتیم بچھڑے کے بڑے ہونے پر اس کو ’سورجیو بیل’کا نام دیا جاتا ہے اور مٹھی شہر کے راستوں پر ٓج پر درجنوں ’سورجیو بیل’دیکھے جاسکتے ہیں۔
    سندھ میں ایک منفرد سماجی اور مذہبی روایت پائی جاتی ہے جسے مقامی طور پر سورج بیل کہا جاتا ہے۔ اس روایت کا تعلق ایسے بیل بچھڑے سے ہوتا ہے جو ولادت کے دوران گائے کی موت کے بعد زندہ بچ جائے۔ مقامی عقیدے کے مطابق جب گائے زچگی کے دوران مر جائے اور اس کا بچہ زندہ رہے تو وہ بچھڑا یتیم تصور کیا جاتا ہے اور اسے کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں رہنے دیا جاتا۔

    مقامی افراد کے مطابق سورج بیل یا ’سورجیو بیل’کو کسی ایک گھر یا باڑے میں بند نہیں کیا جاتا بلکہ اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ شہر میں گھوم پھر سکے۔ اس طرح یہ بیل پورے شہر کی مشترکہ ذمہ داری بن جاتا ہے۔

    شہر کے مختلف علاقوں میں گھومتے ہوئے سورج بیل کو دکاندار، راہگیر اور مقامی رہائشی خوراک فراہم کرتے ہیں۔ دکانوں کے سامنے اس کے لیے اناج، سبز چارہ، روٹیاں، دودھ اور دیگر اشیائے خورونوش رکھی جاتی ہیں۔

    مٹھی کے بازاروں میں سورج بیل کا آنا ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے اور لوگ اسے دیکھ کر خوراک پیش کرتے ہیں۔ سورج بیل اکثر انہی راستوں پر گھومتا ہے جہاں انسانی سرگرمیاں زیادہ ہوتی ہیں۔

    مقامی ہندو برادری کے مطابق بیل کو مذہبی اہمیت حاصل ہے اور اسے طاقت، محنت اور تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مٹھی میں سورج بیل کی روایت اسی مذہبی اور سماجی سوچ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں گائے کے ساتھ ساتھ بیل کو بھی مقدس جانور مانا جاتا ہے۔ اسی لیے یتیم بچھڑے کو تنہا چھوڑنے کے بجائے اجتماعی نگہداشت کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

    ’سورجیو بیل’کی دیکھ بھال کے لیے کوئی باقاعدہ کمیٹی یا ادارہ قائم نہیں ہوتا بلکہ یہ ذمہ داری فطری طور پر شہر کے لوگوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات مقامی لوگ اس کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے جانوروں کے ڈاکٹر سے بھی رجوع کرتے ہیں۔ اگر سورج بیل بیمار ہو جائے تو علاج کے اخراجات بھی اجتماعی طور پر برداشت کیے جاتے ہیں۔

    یہ بیل عموماً پُرامن اور مانوس ہوتا ہے کیونکہ اسے شروع سے انسانوں کے درمیان رہنے کی عادت ہو جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سورج بیل کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا اور ٹریفک یا بازار میں بھی محتاط انداز میں چلتا ہے۔ پولیس اور بلدیاتی عملہ بھی اس بیل کو شہر کی روایت کا حصہ سمجھتے ہوئے اسے ہٹانے کی کوشش نہیں کرتا۔

    مٹھی کی یہ روایت کئی دہائیوں سے جاری ہے اور مقامی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ ’سورجیو بیل’نہ صرف مذہبی عقیدے سے جڑا ہوا ہے بلکہ یہ روایت مٹھی میں اجتماعی ذمہ داری، جانوروں سے ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کی ایک مثال کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ شہر میں آنے والے مہمانوں اور سیاحوں کے لیے ’سورجیو بیل’ایک منفرد منظر ہوتا ہے جو تھرپارکر کی سماجی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔