Tag: سوامی نرائن

  • شری سوامی نرائن مندر اور کراچی کا لازوال کثیر الثقافتی ورثہ

    شری سوامی نرائن مندر اور کراچی کا لازوال کثیر الثقافتی ورثہ

    انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب کراچی بمبئی پریزیڈنسی کے تحت برصغیر کا ایک جدید تجارتی مرکز بن رہا تھا تو اس کی شناخت ایک کثیر الثقافتی سماج کے طور پر ابھری۔ پرانے کراچی کا مزاج مغل یا شاہی اثرات سے آزاد تھا۔ یہاں کی تعمیرات اور سماجی انفراسٹرکچر پر کلاسک گجراتی، اینگلو ورناکولر اور تاجر برادریوں کی فلاحی جمالیات کا گہرا اثر تھا۔

    جہاں اس شہر کے تجارتی قلب اور بحری حدود میں مختلف مسلم مکاتب فکر کی مساجد، جیسے منوڑہ کی کوکنی شافعی مسجد، صدر کی کچھی میمن مسجد اور اولڈ ٹاؤن کی ملاباری مسجد، مسیحیوں کے گرجا گھر اور یہودی سینیگاگ تعمیر ہو رہے تھے، وہیں ہندو تاجر برادری نے بھی شہر کے مرکزی ہائی وے، ایم اے جناح روڈ (سابقہ بندر روڈ) پر اپنی عظمت اور رواداری کے لازوال نشان قائم کیے۔

    انہی میں سب سے نمایاں اور تاریخی شاہکار کراچی میونسپل کارپوریشن کے مرکزی دفتر کے عین سامنے واقع شری سوامی نرائن مندر ہے۔ کراچی کے قلب میں واقع یہ ایک ایسا انسانی جزیرہ ہے جہاں پچھلے پونے دو سو سالوں سے ہندو، سکھ، مسلم اور مسیحی ایک جگہ بیٹھ کر کھانا کھاتے آئے ہیں اور جس کو 1947 کے بعد چاروں جانب سے کمرشل دکانوں نے گھیر کر اس کے اصل حسن کو گہنا دیا ہے۔

    مندر کی زمین کا حصول اور ابتدائی نقشہ سن 1849 کا ہے (جو چارلس نیپئر کے ہاتھوں سندھ کی فتح کے محض چھ سال بعد کا دور ہے)، جبکہ اس کے موجودہ شاندار ڈھانچے اور ‘شکھر’ (مخروطی پیرامڈ نما چھت) کی توسیع 1882 میں کی گئی۔ یہ پاکستان کا واحد مستقل فعال ہندو مت کے دیوتا سوامی نرائن کا مندر ہے۔

    معمارانہ لحاظ سے یہ فن تعمیر کا ایک انوکھا شاہکار ہے۔ اس کی تعمیر کے لیے ٹھٹہ کے تاریخی مقام جنگ شاہی سے خصوصی پیلا پتھر لایا گیا تھا، کیونکہ یہ پتھر آریہ اسٹائل کے گنبدوں پر دیوی دیوتاؤں کے باریک مجسموں اور جالیوں کی نقش تراشی کے لیے موزوں ترین پتھر سمجھا جاتا ہے۔ مندر کے مرکزی ستون پر ہاتھ سے تراشی گئی ہندو مت کے دیوتا کرشن کی داستانی پینٹنگ اس دور کے مٹی کے فنکاروں کی جمالیاتی حس کا ثبوت ہے۔

    سوامی نرائن مندر صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ 32306 مربع گز پر پھیلا ہوا ایک مکمل مائیکرو کاسم (چھوٹا جہاں) اور ڈیڑھ صدی سے زائد پرانی برادری کا مسکن ہے۔ اس احاطے کی سماجی جغرافیہ کے چند منفرد رخ یہ ہیں۔

    ہندو سکھ بقائے باہمی

    اس احاطے میں ڈیڑھ صدی پرانے گھروں میں سناتن دھرمی ہندو برادری آباد ہے، اسی رہائشی کامپلیکس کے اندر ہندو مندر کے ساتھ ہی سکھ گردوارہ بھی قائم ہے، جو تقسیم ہند کے وقت سے پنتھ وادی سکھ اور سناتنی ہندو بھائی چارے کی خاموش علامت ہے۔

    شہری گوشالہ

    ایم اے جناح روڈ کی پرشور ٹریفک کے عین وسط میں اس مندر کی اپنی ایک قدیم گوشالہ ہے، جہاں گائے رکھی جاتی ہیں اور ان کی روایتی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔اس رہائشی کالونی اور مختلف علاقوں سے لوگ آکر گائے کو کھانا کھلاتے ہیں۔

    روحانی پورٹ

    یہ مندر بلوچستان کی ہزاروں سالہ قدیم اور دریائے ہنگول کی پہاڑیوں میں واقع مقدس ہنگلاج نانی مندر کی ‘ہنگلاج یاترا’ کا روایتی نقطۂ آغاز ہے، جہاں پورے ملک سے یاتری آ کر دھرم شالہ میں قیام کرتے ہیں۔ بھر یہاں سے ہنگلاج کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔

    1947 کی دکانیں اور گمشدہ حسن

    1849 کا یہ پیلا شاہکار آج بیرونی دنیا سے تقریباً کٹ چکا ہے۔ 1947 میں آزادی کے فوراً بعد مہاجرین کی آباد کاری کے لیے لائٹ ہاؤس سے سٹی کورٹ کے فرنٹ اور عقب میں فریئر روڈ پر جو عارضی دکانیں قائم کی گئی تھیں، انہوں نے وقت کے ساتھ مستقل بازاروں کی شکل اختیار کر لی۔ ان دکانوں کے ہجوم نے مندر کے بیرونی حسن اور اس کے شاندار اگواڑےکو عام نظروں سے اوجھل کر دیا ہے۔

    اس مندر کے وسیع میدان اور دھرم شالہ نے تاریخ کے ہر کٹھن دور میں انسانوں کو پناہ دی۔

    تقسیم ہند 1947 کے دوران ریفوجی کیمپ

    آزادی کے خونی دنوں میں یہ احاطہ ہجرت کرنے والے لاکھوں ہندو اور سکھ خاندانوں کے لیے ریفیوجی کیمپ بنا، جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے خود دورہ کر کے اقلیتوں کو تحفظ اور مساوی حقوق کا دلاسہ دیا۔

    1980 کی دہائی میں احترام رمضان آرڈیننس اور ڈاؤ یونیورسٹی کے طلبہ کا میس

    سابق فوجی آمر ضیا کے دور میں جب احترام رمضان آرڈیننس کے تحت پورے شہر میں کھانے پینے پر سخت پابندیاں تھیں اور سامنے واقع ڈاؤ میڈیکل کالج کا ہاسٹل میس بند ہو جاتا تھا، تو اس مندر کے لنگر نے مسلم اور غیر مسلم طلبہ کے لیے اپنے دروازے کھولے۔ وہاں ملنے والا سستا اور لذیذ سبزیاں اس دور کی گھٹن میں کراچی کی خاموش رواداری کا سب سے بڑا ثبوت تھا۔

    بین المذاہب لچک اور سماجی خدمت

    جہاں یہ مندر اپنے روایتی لنگر کے لیے مشہور ہے، وہیں اس احاطے کا سب سے منفرد ریسٹورنٹ ہے، جہاں صرف سبزیاں ملتی ہیں۔ کھانے پینے کی ہندو مذہبی ممانعتوں اور صحت و صفائی کے اصولوں کے عین مطابق یہاں گوشت کے بغیر انتہائی لذیذ، صاف ستھرا اور سادہ کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ریسٹورنٹ کراچی کے غریب اور محنت کش مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کو سستے ترین نرخوں پر کھانا فراہم کرتا ہے۔

    مندر کے احاطے میں اس ریسٹورنٹ کا ہونا اور وہاں مسلمانوں سمیت تمام مذاہب کے لوگوں کا بلا جھجک آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ مندر صرف ایک سخت گیر مذہبی مقام نہیں ہے، بلکہ یہ کراچی کا ایک متحرک سماجی مرکز ہے، جہاں سستا اور معیاری کھانا فراہم کرنا ایک ایسی فلاحی خدمت ہے جو شہر کے محنت کش طبقے کو بغیر کسی مذہبی تفریق کے ایک میز پر اکٹھا کرتی ہے۔

    خلاصہ کلام یہ کہ آج یہ احاطہ تقریباً پانچ ہزار ہندو اور سکھ آبادی کا مسکن ہے، جہاں دیوالی اور ہولی جیسے تہوار پورے کراچی کے لیے روشنیوں کا پیغام لاتے ہیں۔ اگرچہ پچھلی چند دہائیوں میں تجاوزات کی وجہ سے اس کا رقبہ متاثر ہوا ہے، لیکن یہ احاطہ آج بھی بین المذاہب ہم آہنگی اور غریب پروری کا ایک گراں قدر ہیریٹیج ہے۔

    اس 32 ہزار مربع گز کے تاریخی مائیکرو کاسم کو آثار قدیمہ کا باقاعدہ درجہ دے کر اس کی دکانوں کے پیچھے دبی بیرونی دیواروں کی تاریخی اور سائنسی بحالی کی جائے، تاکہ پرانے کراچی کا یہ شفیق اور روادار چہرہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔