Tag: سنگرک

  • کوئٹہ: جمعے کے روز بڑے پیمانے پر کھیلا جانے والا قدیم ثقافتی کھیل سنگرک، جو عمر رسیدہ افراد میں مقبول

    کوئٹہ: جمعے کے روز بڑے پیمانے پر کھیلا جانے والا قدیم ثقافتی کھیل سنگرک، جو عمر رسیدہ افراد میں مقبول

    کوئٹہ کے مری آباد کے پہاڑ کے دامن میں ایک چھوٹا سا گراؤنڈ ہے جہاں شام کے وقت خاص رونق لگ جاتی ہے۔ ہر جمعہ کو لوگ یہاں جمع ہوتے ہیں۔ کچھ افراد ہاتھ میں گول پتھر لیے نشانے پر وار کرکے کھیلتے ہیں اور باقی افراد کنارے پر بیٹھ کر تماشائی کی حیثیت سے کھیل کا لطف اٹھاتے ہیں۔

    یہ قدیم ثقافتی کھیل سنگرک ہے جوکوئٹہ میں نسلوں سے کھیلا جارہا ہے۔ یہ کھیل ہر عمر کے افراد میں مقبول ہے، مگر عمر رسیدہ افراد میں انتہائی مقبول کھیل سمجھا جاتا ہے۔

    سنگرک کے کھلاڑی محمد موسیٰ کے مطابق، یہ کھیل کے ساتھ جسمانی ورزش ہے، اس لیے یہ کھیل جسم کے لیے بہت ضروری ہے۔
    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے محمد موسیٰ نے کہا: ‘یہ کھیل بازو، کندھے اور آنکھ کی تیزی کے لیے بہترین ہے۔ جسمانی توازن اور طاقت کے ساتھ ساتھ دماغ کی توجہ بھی بڑھتی ہے۔’

    ایک اور کھلاڑی زآور شاہ فخر سے کہتے ہیں کہ وہ باون سال سے سنگرک کھیل رہے ہیں اور اس کھیل سے ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ جڑا ہوا ہے۔
    محمد موسیٰ کے مطابق، نوجوان بھی شوق سے کھیلتے ہیں، جبکہ وہ لوگ جو نوکری کرتے ہیں یا اب ریٹائر ہو چکے ہیں، اپنی ورزش اور فارغ وقت گزارنے کے لیے یہاں آتے ہیں اور کھیل کو بڑی لگن اور شوق سے کھیلتے ہیں۔

    اس قدیم روائتی کھیل کے لیے بنیادی طور پر دو چیزیں استعمال ہوتی ہیں، سنگرات، گول پتھر جو کھلاڑی پھینکتے ہیں اور قرخہ، لکڑی یا ہدف جو زمین میں کھڑا کیا جاتا ہے۔

    کھلاڑی فاصلے سے سنگرات پھینک کر قرخہ کو گرانے کی کوشش کرتا ہے۔ جو کھلاڑی پہلے دس نمبر مکمل کرے وہ فاتح قرار پاتا ہے۔ کبھی کبھار کھیل تین، چار یا پانچ نمبر کے ہدف پر بھی رکھا جاتا ہے، مگر دس نمبر سب سے عام اور اصل کھیل ہے۔ بہترین شاٹ پر انعام بھی دیا جاتا ہے، جو پانچ، دس، بیس یا پچاس روپے تک ہو سکتا ہے۔

    ہر عمر کے لوگوں کا کھیل

    یہ کھیل ہر عمر کے لوگوں کو جوڑتا ہے۔ نوجوان تماشائی کے طور پر بیٹھ کر کھیل سیکھتے ہیں، داد دیتے ہیں اور روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ بزرگ یا وہ لوگ جو اب نوکری نہیں کرتے، یہاں آ کر نہ صرف ورزش کرتے ہیں بلکہ اپنی فارغ وقت کا لطف بھی اٹھاتے ہیں۔

    محمد موسیٰ کے مطابق: ‘یہ صرف کھیل نہیں، یہ جسم اور دماغ دونوں کے لیے ضروری ہے۔ ہم سب، نوجوان اور بزرگ، اس کھیل کو شوق سے کھیلتے ہیں۔’

    روایت کی بقا

    یہ چھوٹا سا میدان صرف کھیل کا نہیں بلکہ ثقافتی یکجہتی اور کمیونٹی کا بھی مرکز ہے۔ مری آباد اور دیگر علاقوں کے درمیان ہونے والے میچوں میں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں، ہنستے ہیں، خوش ہوتے ہیں اور قدیم ثقافتی کھیل کو زندہ رکھتے ہیں۔
    زآور شاہ کے مطابق: ‘یہ ہمارا قدیم ثقافتی کھیل ہے، ہم نے بزرگوں سے سیکھا اور چاہتے ہیں کہ نئی نسل بھی اسے زندہ رکھے۔’
    شام ڈھلتی ہے، پہاڑوں کے سائے لمبے ہوتے ہیں، مگر میدان میں گونجتی ہنسی اور پتھروں کی آوازیں بتاتی ہیں کہ سنگرک زندہ ہے، اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔