Tag: سندھ یونیورسٹی

  • 28 اپریل 1973ء — وہ دن جب اسماعیل وساڻ نے سندھ یونیورسٹی میں عبدالحفیظ پیرزادہ کو تھپڑ مارا

    28 اپریل 1973ء — وہ دن جب اسماعیل وساڻ نے سندھ یونیورسٹی میں عبدالحفیظ پیرزادہ کو تھپڑ مارا

    20 دسمبر 1971ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے صدر کے ساتھ ساتھ ملک کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ایک سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالا۔ اسی دوران سندھ میں ممتاز علی بھٹو کو گورنر اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا۔ تاہم جلد ہی بھٹو صاحب نے 1972ء کا عبوری آئین نافذ کر کے مارشل لا ختم کر دیا اور ایک باقاعدہ سویلین حکومتی نظام قائم کیا۔

    29 اپریل 1972ء کو میر رسول بخش ٹالپر سندھ کے گورنر بنے، جبکہ یکم مئی 1972ء کو ممتاز علی بھٹو کو وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ممتاز علی بھٹو نے 3 جولائی 1972ء کو سندھ اسمبلی میں ایک اہم بل پیش کیا، جس کے تحت سندھی زبان کو صوبے کی سرکاری زبان قرار دینا مقصود تھا۔ یہ بل 7 جولائی 1972ء کو اکثریتی رائے سے منظور کر لیا گیا۔

    اس بل کی منظوری کے بعد صوبے میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ اردو اخبار میں رئیس امروہی کا ایک شعر شائع ہوا:
    “اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے”
    جس کے بعد سندھ بھر میں لسانی فسادات پھوٹ پڑے۔ کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، نواب شاہ، سکھر اور لاڑکانہ میں کرفیو نافذ کرنا پڑا اور فوج طلب کی گئی۔

    ان فسادات کے دوران ٹنڈو جام زرعی کالج کے دو طالب علم، بشیر ٹونیو اور عبدالقادر ہالیپوٹو، قتل کر دیے گئے، جبکہ ٹیکنیکل کالج حیدرآباد کے ایک استاد عبدالرزاق سومرو بھی جاں بحق ہوئے۔ اگرچہ بعد میں حالات کسی حد تک قابو میں آ گئے، لیکن سندھی اور اردو بولنے والے طبقوں کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گئی۔

    صورتحال کو سنبھالنے اور اردو بولنے والے طبقے کو مطمئن کرنے کے لیے 15 فروری 1973ء کو بیگم رعنا لیاقت علی خان کو سندھ کا گورنر مقرر کیا گیا، جو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بیوہ تھیں۔

    بعد ازاں 11 اپریل 1973ء کو قومی اسمبلی نے 1973ء کا آئین منظور کیا، جو 14 اگست 1973ء سے نافذ العمل ہوا۔ اس آئین کی تیاری میں اس وقت کے وفاقی وزیر قانون و تعلیم عبدالحفیظ پیرزادہ نے مرکزی کردار ادا کیا۔ تاہم قومی اسمبلی کے کچھ اراکین نے اس آئین پر دستخط کرنے سے انکار بھی کیا، جن میں میر علی احمد ٹالپر، نواب خیر بخش مری، عبدالحمید جتوئی اور دیگر شامل تھے۔

    اسی عرصے میں سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے کانووکیشن منعقد کرنے کا اعلان کیا اور عبدالحفیظ پیرزادہ کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ دینے کے لیے مدعو کیا۔ اس اعلان پر طلبہ تنظیموں میں شدید اختلاف پیدا ہو گیا۔ خاص طور پر جی ایم سید کے نظریات سے متاثر طلبہ اس تقریب کے مخالف تھے۔

    بالآخر 28 اپریل 1973ء کو سندھ یونیورسٹی جامشورو میں یہ تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں بیگم نصرت بھٹو، ممتاز علی بھٹو، بیگم رعنا لیاقت علی خان، عبدالحفیظ پیرزادہ اور جام صادق علی سمیت کئی اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

    تقریب کے آغاز میں بیگم نصرت بھٹو نے خطاب کیا، مگر جیسے ہی عبدالحفیظ پیرزادہ کا نام لیا گیا، طلبہ نے نعرے بازی شروع کر دی۔ کچھ طلبہ ان کے حق میں تھے جبکہ دیگر سخت مخالفت کر رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ماحول کشیدہ ہو گیا اور بات گالم گلوچ تک جا پہنچی۔

    اسی دوران اسماعیل وساڻ کا آمنا سامنا عبدالحفیظ پیرزادہ سے ہو گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پیرزادہ نے انہیں گالی دی، جس کے جواب میں اسماعیل وساڻ نے انہیں ایک زور دار تھپڑ مار دیا۔ ادھر کچھ طلبہ نے بیگم رعنا لیاقت علی خان کو بھی دھکے دے کر اسٹیج سے نیچے اتار دیا۔

    یوں یہ تقریب مکمل طور پر ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گئی۔ اس دوران ایک پولیس افسر، ایس پی پیر بخش بلوچ، کو دل کا دورہ پڑا اور وہ موقع پر ہی گر پڑے، جبکہ کئی دیگر اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

    واقعے کے بعد فضا مزید کشیدہ ہو گئی اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ 6 مئی 1973ء کو جی ایم سید کو نظر بند کر دیا گیا۔ جامشورو کے تمام اہم تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے گئے، ہاسٹل خالی کرا لیے گئے، اور متعدد طلبہ رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔

    بعد ازاں حکومت نے تمام مقدمات واپس لے لیے اور گرفتار طلبہ کو رہا کر دیا۔ 5 دسمبر 1973ء کو سید غلام مصطفیٰ شاہ اپنی مدت پوری کر کے وائس چانسلر کے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔ ان کے بعد ڈاکٹر نبی بلوچ اور پھر شیخ ایاز نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔

    مزید آگے چل کر جنرل ضیاء الحق کے دور میں ممتاز علی بھٹو اور عبدالحفیظ پیرزادہ پاکستان پیپلز پارٹی سے الگ ہو گئے اور بعد میں اسماعیل وساڻ کے قریب سمجھے جانے لگے۔