سکھر کے ریلوے گراؤنڈ کے سامنے واقع سندھ اسپورٹس بورڈ کا پلیئرز ہاسٹل کئی دہائیوں سے شمالی سندھ کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز چلا آ رہا ہے، جہاں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کھلاڑی رہائش اختیار کرکے تربیتی کیمپوں، کوچنگ پروگراموں اور مختلف سطح کے ٹورنامنٹس میں شرکت کرتے رہے ہیں۔
سندھ اسپورٹس بورڈ کے زیر انتظام قائم یہ ہاسٹل بنیادی طور پر دور دراز اضلاع سے آنے والے کھلاڑیوں کو محفوظ، منظم اور مناسب رہائشی سہولت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ وہ دوران تربیت اور مقابلوں کے دوران یکسوئی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔
ہاسٹل میں ایک وقت میں ستر سے زائد کھلاڑیوں کی رہائش کی گنجائش موجود ہے۔ اسے مکمل طور پر فرنشڈ رہائشی سہولت کے طور پر تعمیر کیا گیا تاکہ صوبے کے مختلف علاقوں سے آنے والے کھلاڑیوں کو بہتر ماحول میسر آ سکے۔
سکھر کو طویل عرصے سے شمالی سندھ میں کھیلوں کی سرگرمیوں کا مرکزی شہر سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے خیرپور، گھوٹکی، شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد، کشمور، کندھ کوٹ، نوشہرو فیروز اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی مختلف کھیلوں کے مقابلوں اور تربیتی پروگراموں کے دوران اسی ہاسٹل میں قیام کرتے رہے ہیں۔
یہ ہاسٹل صرف رہائش تک محدود نہیں بلکہ کھیلوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں قیام کرنے والے کھلاڑی ہاکی، فٹبال، کرکٹ، ایتھلیٹکس، والی بال، باسکٹ بال، باکسنگ، ریسلنگ، بیڈمنٹن اور دیگر کھیلوں کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔
سندھ اسپورٹس بورڈ کی جانب سے سکھر میں برسوں سے انٹر ڈسٹرکٹ، انٹر ڈویژنل اور دیگر سطح کے کھیلوں کے مقابلوں کے ساتھ کوچنگ اور ٹریننگ پروگرام بھی منعقد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں شریک کھلاڑیوں کی رہائش کے لیے اسی ہاسٹل کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ ہاسٹل روایتی کھیلوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سندھ اسپورٹس بورڈ کی نگرانی میں بیلہارو، کوڈی کوڈی، ونجھواٹی، ملاکھڑا اور دیگر مقامی کھیلوں کی تربیتی اور نمائشی سرگرمیوں میں شریک کھلاڑی بھی یہاں قیام کرتے رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں اس ہاسٹل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ سکھر اسپورٹس کمپلیکس کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کمپلیکس کا سنگ بنیاد 1996 میں رکھا گیا تھا، تاہم مختلف وجوہات کے باعث منصوبہ طویل عرصے تک تاخیر کا شکار رہا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد منصوبہ سندھ حکومت کو منتقل کیا گیا، جس کے بعد اس پر دوبارہ کام شروع کیا گیا۔
صوبائی حکومت کے مطابق سکھر اسپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ، فٹبال، ہاکی، اسکواش، ٹینس، والی بال اور دیگر کھیلوں کی جدید سہولیات قائم کی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں یہاں قومی اور بین الاقوامی سطح کے مقابلوں کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے پلیئرز ہاسٹل کو منصوبے کا ایک بنیادی حصہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں کھلاڑیوں کی رہائش بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔
سکھر کا سندھ اسپورٹس بورڈ پلیئرز ہاسٹل کئی دہائیوں سے شمالی سندھ میں کھیلوں کے فروغ کے لیے خاموش مگر مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک رہائشی عمارت نہیں بلکہ ایسا مرکز ہے جہاں مختلف شہروں اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک ہی چھت تلے رہ کر کھیل، نظم و ضبط، محنت اور باہمی تعاون کی اقدار سیکھتے ہیں۔
شمالی سندھ میں کھیلوں کے مستقبل کا ذکر ہو تو سکھر کے اس پلیئرز ہاسٹل کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے، کیونکہ بے شمار کھلاڑیوں نے اپنے کھیل کے سفر کا آغاز اسی ادارے سے کیا اور آگے بڑھنے کے مواقع حاصل کیے۔

