Tag: سلمان خان

  • سلمان خان کی گلوان وادی پر بنی فلم ’بیٹل آف گلوان‘ پر چین کا اعتراض، ٹیزر کے بعد سفارتی اور ثقافتی بحث تیز

    سلمان خان کی گلوان وادی پر بنی فلم ’بیٹل آف گلوان‘ پر چین کا اعتراض، ٹیزر کے بعد سفارتی اور ثقافتی بحث تیز

    گلوان وادی کے سرحدی واقعات پر بننے والی بالی وڈ فلم بیتل آف گلوان کے پہلے ٹیزر کے سامنے آنے کے بعد چین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ فلم میں مرکزی کردار معروف اداکار سلمان خان ادا کر رہے ہیں اور یہ فلم سنہ 2020 میں مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں پیش آنے والے خونی فوجی تصادم کے پس منظر میں بنائی گئی ہے۔

    2020 میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں 15 اور 16 جون کی درمیانی شب چینی اور انڈین فوجیوں کے درمیان خونریز تصادم میں انڈیا کے ایک کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

    یہ فلم بنیادی طور پر اس موضوع پر ہے کہ بلند اور دشوار گزار پہاڑی علاقے میں تعینات فوجی کس طرح بغیر جدید ہتھیاروں کے آمنے سامنے جھڑپ میں ملوث ہوئے اور کن حالات میں انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔ فلم کا بیانیہ انڈین فوج کے نقطہ نظر سے تیار کیا گیا ہے، جس میں سپاہیوں کی قربانی، نظم و ضبط اور کمانڈ کے فیصلوں کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔

    فلم کے جاری ٹیزر میں دکھایا گیا ہے کہ سخت موسم، محدود وسائل اور شدید جسمانی دباؤ کے باوجود فوجی مورچوں پر ڈٹے رہتے ہیں۔

    چین کی جانب سے اعتراض کی بنیادی وجہ یہی موضوع اور زاویہ نظر ہے۔ چینی ریاست سے منسلک میڈیا نے کہا ہے کہ فلم میں پیش کیا گیا بیانیہ تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور اسے مبالغہ آمیز اور جذباتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

    چینی موقف کے مطابق گلوان وادی کے واقعات پر دونوں ممالک کے بیانات مختلف ہیں اور یک طرفہ فلمی پیشکش عوامی جذبات کو بھڑکا سکتی ہے۔

    چینی تبصروں میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسی فلمیں سرحدی تنازعے کو تفریحی مواد میں تبدیل کر دیتی ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ معاملہ سفارتی مذاکرات اور فوجی معاہدوں سے جڑا ہوا ہے۔ چین نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی فلم یا ثقافتی اظہار زمینی حقائق، لائن آف ایکچول کنٹرول یا خودمختاری کے دعوؤں کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

    فلم کے ٹیزر میں دکھائے گئے ہاتھوں سے ہونے والے تصادم، برف پوش پہاڑوں اور کمانڈر کے جذباتی مکالموں نے انڈیا میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اسے فوجی قربانیوں کو خراج تحسین قرار دیا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ حساس سرحدی واقعات پر بننے والی فلمیں قوم پرستانہ جذبات کو مزید تیز کر سکتی ہیں۔

    اس فلم سے جڑی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں کمپیوٹر گرافکس کے بجائے عملی مناظر پر زیادہ انحصار کیا گیا ہے۔ پہاڑی ماحول کو حقیقت کے قریب دکھانے کے لیے خصوصی سیٹس بنائے گئے اور اداکاروں کو بلندی پر حرکت اور جسمانی برداشت کی تربیت دی گئی، جو عام بالی وڈ فلموں میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

    چین کے اعتراض کے باوجود انڈیا کی سرکاری سطح پر فلم کے خلاف کوئی قدم سامنے نہیں آیا اور اسے ایک تجارتی فلمی منصوبہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم یہ تنازع اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ گلوان وادی کا معاملہ آج بھی محض فوجی یا سفارتی موضوع نہیں رہا بلکہ ثقافتی اور عوامی سطح پر بھی انتہائی حساس بن چکا ہے۔

    فلم کی متوقع ریلیز کے ساتھ یہ بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان رکھتی ہے اور یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں سنیما کس حد تک تاریخ اور حالیہ تنازعات کی ترجمانی کر سکتا ہے۔