سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی جو محبت، تقدیر اور سماجی سرحدوں کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس داستان کو سوندی زبان کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھائی نے اپنی شاعر ی میں شامل کیا مگر یہ کہانی صرف شاعری کا موضوع نہیں بلکہ صدیوں پرانی روایات میں زندہ ایک روایت ہے، جسے سندھ کے مختلف علاقوں میں مختلف انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔
اس کہانی نے جنم لیا سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں موجود قدیم شہر بھنبھور میں، جہاں ایک میوزیم قائم ہے۔ بھنبھور میوزیم کے انچارج ظہیر احمد کے مطابق سسئی کی پیدائش سیہون شریف میں ایک ہندو خاندان کے گھر ہوئی۔ ان کے بقول خاندان نے خوشی کے موقع پر پنڈت کو بلایا تاکہ نومولود کی کنڈلی دیکھی جائے۔ پنڈت نے کنڈلی دیکھنے کے بعد کہا کہ یہ بچی ایک دن مسلمان ہو جائے گی اور اس کی شادی ایک مسلمان مرد سے ہوگی۔ یہ پیش گوئی اس دور کے سماجی تصورات کے خلاف سمجھی گئی۔
ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ظہیر احمد نے کہا: ‘اس پیش گوئی کے بعد بچی کے والدین شدید خوف اور دباؤ کا شکار ہو گئے۔ خاندان کی روایت کے مطابق انہوں نے نومولود سسئی کو ایک صندوق میں رکھا اور دریائے سندھ کے حوالے کر دیا، یہ سوچ کر کہ شاید یوں بدنامی سے بچا جا سکے۔ ظہیر احمد کے مطابق یہ فیصلہ محبت یا نفرت سے زیادہ سماجی خوف کا نتیجہ تھا۔
‘یہ صندوق بہتا ہوا بھنبھور کے قریب پہنچا، جہاں ایک مسلمان دھوبی کو یہ دریا کے کنارے ملا۔ دھوبی نے صندوق کھولا تو اندر زندہ بچی کو پایا اور اسے اپنی اولاد کی طرح پالنا شروع کر دیا۔ یوں سسئی ایک ہندو خاندان میں جنم لے کر ایک مسلمان گھرانے میں پرورش پانے لگی۔’
ظہیر احمد کے مطابق سسئی جوان ہوئی تو اپنی خوبصورتی، سادگی اور کردار کی وجہ سے مشہور ہو گئی۔ اسی دوران مکران کے علاقے سے تعلق رکھنے والے شہزادہ پنہوں بھنبھور آیا، جہاں اس کی ملاقات سسئی سے ہوئی۔ یہ ملاقات آہستہ آہستہ محبت میں بدل گئی، جو وقت کے ساتھ ایک عظیم داستان بن گئی۔
ظہیر احمد نے بتایا کہ پنہوں اور سسئی کی محبت سماجی رکاوٹوں کی نذر ہو گئی۔ پنہوں کے خاندان نے اس رشتے کو قبول نہیں کیا اور اسے زبردستی واپس لے جایا گیا۔ سسئی نے پنہوں کی تلاش میں ریگستان کا سفر اختیار کیا، جو اس کہانی کا سب سے دردناک حصہ مانا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سسئی کا صحرا میں بھٹکتے ہوئے جان دینا اس محبت کی انتہا کی علامت ہے۔ یہ کہانی سندھ کی ثقافت میں اس بات کی مثال بن گئی کہ سچی محبت مذہب، ذات اور طاقت کی حدود کو نہیں مانتی۔
ظہیر احمد کے مطابق سسئی پنہوں کی داستان آج بھی سندھ کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہانی صرف دو افراد کی محبت نہیں بلکہ اس خطے کی تاریخ، سماجی ڈھانچے اور انسان کی تقدیر کے ساتھ جدوجہد کی عکاس ہے، اسی لیے صدیوں بعد بھی اسے سنایا اور سنا جاتا ہے۔

