Tag: سرمد سندھی

  • سرمد سندھی: سندھ کی آواز جو آج بھی گونجتی ہے

    سرمد سندھی: سندھ کی آواز جو آج بھی گونجتی ہے

    27 دسمبر کی تاریخ سندھ میں ایک اہم اور دردناک دن کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ اسی دن 2007 میں راولپنڈی میں سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا۔ لیکن یہ تاریخ صرف ایک سیاسی سانحے تک محدود نہیں، بلکہ سندھ کے ایک عظیم گلوکار سرمد سندھی کی یاد بھی اسی دن تازہ ہوتی ہے، جنہوں نے اپنی آواز سے لاکھوں دلوں کو چھوا۔

    سرمد سندھی، جن کا اصل نام عبدالرحمان مغل تھا، 7 مئی 1958 کو ضلع خیرپور میرس کے شہر پریالو میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک متوسط اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جہاں موسیقی کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ اس کے باوجود، سرمد کے اندر فن کی ایک چمک موجود تھی جو وقت کے ساتھ نمایاں ہوتی گئی۔

    انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پریالو میں حاصل کی اور بعد میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی خیرپور سے سول ٹیکنالوجی میں ڈپلومہ کیا۔ عملی زندگی میں انہوں نے ایک سب انجینئر کے طور پر کام شروع کیا اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور بعد ازاں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں خدمات انجام دیں۔ وہ زندگی کے آخری دن تک اس شعبے سے وابستہ رہے، لیکن ان کی اصل پہچان موسیقی ہی بنی۔

    سرمد سندھی نے گانے کا آغاز اپنے کالج کے زمانے سے ہی کیا۔ وہ دوستوں کی محفلوں میں گاتے اور جلد ہی اپنی سریلی آواز کی وجہ سے پہچانے جانے لگے۔ کالج کے پروگراموں میں جب وہ قومی گیت گاتے تو ماحول پر ایک خاص کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ آہستہ آہستہ ان کی آواز چھوٹی محفلوں سے نکل کر بڑے اسٹیج تک پہنچ گئی۔

    ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب معروف شاعر اور براڈکاسٹر کوثر برڑو نے انہیں دریافت کیا اور ریڈیو پاکستان پر گانے کا موقع دیا۔ بعد میں سمیع بلوچ نے انہیں پاکستان ٹیلی ویژن پر متعارف کروایا۔ یہی وہ پلیٹ فارم تھے جہاں سے ان کی شہرت پورے ملک میں پھیل گئی۔

    سرمد سندھی نے نہ صرف سندھی بلکہ اردو اور سرائیکی زبان میں بھی گایا، جس سے ان کی مقبولیت مزید بڑھ گئی۔ ان کے گیتوں میں سادگی، درد اور سچائی کا عنصر نمایاں تھا، جس کی وجہ سے ہر طبقے کے لوگ ان سے جڑ گئے۔ وہ پڑھے لکھے افراد سے لے کر کسانوں اور مزدوروں تک سب کے دلوں کی آواز بن گئے۔

    ان کے گانے صرف تفریح نہیں تھے بلکہ ایک پیغام بھی رکھتے تھے۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں جب سیاسی آزادی محدود تھی، سرمد سندھی نے اپنے فن کے ذریعے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے تحریک برائے بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کی حمایت میں گیت گائے اور عوام کو آمریت کے خلاف بیدار کیا۔

    ان کے انقلابی گیت سندھ کے دیہات تک پہنچے۔ کسان رات کے وقت کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ان کے گانے سنتے اور ان سے حوصلہ حاصل کرتے تھے۔ ان کی آواز نے سندھ میں ایک نئی سوچ اور جذبہ پیدا کیا۔ سرمد سندھی نے کئی عظیم سندھی شاعروں کا کلام گایا، جن میں شیخ ایاز، استاد بخاری، زاہد شیخ اور دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے شاعری کو اپنی آواز کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچایا اور ادب کو نئی زندگی دی۔

    ان کا اندازِ گائیکی منفرد تھا۔ وہ فلمی طرز پر نہیں گاتے تھے بلکہ اپنی دھنیں خود ترتیب دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ کوشش کرتے کہ سندھی موسیقی میں نیا رنگ اور جدت پیدا کریں۔ ان کے گیتوں کا مرکز معاشرتی مسائل، دھرتی سے محبت اور انسانی احساسات تھے۔

    سرمد سندھی کو کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں ’سندھ جو بیجل‘ اور ’راگ کا راجا‘ جیسے خطابات دیے گئے۔ ان کی سادگی اور خلوص کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ قومی پروگراموں میں بغیر کسی معاوضے کے شرکت کرتے تھے۔ اگر انہیں دعوت نہ بھی ملتی تو وہ خود ہی شریک ہو جاتے تھے، کیونکہ وہ اسے اپنا فرض سمجھتے تھے۔

    ان کی زندگی میں ایک حادثہ بھی آیا جس میں ان کی ٹانگ متاثر ہوئی اور انہیں لوہے کی راڈ لگوانی پڑی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے گانا نہیں چھوڑا۔ وہ اپنے فن سے جڑے رہے اور لوگوں کے دلوں کو گرماتے رہے۔

    آخرکار 27 دسمبر 1996 کو بدین سے کراچی واپسی کے دوران ٹھٹہ کے قریب ایک سڑک حادثے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں کراچی لے جایا جا رہا تھا، لیکن وہ راستے میں ہی انتقال کر گئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف 35 سال تھی۔ ان کی موت نے سندھ کو ایک عظیم فنکار سے محروم کر دیا۔

    ان کا آخری آڈیو البم ’ماروئڑا شہزور‘ تھا، جس میں کئی معروف شاعروں کا کلام شامل تھا۔ ان کی وفات پر شیخ ایاز نے کہا کہ سرمد کی آواز آج بھی فضا میں گونجتی محسوس ہوتی ہے، جو ان کے فن کی عظمت کا ثبوت ہے۔
    سرمد سندھی کی ذاتی زندگی بھی جذباتی پہلو رکھتی ہے۔ انہیں بیٹے کی خواہش تھی، اور ان کی وفات کے صرف تین دن بعد ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی، جس کا نام عزیزالرحمان رکھا گیا۔ آج ان کے خاندان میں ان کے بچے اور بھائی احمد مغل ان کی یاد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

    سرمد سندھی آج بھی سندھ کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کے گیت، ان کی آواز اور ان کا پیغام وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ وہ صرف ایک گلوکار نہیں تھے بلکہ ایک آواز تھے، جو سندھ کی پہچان بن گئی۔

    سرمد سندھی کی وفات کے بعد ان کے بھائی احمد مغل نے ان کے انداز میں گانا شروع کیا۔ ان کی آواز بھی اپنے مرحوم بھائی سے کافی ملتی ہے، مگر میوزک کے شوقین سرمد کی آواز کو لافانی قرار دیتے ہیں، جو آج بھی سندھیوں کے دلوں پر راج کر رہی ہے۔