ایران کے جزیرۂ ہرمز پر حالیہ دنوں میں ایک غیر معمولی قدرتی منظر دیکھنے میں آیا ہے، جس نے دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
دسمبر 2025 میں ہونے والی شدید بارشوں کے بعد جزیرے کی سرخ مٹی بہہ کر سمندر میں شامل ہو گئی، جس کے نتیجے میں ساحل اور سمندری لہریں عارضی طور پر گہرے سرخ رنگ میں رنگی نظر آئیں۔ ویڈیوز میں دھند میں لپٹی چٹانیں اور سرخ رنگ کا پانی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
جزیرہ ہرمز خلیج فارس میں واقع ہے اور اپنی منفرد ارضیاتی ساخت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہاں کی مٹی قدیم نمکیاتی اور آتش فشانی تہوں پر مشتمل ہے، جس میں آئرن آکسائیڈ، خاص طور پر ہیمیٹائٹ، بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے، جو مٹی کو اس کا مخصوص سرخ رنگ دیتا ہے۔
بارش کے پانی سے مٹی کے کٹاؤ کے باعث یہ تلچھٹ سمندر میں شامل ہو جاتی ہے، جس سے بعض اوقات ’’خونی سمندر‘‘ جیسا منظر بنتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے اور اس سے ماحول یا سمندری حیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، کیونکہ مٹی کے ذرات جلد ہی بیٹھ جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ان مناظر کو بڑے پیمانے پر دیکھا اور شیئر کیا گیا، جہاں بعض افراد نے اسے مذہبی پیش گوئیوں سے جوڑنے کی کوشش کی، جبکہ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ محض ایک قدرتی مظہر ہے۔
جزیرہ ہرمز کو اس کی رنگا رنگ مٹی کی وجہ سے ’’رینبو آئی لینڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، جہاں ستر سے زائد قدرتی رنگوں کی مٹی پائی جاتی ہے، اور حالیہ منظر نے ایک بار پھر اس جزیرے کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
ایڈیٹر فارن افئیرز

