Tag: ساگا بجٹ

  • ساگا بجٹ جائزہ: وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ کو چلانے کے لیے 500 ملازمین اور روزانہ تقریباً 37 لاکھ روپے کے اخراجات

    ساگا بجٹ جائزہ: وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ کو چلانے کے لیے 500 ملازمین اور روزانہ تقریباً 37 لاکھ روپے کے اخراجات

    کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ایسا گھر بھی ہے جہاں جدید دور میں بھی ٹرنک کالز کی بکنگ اور حتیٰ کہ کئی دہائیاں پہلے بند ہوجانے والے ٹیلی گرام اور ٹیلی فون بل پر سالانہ تقریباً ایک کروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں؟

    اس گھر کو چلانے کے لیے 500 ملازمین ہیں۔ اور اس گھر کو چلانے کے لیے ایک دن میں، جی ہاں ایک دن میں تقریباً 37 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یعنی ماہانہ خرچ تقریباً 11 کروڑ 23 لاکھ روپے اور سالانہ ایک ارب 35 کروڑ روپے کا خرچہ ہے۔

    یہ ہے سندھ کے وزیر اعلیٰ کا گھر یا چیف منسٹر سیکریٹریٹ۔

    اس تمام اسٹوری میں بتائے گئے اعداد و شمار ہم نے نہیں لکھے بلکہ فنانس ڈپارٹمنٹ کی آفیشل ویب سائٹ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے سالانہ اخراجات کے بجٹ سے حاصل کیے ہیں۔

    آفیشل بجٹ ڈاکیومنٹ کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں کام کرنے والے ملازمین کی بنیادی تنخواہوں سے بھی زیادہ رقم صرف الاؤنسز کی مد میں دی جا رہی ہے۔ کل 500 ملازمین پر سالانہ تقریباً 92 کروڑ 38 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، جس میں بنیادی تنخواہیں تقریباً 20 کروڑ اور الاؤنسز تقریباً 72 کروڑ روپے شامل ہیں۔

    صرف مہمان نوازی اور تحائف کے لیے سالانہ تقریباً نو کروڑ روپے مختص ہیں۔ صرف کھانے پینے پر سالانہ دو کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ایندھن پر ہی تقریباً چھ کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں، جبکہ مجموعی سفر پر 7 کروڑ 50 لاکھ روپے۔

    اور اس سب کے درمیان ایک کروڑ 27 لاکھ روپے ایسے بھی ہیں جنہیں ‘خفیہ اخراجات’ کہا جاتا ہے، جن کی کوئی تفصیل عوام کے سامنے نہیں رکھی جاتی۔ صرف اسٹیشنری یعنی کاغذ اور فائلوں پر ہی ایک کروڑ 11 لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

    اب آئیے جائزہ لیتے ہیں وزیراعلیٰ سندھ کے سیکریٹریٹ یا وزیراعلیٰ ہاؤس میں کتنے ملازم ہیں اور وہ کیا کرتے ہیں؟

    وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ اور ہاؤس میں کل 500 ملازمین کام کرتے ہیں۔

    چار گریڈ کے ڈرائیورز 50 عدد، ایک گریڈ کے نائب قاصدوں کی تعداد 76 ہے، اس سیکریٹریٹ کے باغیچوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک گریڈ کے مالی اور ہمال 18 ہیں۔ اس کے علاوہ ایک گریڈ کے 19 سینیٹری ورکرز، صفائی کے لیے نو سوئیپر، اور قالین بچھانے، کرسی لگانے اور ہال سجانے والے ایک گریڈ کے چار فراش بھی ملازمین میں شامل ہیں۔

    مزید یہ کہ ایک گریڈ کے دو چوکیدار، تین اسسٹنٹ کک، تین مسالچی جو باورچی خانے میں مصالحے تیار کرنے اور کھانے کی تیاری میں مدد دیتے ہیں، دو موذن اور ایک اسسٹنٹ دھوبی بھی اسی عملے کا حصہ ہیں۔

    پانچویں گریڈ میں 13 بیئرر شامل ہیں جو افسران اور مہمانوں کو چائے، پانی اور کھانا پیش کرتے ہیں اور میٹنگز میں سروس فراہم کرتے ہیں، اس کے علاوہ دو جونیئر کک، ایک مالی اور ایک ساؤنڈ ٹیکنیشن بھی اسی گریڈ میں موجود ہیں، جبکہ چھٹے گریڈ میں 10 ٹیلی فون آپریٹر یا اٹینڈنٹ کام کر رہے ہیں۔

    آٹھویں گریڈ میں چار ڈیٹا انٹری آپریٹر اور ایک گارڈن مینٹینر، نویں گریڈ میں ایک کیئر ٹیکر، چار سینئر ٹیلی فون آپریٹر اور چھ سینئر کک بھی موجود ہیں۔

    گیارہویں گریڈ میں 45 جونیئر کلرک، 15 بیئرر، دو ٹیلی فون سپروائزر، ایک فوٹوگرافر اور ایک لائبریری اسسٹنٹ شامل ہیں، جبکہ بارہویں گریڈ میں 10 ڈیٹا پروسیسنگ اسسٹنٹ، دو پیش امام اور ایک ویڈیو ٹیکنیشن بھی تعینات ہیں۔

    چودہویں گریڈ میں 14 سینئر کلرک، 14 اسٹینوگرافر، چار ہیڈ کک اور دو ہیڈ بیئرر شامل ہیں، جبکہ پندرہویں گریڈ میں دو کیمرہ مین، ایک اسسٹنٹ کیمرہ مین، تین سب ایڈیٹر، ایک کمپوزر، دو نان لینئر ایڈیٹر اور ایک ٹیکنیشن بھی کام کر رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ اوپر کے گریڈز میں درجنوں افسران، سیکریٹریز، پروٹوکول افسران، میڈیا اور آئی ٹی اسٹاف بھی شامل ہے، جو اس پورے نظام کو چلاتے ہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ خرچ کیوں ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ خرچ عوام کی ترجیحات کے مطابق ہے؟

    ساگا ڈیجیٹل نئی سیریز ساگا بجٹ جائزہ میں ایسی ہی دلچسپ کہانیاں لاتا ہے۔ دلچسپ اور معلوماتی کہانیوں کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔