Tag: ساگا بجٹ جائزہ

  • ساگا بجٹ جائزہ: وزیراعظم شہباز شریف کی اہلیہ ان سے زیادہ مالدار

    ساگا بجٹ جائزہ: وزیراعظم شہباز شریف کی اہلیہ ان سے زیادہ مالدار

    کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ میاں محمد شہباز شریف کے بیرون ملک اثاثے پاکستان میں موجود اثاثوں سے بھی زیادہ ہیں۔ دو بیویوں کے نام پر بھی کئی جائیدادیں ہیں۔ بظاہر سادہ دکھائی دینے والے یہ اعداد و شمار درحقیقت ایک ایسی کہانی سناتے ہیں جس کے ہر صفحے کے پیچھے کئی سوالات سر اٹھاتے محسوس ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں سیاسی رہنماؤں بالخصوص حکمرانوں پر کرپشن کے الزامات بہت عام ہیں، یہی وجہ ہے کہ لوگ سیاسی رہنماؤں کی دولت کی تفصیلات جاننے میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ انتخابی عمل میں امیدوار کی جانب سے اپنے اثاثوں کی تفصیلات بتانا لازم ہے۔

    الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشواروں میں وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے بتایا کہ ان کا پیشہ زراعت اور سیاست ہے، ان کی تعلیم بی اے ہے اور دو بیویاں ان کی زیر کفالت ہیں۔

    سال 2022 میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 24 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے، جبکہ لندن میں ان کی جائیداد کی مالیت 13 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

    دستاویز کے مطابق وزیر اعظم کے بینک اکاؤنٹ میں 20 لاکھ روپے موجود ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیٹے سلیمان شہباز سے چھ کروڑ 39 لاکھ روپے قرض لے رکھا ہے، تاہم لندن میں ان کا بینک اکاؤنٹ خالی ہے۔

    دستاویز کے مطابق وزیر اعظم مجموعی طور پر 14 کروڑ روپے کے مقروض بھی ہیں۔

    2018 کے عام انتخابات میں شہباز شریف نے الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے گوشواروں میں بتایا کہ وہ یا ان کے زیر کفالت افراد نے، یا ان کے زیر ملکیت کسی کاروباری ادارے نے، کسی بینک، مالیاتی ادارے سے 20 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کا کوئی قرض حاصل نہیں کیا جو ایک سال سے زائد عرصہ تک واجب الادا رہا ہو یا معاف کروایا گیا ہو۔

    الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے گوشواروں میں یہ بتایا گیا کہ شہباز شریف نے سال 2015 سے سال 2017 کے دوران مجموعی آمدنی 10 کروڑ 71,824 روپے رہی اور اس پر دو کروڑ 74 لاکھ 36,638 روپے ٹیکس ادا کیا۔ جبکہ ان تین سالوں کے دوران ڈیڑھ کروڑ روپے کی زرعی آمدنی پر 21 لاکھ 46 ہزار 500 روپے ٹیکس ادا کیا۔

    دستاویز کے مطابق 30 جون 2017 تک شہباز شریف 5,01,04,547 روپے کے اثاثوں کے مالک تھے اور سال 2015 تک ان کے بیرون ملک اثاثے پاکستان میں موجود اثاثوں سے زیادہ تھے۔

    الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے اثاثوں کی تفصیلات اور واجبات کے گوشواروں کے مطابق، لندن میں واقع ان کی دو جائیدادوں کی مجموعی مالیت 15 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد تھی۔ دوسری جانب پاکستان میں ان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 10 کروڑ 82 لاکھ 40 ہزار روپے تھی۔

    جس میں 553 کنال زرعی اراضی، مری میں دو جائیدادیں، صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری، بطور تحفہ ملنے والی لینڈ کروزر اور نقدی و بینک بیلنس (چھ کروڑ 65 لاکھ 90 ہزار روپے) شامل ہیں۔

    یوں برطانیہ اور پاکستان میں ان کے کل اثاثوں کی مالیت 26 کروڑ 22 لاکھ 90 ہزار روپے بنتی ہے، تاہم 13 کروڑ دو لاکھ 20 ہزار روپے کے واجبات کے بعد ان کی خالص دولت 13 کروڑ 20 لاکھ 60 ہزار روپے رہ جاتی ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی پہلی اہلیہ نصرت شہباز ان سے زیادہ مالدار ہیں۔ سال 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق ان کے اثاثوں کی خالص مالیت 27 کروڑ 60 لاکھ 30 ہزار روپے تھی، اور دس سال گزرنے کے بعد اس دولت میں کتنے گنا اضافہ یا کمی ہوئی ہوگی اس کا اندازہ حالیہ گوشواروں سے لگایا جا سکتا ہے۔

    شہباز شریف کی دوسری اہلیہ تہمینہ درانی کے اثاثوں کی مالیت 2015 تک 92 لاکھ 30 ہزار روپے تھی۔ اس طرح شہباز شریف اور ان کی دونوں اہلیہ کی مجموعی دولت آج سے 12 سال پہلے 41 کروڑ 73 لاکھ 20 ہزار روپے تھی۔