Tag: سانس

  • زندگی کے اوپر بسا ہوا ماضی: پاکستان کے وہ شہر جہاں زمین کے نیچے تاریخ سانس لیتی ہے

    زندگی کے اوپر بسا ہوا ماضی: پاکستان کے وہ شہر جہاں زمین کے نیچے تاریخ سانس لیتی ہے

    کیا واقعی ایسے شہر موجود ہیں جہاں زندگی براہ راست ماضی کے اوپر کھڑی ہو؟ جہاں سڑکیں، گھر اور بازار اس زمین پر آباد ہوں جس کے نیچے صدیوں پرانی قبریں موجود ہوں؟ پاکستان کے کئی بڑے شہر اس حقیقت کی خاموش مثال ہیں، جہاں وقت کی تہیں ایک دوسرے کے اوپر جڑی ہوئی ہیں۔

    کراچی، جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے، دراصل ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں تاریخ اکثر زمین کے نیچے چھپی ہوئی ملتی ہے۔ سخی حسن، ماوا شاہ اور لیاری کے اطراف موجود قدیم قبرستان اب شہری پھیلاؤ کے باعث گنجان آبادیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ مستند رپورٹس کے مطابق شہر میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے دوران پرانی قبریں اور انسانی باقیات دریافت ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ علاقے کبھی مکمل قبرستان تھے۔

    لاہور، جو صدیوں پرانی تہذیبوں کا مرکز رہا ہے، وہاں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ میاں میر قبرستان اور بی بی پاکدامن کے اطراف کے علاقے آج مصروف شہری زندگی کا حصہ ہیں، مگر ان کے نیچے تاریخ کی پرتیں موجود ہیں۔ تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ برصغیر کے قدیم شہروں میں قبرستان اکثر آبادیوں کے قریب یا اندر ہی قائم کیے جاتے تھے، جو وقت کے ساتھ شہری حدود میں شامل ہو گئے۔

    پشاور، جسے جنوبی ایشیا کے قدیم ترین مسلسل آباد شہروں میں شمار کیا جاتا ہے، اس حوالے سے اور بھی منفرد ہے۔ قصہ خوانی بازار اور اس کے گردونواح میں کھدائی کے دوران مختلف ادوار کے آثار ملے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ شہر صدیوں سے بار بار آباد اور مدفون ہوتا رہا ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق ایسے شہر دراصل تہوں میں زندہ رہتے ہیں، جہاں ہر نئی آبادی پچھلی تہذیب کے اوپر قائم ہوتی ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کے کئی تاریخی شہروں، جیسے قاہرہ اور استنبول، میں بھی یہی پیٹرن دیکھا جاتا ہے، جہاں پرانی قبریں اور آبادیاں نئی زندگی کے ساتھ ساتھ موجود رہتی ہیں۔ پاکستان کے یہ شہر بھی اسی تسلسل کا حصہ ہیں۔

    یہ منظر ہمیں ایک گہری حقیقت کی یاد دلاتا ہے۔ زندگی اور موت الگ نہیں، بلکہ ایک ہی کہانی کے دو رخ ہیں، جو وقت کے ساتھ ایک دوسرے میں ضم ہوتے رہتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل
    جہاں کہانیاں صرف نظر نہیں آتیں، بلکہ محسوس بھی ہوتی ہیں