Tag: سانحہ

  • 17 اکتوبر 1984 کا ٹوڑھی پھاٹک سانحہ: مکمل تاریخ اور پس منظر

    17 اکتوبر 1984 کا ٹوڑھی پھاٹک سانحہ: مکمل تاریخ اور پس منظر

    1983 کی ایم آر ڈی تحریک سے کوئی اتفاق کرتا ہو یا نہ کرتا ہو، لیکن اس تحریک میں سندھ کے لوگوں کے تاریخی غصے اور جدوجہد نے نہ صرف فوجی آمر ضیا الحق کی نیندیں حرام کر دی تھیں بلکہ عالمی سطح پر سندھ کی مزاحمت کی ایک نئی شکل بھی سامنے آئی۔

    ایم آر ڈی تحریک کے خاتمے کے بعد فوجی آمر ضیا الحق نے سندھی عوام سے بدلہ لینے کے لیے سندھ کے کور کمانڈر اور زون سی کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم عباسی کو ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل جہانداد خان کو پانچویں کور کا کمانڈر اور سندھ کا مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔

    اس کے کچھ عرصے بعد سندھ کے تعلیمی اداروں میں ایک سازش کے تحت طلبہ تنظیموں کے درمیان خونی لڑائیوں کا سلسلہ شروع کروا دیا گیا۔

    1983 میں شفیع محمد کرنانی جساف کے مرکزی صدر تھے۔ تاہم 1984 میں جب شفیع کرنانی کی جگہ گل محمد جکھرانی جساف کے صدر بنے تو ان کی صدارت کا دور پورے سندھ میں، خاص طور پر سندھ یونیورسٹی، ایل ایم سی جامشورو، سپیریئر سائنس کالج خیرپور، ٹیکنیکل کالج خیرپور، لطیف یونیورسٹی خیرپور، قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی نواب شاہ، چانڈکا میڈیکل کالج اور ڈگری کالج لاڑکانہ میں طلبہ تنظیموں کے درمیان مسلح جھڑپوں کا دور ثابت ہوا۔

    کراچی میں 14 اگست 1984 کو سندھ میڈیکل کالج (ایس ایم سی) کے ہاسٹل میں ایک واقعہ پیش آیا۔ حکومتی ظلم و جبر کے خلاف جب سندھی طلبہ نے ہاسٹل پر سیاہ جھنڈے لہرائے تو ضیاء الحق کے حامی ایک غیر سندھی طلبہ تنظیم کے ارکان کو یہ بات پسند نہ آئی۔ 

    انہوں نے ایک منظم سازش کے تحت سندھی طلبہ پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں سندھی طالب علم حنیف میمن شہید ہو گئے۔

    اس کے بعد سندھی طلبہ کا گھیراؤ کیا گیا اور برما جیسرانی، ویرسی مل، اسلم پرویز اور بابر جمالی سمیت تقریباً ڈھائی سو طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں زیادہ تر طلبہ کو رہا کر دیا گیا، لیکن برما جیسرانی، ویرسی مل، اسلم پرویز، بابر جمالی اور دیگر طلبہ کو لانڈھی جیل بھیج دیا گیا۔ یہ طلبہ طویل عرصے تک جیل میں رہے۔

    17 اکتوبر 1984 کو ٹوڑھی پھاٹک کے واقعے سے پہلے جساف، سپاف اور بی ایس او کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے دو طالب علم میر اشتیاق تالپور اور روپ چند بھی مارے جا چکے تھے۔

    سپاف لاڑکانہ کے ضلعی صدر صفی اللہ جوکیو کو گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔ سندھ میں سپاف اور جساف کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی تھی۔

    اسی دوران جساف کے کارکنوں نے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں ’جشنِ لطیف‘ منانے کا اعلان کیا۔ ایک افواہ یہ بھی پھیل گئی کہ وہ سپاف کے کارکنوں سے لڑنے کے لیے آ رہے ہیں۔

    چناںچہ 17 اکتوبر 1984 کو سندھ یونیورسٹی جامشورو سے لاڑکانہ جانے کے لیے سندھ یونیورسٹی، مہران انجینئرنگ یونیورسٹی اور ایل ایم سی جامشورو کے تقریباً ڈیڑھ سو طلبہ بسوں میں سوار ہوئے۔ وہ جامشورو سے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ جا رہے تھے۔

    جب یہ بسیں مانجھند اور کھانوٹ کے درمیان انڈس ہائی وے پر واقع ٹوڑھی پھاٹک کے پتھریلے اور ویران علاقے میں پہنچیں تو سکیورٹی فورسز نے بسوں پر فائرنگ کر دی۔

    اس فائرنگ کے نتیجے میں پانچ نوجوان شہید ہو گئے۔ ان میں عبدالمالک خشک، ذکریا میمن، امان اللہ وسطڑو، انور عباسی اور سندھ یونیورسٹی کی مرکزی کینٹین میں کام کرنے والے محنت کش مٹھو بلیدی شامل تھے۔

    اس واقعے میں کئی طلبہ زخمی ہوئے، جبکہ سو سے زیادہ طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

    فوجی حکومت نے سندھ کے محکمہ اطلاعات کے ذریعے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ حکومت کو مطلوب انتہائی خطرناک مجرموں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مقابلے کے بعد پانچ مجرم مارے گئے ہیں۔ 

    اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ مختلف جرائم میں مطلوب گل محمد جکھرانی اور ستار موریو کو ان کے گروہ سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    اس واقعے کے خلاف پورا سندھ سراپا احتجاج بن گیا۔ سندھ کے کونے کونے میں مظاہرے کیے گئے۔ صوبے میں پہیہ جام کی تاریخی ہڑتال ہوئی۔ لاڑکانہ میں احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے جساف کے کارکن زخمی ہوئے۔

    شدید احتجاج کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے بیشتر طلبہ کو رہا کر دیا گیا۔ تاہم ٹوڑھی پھاٹک واقعے کا مقدمہ جیئے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن (جساف) کے رہنماؤں گل محمد جکھرانی، ڈاکٹر دودو مہیری، ستار موریو، عمرالدین زرداری، سکندر میرانی، اقبال عرف دریا خان تونیو، نظیر تونیو اور سلیمان جتوئی کے خلاف باقاعدہ طور پر مانجھند تھانے میں درج کیا گیا۔

    فوجی آمر ضیا الحق کی حکومت ٹوڑھی سانحے کے قیدیوں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہتی تھی، لیکن سندھ میں شدید احتجاج کے بعد حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عبدالرزاق تھہیم کی سربراہی میں ایک عدالتی ٹریبونل قائم کیا۔ ٹریبونل کی ابتدائی سماعتیں حیدرآباد میں ہوئیں، جس کے بعد اس کی کارروائی کراچی میں جاری رہی۔

    مارچ 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں محمد خان جونیجو ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ ٹوڑھی مقدمے کے قیدیوں کی رہائی کے لیے قومی اسمبلی میں لیاقت علی خان جتوئی کے والد مرحوم عبدالحمید خان جتوئی، سائیں امداد محمد شاہ، قاضی شفیق مہیسَر، جنید سومرو اور سندھ سے تعلق رکھنے والے اسمبلی کے دیگر ارکان نے اہم کردار ادا کیا۔

    دسمبر 1985 میں ملک سے مارشل لا اٹھانے اور فوجی عدالتیں ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

    ٹوڑھی پھاٹک مقدمے کے قیدی طلبہ گل محمد جکھرانی، دودو مہیری، ستار موریو، عمرالدین زرداری، سکندر میرانی، دریا خان اقبال تونیو، نظیر تونیو اور سلیمان جتوئی کے خلاف اسلحے، اغوا، توڑ پھوڑ اور دیگر الزامات کے تحت مختلف مقدمات درج کیے گئے تھے۔

    ان کے مقدمات کی سماعت جسٹس عبدالرزاق تھہیم کے ٹریبونل میں ہوتی رہی۔ اس دوران گل محمد جکھرانی نے ٹریبونل میں اپنا ایک تاریخی تحریری بیان جمع کرایا، جو بعد میں ’تاریخ ہمارے ساتھ انصاف کرے گی‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔

    ٹوڑھی پھاٹک مقدمے میں گرفتار طلبہ کی پیروی کرنے والے وکلا میں ماما یوسف لغاری، عبدالحفیظ پیرزادہ، مجیب پیرزادہ، حفیظ لاکھو، سابق سینیٹر مرحوم حسین شاہ راشدی، نورالدین سرکی، نعمت اللہ قریشی، چاچا حفیظ قریشی، نورالحق قریشی، اعجاز ہکڑو اور پرویز قریشی شامل تھے۔

     17  اگست 1988 کو فوجی آمر ضیاالحق ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ 16 نومبر 1988 کو ملک میں عام انتخابات ہوئے، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔ 2 دسمبر 1988 کو محترمہ بینظیر بھٹو ملک کی وزیراعظم بنیں۔

    مارچ 1989 میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے دور میں ٹوڑھی سانحے کے تمام قیدی ضمانت پر رہا کر دیے گئے۔

    جیل سے رہائی کے بعد ٹوڑھی پھاٹک کے قیدیوں نے پورے سندھ کا دورہ کیا۔ ہر شہر میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

    بعد میں واقعے کی جگہ پر ٹوڑھی پھاٹک کے شہیدوں کی یاد میں ایک یادگار تعمیر کی گئی۔ تاہم اب یہ یادگار خستہ حالی کا شکار ہے۔

    ٹوڑھی پھاٹک مقدمے کے قیدیوں کا مختصر تعارف

     گل محمد جکھرانی

    گل محمد جکھرانی جساف کے کارکن سے ترقی کرتے ہوئے اس کے مرکزی صدر کے عہدے تک پہنچے۔ قوم پرست کارکن انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس دور میں وہ بہت سے نوجوانوں کے لیے ایک مثالی شخصیت تھے۔

    ٹوڑھی پھاٹک مقدمے سے رہائی کے بعد انہوں نے جیئے سندھ سے علیحدگی اختیار کر لی اور ممتاز علی بھٹو کی سندھ نیشنل فرنٹ میں شامل ہو گئے۔ بعد میں انہوں نے اس جماعت سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ 23 دسمبر 2007 کو انہوں نے نوڈیرو میں محترمہ بینظیر بھٹو سے ملاقات کی اور پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ 

    بعد میں وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان کا حلقہ کندھ کوٹ اور کشمور تھا۔ اس کے بعد وہ ضلع کونسل کندھ کوٹ اور کشمور کے چیئرمین کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی ضلع کندھ کوٹ اور کشمور کے صدر بھی ہیں۔

    ستار موریو

    ستار موریو جساف کے کارکن سے ترقی کرتے ہوئے اس کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ جیل اور روپوشی میں گزارا۔

    ٹوڑھی پھاٹک واقعے کے بعد انہوں نے جیئے سندھ سے علیحدگی اختیار کر لی اور علی حیدر شاہ کے ساتھ میر مرتضیٰ بھٹو کی جماعت میں شامل ہو گئے۔ میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت کے بعد انہوں نے آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ 

    انہیں پیپلز پارٹی ضلع لاڑکانہ کا نائب صدر مقرر کیا گیا۔

    ستار موریو کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد چھ ستمبر 2017 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    ڈاکٹر دودو مہیری

    ڈاکٹر دودو مہیری طویل عرصے تک جساف سے وابستہ رہے۔ ٹوڑھی پھاٹک واقعے کے بعد انہیں بھی قید کا سامنا کرنا پڑا۔ رہائی کے بعد وہ مختلف قوم پرست جماعتوں اور گروہوں سے وابستہ رہے۔

    انہیں خفیہ اداروں نے مبینہ طور پر اٹھایا اور طویل عرصے تک لاپتا رکھا۔ وہ اپنے سیاسی سفر کے دوران ڈاکٹر قادر مگسی اور سید جلال محمود شاہ کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔ 

    2018 کے عام انتخابات کے دوران وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔

    عمرالدین زرداری

    عمرالدین زرداری دادو کے قریب ککڑ کے علاقے میں واقع گاؤں سہراب زرداری کے رہنے والے تھے۔ وہ جساف کے سرگرم رہنما تھے اور مہران انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو میں مکینیکل انجینئرنگ کے آخری سال کے طالب علم تھے۔

    وہ پڑھے لکھے اور نظریاتی کارکن تھے۔ قوم پرست سیاست سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ سوشلزم کے بڑے حامی بھی تھے۔ جیل میں رہتے ہوئے بھی وہ لیکچروں اور تحریروں کے ذریعے اپنی جدوجہد جاری رکھتے تھے۔ وہ ٹوڑھی پھاٹک واقعے کے قیدیوں میں شامل تھے۔

    جیل سے رہائی کے بعد وہ کچھ عرصہ خاموش رہے۔ بعد میں ذاتی تعلقات کی بنیاد پر کچھ عرصے کے لیے آصف علی زرداری کے قریب بھی رہے، لیکن انہوں نے نہ کوئی مالی فائدہ حاصل کیا اور نہ ہی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

    زندگی کے آخری حصے میں وہ شدید بیمار ہو گئے اور اپنے گاؤں میں گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے لگے۔ بالآخر مئی 2018 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

    نظیر تونیو

    نظیر تونیو آج بھی سائیں جی ایم سید کے نظریے سے وابستہ ہیں، تاہم وہ عملی سیاست میں سرگرم نہیں ہیں۔ وہ اپنے شہر قمبر کے شہری اتحاد کے سرگرم رہنما ہیں اور سماجی و فلاحی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔

    سکندر میرانی

    سکندر میرانی لاڑکانہ کے بہار پور محلے کے رہائشی ہیں۔ انہوں نے اپنی جوانی کا بیشتر حصہ جساف کے ساتھ گزارا۔ رہائی کے بعد وہ کچھ عرصے تک سیاسی طور پر سرگرم رہے، لیکن اب زیادہ فعال نہیں ہیں۔ تاہم وہ آج بھی سائیں جی ایم سید کے نظریے سے وابستہ ہیں۔

    اقبال تونیو عرف دریا خان

    اقبال تونیو، جنہیں دریا خان کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، جساف کے سرگرم رہنما تھے۔ ٹوڑھی پھاٹک مقدمے سے رہائی کے بعد وہ کافی عرصے تک سیاسی طور پر سرگرم رہے۔ بعد میں بیماری کے باعث گوشہ نشین ہو گئے۔ بالآخر ان کا انتقال ہو گیا اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

    سلیمان جتوئی

    سلیمان جتوئی کا تعلق لاڑکانہ کے قریب آباد جتوئی گاؤں سے ہے۔ وہ جساف کے مرکزی عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے مہران انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو سے گریجویشن کی۔

    جیل سے رہائی کے بعد انہیں محکمہ ایکسائز میں افسر مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ قبل وہ محکمہ ایکسائز سے ریٹائر ہو گئے۔ آج کل کراچی میں رہتے ہیں اور عملی سیاست میں سرگرم نہیں ہیں، تاہم نظریاتی طور پر آج بھی سائیں جی ایم سید کے فکر و فلسفے سے وابستہ ہیں۔