Tag: سات عجائبات

  • دنیا کے سات عجائبات، انسانی تخلیق کے وہ شاہکار جو صدیوں بعد بھی حیران کن ہیں

    دنیا کے سات عجائبات، انسانی تخلیق کے وہ شاہکار جو صدیوں بعد بھی حیران کن ہیں

    انسانی تاریخ صرف جنگوں، سلطنتوں اور سیاست کی کہانی نہیں، بلکہ یہ تخلیقی ذہن اور غیر معمولی محنت کی داستان بھی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں ایسے حیرت انگیز تعمیراتی شاہکار موجود ہیں جنہیں دیکھ کر آج بھی انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا ہوگا۔ یہی وہ عمارتیں ہیں جنہیں جدید دور میں دنیا کے سات عجائبات کہا جاتا ہے۔

    یہ عجائبات نہ صرف فنِ تعمیر کے اعلیٰ نمونے ہیں بلکہ اپنے اپنے عہد کی تہذیب، ثقافت اور طاقت کی علامت بھی ہیں۔ مختلف براعظموں میں پھیلے یہ سات مقامات انسانی ذہانت اور عزم کی ایسی مثالیں ہیں جو صدیوں بعد بھی قائم ہیں۔

    ان عجائبات میں سب سے زیادہ پہچانا جانے والا نام چین کی عظیم دیوار ہے۔ ہزاروں کلومیٹر طویل یہ دیوار قدیم چین میں مختلف حملہ آور قبائل سے دفاع کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان پھیلی یہ دیوار انسانی محنت اور تنظیم کی ایک حیرت انگیز مثال سمجھی جاتی ہے۔

    جنوبی امریکا میں واقع مچو پیچو بھی دنیا کے عجائبات میں شامل ہے۔ یہ قدیم شہر پندرہویں صدی میں انکا تہذیب نے تعمیر کیا تھا اور صدیوں تک پہاڑوں کے درمیان پوشیدہ رہا۔ اس شہر کی تعمیراتی ترتیب، پتھروں کی تراش خراش اور قدرتی ماحول کے ساتھ ہم آہنگی آج بھی ماہرین کو حیران کرتی ہے۔

    اسی طرح اردن کے صحرا میں واقع پیٹرا بھی انسانی تخلیق کا ایک منفرد شاہکار ہے۔ سرخ چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے یہ محلات اور عمارتیں تقریباً دو ہزار سال پرانی ہیں۔ پیٹرا قدیم زمانے میں ایک اہم تجارتی مرکز تھا جہاں سے مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت ہوتی تھی۔

    میکسیکو میں موجود چیچن اِتزا مایا تہذیب کی سائنسی اور تعمیراتی مہارت کا مظہر ہے۔ یہاں کا مشہور اہرام، جسے ال کاسٹیلو کہا جاتا ہے، فلکیاتی حساب کتاب کے مطابق تعمیر کیا گیا تھا۔ سال کے مخصوص دنوں میں سورج کی روشنی اس اہرام پر ایسے سائے پیدا کرتی ہے جو ایک سانپ کی شکل بناتے ہیں۔

    یورپ میں واقع روم کا کولوسیم بھی دنیا کے عجائبات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ عظیم اسٹیڈیم رومی سلطنت کے زمانے میں تعمیر کیا گیا تھا جہاں ہزاروں تماشائی گلیڈی ایٹرز کے مقابلے دیکھنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ تقریباً دو ہزار سال گزرنے کے باوجود یہ عمارت آج بھی رومی انجینئرنگ کی عظمت کی گواہی دیتی ہے۔

    برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو کی پہاڑی پر قائم مسیحا کا مجسمہ بھی جدید عجائبات میں شامل ہے۔ کھلے بازوؤں کے ساتھ کھڑا یہ عظیم مجسمہ نہ صرف مذہبی علامت ہے بلکہ شہر کی شناخت بھی بن چکا ہے۔ یہ مجسمہ بیسویں صدی میں تعمیر کیا گیا اور آج دنیا کے سب سے پہچانے جانے والے مجسموں میں شمار ہوتا ہے۔

    دنیا کے سات عجائبات میں شامل تاج محل شاید سب سے زیادہ رومانوی داستان سے جڑا ہوا شاہکار ہے۔ بھارت کے شہر آگرہ میں واقع یہ سفید سنگِ مرمر کا مقبرہ مغل بادشاہ شاہجہان نے اپنی ملکہ ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔ تاج محل کو محبت کی علامت کہا جاتا ہے اور یہ اسلامی اور مغل فنِ تعمیر کی بلند ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔

    یہ ساتوں عجائبات دراصل انسانی تاریخ کی مختلف تہذیبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں کہیں دفاع کی حکمت عملی نظر آتی ہے، کہیں مذہبی عقیدہ، کہیں فلکیاتی علم اور کہیں محبت کی یادگار۔

    صدیوں پہلے تعمیر ہونے والی یہ عمارتیں آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ شاید اسی لیے دنیا کے سات عجائبات صرف تاریخی مقامات نہیں بلکہ انسان کی تخلیقی صلاحیت اور خواب دیکھنے کی قوت کی علامت بھی ہیں۔