کیا آپ کو معلوم ہے کہ مردوں کے سپرم یعنی نطفے کی کوالٹی موسم کے ساتھ بدلتی رہتی ہے؟ اور خاص طور پر گرمیوں میں یہ سب سے بہتر ہوتی ہے جبکہ سردیوں میں اس کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔
برطانیہ، کینیڈا اور ڈنمارک کے ماہرین کی ایک نئی مشترکہ سائنسی تحقیق میں یہ دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے کہ جون اور جولائی کے مہینوں میں سپرم کی حرکت کرنے کی صلاحیت، جسے زرخیزی میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے، سال کے دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتی ہے۔
اس تحقیق میں 18 سے 45 سال کے پندرہ ہزار سے زائد مردوں کے سپرم کے نمونوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ماہرین کے مطابق سپرم کی تعداد یا مقدار میں تو موسم کے ساتھ کوئی خاص فرق نہیں آتا، لیکن ان کی حرکت یعنی موٹیلٹی واضح طور پر متاثر ہوتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ دسمبر اور جنوری میں سپرم کی حرکت سب سے کم سطح پر ہوتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحان مختلف ممالک اور مختلف آب و ہوا میں بھی ایک جیسا پایا گیا۔
یعنی چاہے خطہ گرم ہو یا سرد، سپرم کی حرکت میں بہتری یا کمی کا تعلق موسم کی تبدیلی سے ہی جڑا ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مردانہ خصیوں کا درجہ حرارت عام جسمانی درجہ حرارت یعنی 37 ڈگری سینٹی گریڈ سے دو سے چار ڈگری کم ہونا چاہیے۔
اگر یہ توازن بگڑ جائے تو سپرم کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے، جس کا اثر زرخیزی پر پڑتا ہے۔یونیورسٹی آف مانچسٹر کے پروفیسر ایلن پیسی، جو اس تحقیق کے شریک مصنف ہیں، کہتے ہیں کہ نتائج حیران کن تھے کیونکہ فلوریڈا جیسے گرم علاقے میں بھی یہی پیٹرن دیکھنے میں آیا، جہاں سال کے زیادہ تر مہینے گرمی رہتی ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف باہر کا درجہ حرارت نہیں بلکہ موسمی تبدیلیاں خود بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس تحقیق سے نہ صرف مردانہ تولیدی صحت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ اس کی بنیاد پر علاج اور ٹیسٹنگ کے اوقات کو بھی زیادہ مؤثر انداز میں ترتیب دیا جا سکے گا۔ خاص طور پر وہ جوڑے جو اولاد کے خواہش مند ہیں، ان کے لیے یہ معلومات نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔
اس تحقیق نے یہ حقیقت آشنا کردی ہے کہ موسم کا اثر صرف ہمارے روزمرہ معمولات پر ہی نہیں بلکہ انسانی جسم کے نہایت اہم نظام، یعنی تولیدی صحت پر بھی پڑتا ہے، اور اس کو سمجھنا مستقبل میں بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

