Tag: سائبر سیکیورٹی

  • سائبر سیکیورٹی کے نام پر انٹرنیٹ کی سست رفتار، سوشل میڈیا رکاوٹوں اور آن لائن کاروبار پہنچانے والا اربوں روپوں کا منصوبہ ‘قومی فائر وال’ ناکام کیوں؟

    سائبر سیکیورٹی کے نام پر انٹرنیٹ کی سست رفتار، سوشل میڈیا رکاوٹوں اور آن لائن کاروبار پہنچانے والا اربوں روپوں کا منصوبہ ‘قومی فائر وال’ ناکام کیوں؟

    پاکستان میں گزشتہ دو برس کے دوران انٹرنیٹ کی سست رفتار، سوشل میڈیا رکاوٹوں اور آن لائن کاروبار کو درپیش مشکلات کے پیچھے جس ‘قومی فائر وال’ کا ذکر بار بار سامنے آتا رہا، اب اسی نظام کے جزوی طور پر ختم یا واپس لیے جانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ البتہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

    حکومتی حلقوں، آئی ٹی صنعت اور ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان جاری بحث نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا اربوں روپے کی لاگت سے نصب کیا گیا نظام واقعی ناکام ہوگیا یا بدلتی ٹیکنالوجی ضروریات کے باعث اسے ہٹایا جا رہا ہے۔

    حکومتِ پاکستان نے چند برس قبل انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی، سائبر سیکیورٹی بہتر بنانے اور غیرقانونی مواد کو روکنے کے مقصد سے ایک جدید انٹرنیٹ فائر وال سسٹم نصب کیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی اور ڈیجیٹل تحفظ کے لیے ضروری تھا۔

    رپورٹس کے مطابق یہ نظام ‘ویب مینجمنٹ سسٹم (WMS 2.0)’ جیسے ٹولز پر مشتمل تھا جو انٹرنیٹ ٹریفک کا تجزیہ کرکے ویب سائٹس یا آن لائن سرگرمیوں کو بلاک یا محدود کر سکتا تھا اور بیک وقت لاکھوں انٹرنیٹ سیشنز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

    حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ سنسرشپ نہیں بلکہ سائبر سیکیورٹی اقدام ہے، تاہم ڈیجیٹل حقوق تنظیموں اور آئی ٹی ماہرین نے اسے نگرانی کے ایک بڑے نظام سے تعبیر کیا۔

    فائر وال کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں صارفین، فری لانسرز اور سافٹ ویئر کمپنیوں نے انٹرنیٹ کی رفتار کم ہونے، وی پی این مسائل اور سوشل میڈیا ایپس خصوصاً واٹس ایپ پر فائل شیئرنگ میں رکاوٹوں کی شکایات کیں۔

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) نے خبردار کیا تھا کہ انٹرنیٹ رکاوٹوں کے باعث معیشت کو تقریباً 300 ملین ڈالر تک نقصان پہنچ سکتا ہے اور آئی ٹی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔

    آئی ٹی صنعت کا کہنا تھا کہ ڈیپ پیکٹ انسپیکشن اور ٹریفک ری روٹنگ جیسے طریقوں نے نیٹ ورک کی رفتار کم کر دی، جس سے کال سینٹرز، فری لانسرز اور آن لائن کاروبار شدید متاثر ہوئے۔

    میڈیا رپورٹس اور سیاسی حلقوں میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ فائر وال منصوبے پر تقریباً 35 سے 40 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ اب جب اسے محدود یا ختم کرنے کی بات ہو رہی ہے تو ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ سرمایہ ضائع ہوگیا؟

    سرکاری سطح پر اس رقم یا مکمل خاتمے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نظام کو مکمل ختم کرنے کے بجائے اپ گریڈ یا تبدیل کیا جا رہا ہے۔

    سینئر صحافی اور انینکر حامد میر نے ایکس پر ایک ٹویٹ میں لکھا ‘انہوں نے 2024 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں مشہور وکیل ایمان مزاری کے ذریعے فائر وال کے خلاف ایک آئینی پٹیشن دائر کی تھی۔ جس پر عدالت نے حکومت کو نوٹیس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا، مگر اس کے بعد اس پٹیشن کی کوئی سماعت ہی نہیں ہوئی۔ اب 18 ماہ کے بعد حکومت نے فائر وال ختم کردی اور اربوں روپے ضایع کردیے۔’

    https://x.com/HamidMirPAK/status/2025235747482300557?s=20

    فائیو جی اسپیکٹرم اور ٹیلی کام کمپنیوں کا دباؤ

    ماہرین کے مطابق فائر وال کے مستقبل کا تعلق پاکستان میں متوقع فائیو جی سروس سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ ٹیلی کام کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ کے لیے کم تاخیر (low latency) اور کھلا نیٹ ورک ضروری ہے، جبکہ سخت فلٹرنگ نظام رفتار کم کر دیتا ہے۔

    آئی ٹی وزارت پہلے ہی اعتراف کر چکی ہے کہ پاکستان کا موجودہ اسپیکٹرم محدود ہے اور انفراسٹرکچر میں کمی انٹرنیٹ مسائل کی بڑی وجہ ہے، جسے 5G متعارف کرا کر بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    صنعتی ذرائع کے مطابق فائیو جی سرمایہ کاری سے قبل کمپنیوں نے نیٹ ورک میں غیرضروری رکاوٹیں کم کرنے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد فائر وال کے کردار پر نظرثانی شروع ہوئی۔

    تاہم ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق پاکستان میں مجوزہ فائیو جی سروس کے حوالے سے یہ تاثر درست نہیں کہ اس کو شروع کرنے کے لیے انٹرنیٹ فائر وال کو مکمل طور پر ختم کرنا لازمی تھا۔ ماہرین کے مطابق فائیو جی اور فائر وال مختلف نظام ہیں اور دنیا کے کئی ممالک میں دونوں ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    تاہم اگر فائر وال کے ذریعے انٹرنیٹ ٹریفک کی سخت نگرانی یا فلٹرنگ کی جائے تو رفتار کم اور تاخیر زیادہ ہو سکتی ہے، جو فائیو جی کی اصل کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ اسی وجہ سے ٹیلی کام کمپنیوں نے بہتر رفتار اور سرمایہ کاری کے اعتماد کے لیے نیٹ ورک میں رکاوٹیں کم کرنے کا مطالبہ کیا، نہ کہ فائر وال کی مکمل ختمی لازمی شرط کے طور پر۔

    انسانی حقوق تنظیموں کا مؤقف ہے کہ فائر وال جیسے نظام شہریوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی بڑھاتے ہیں اور اظہارِ رائے کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سائبر خطرات بڑھ رہے ہیں اور ریاست کو ڈیجیٹل تحفظ کے اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ شفافیت کا فقدان ہے۔ اگر پالیسی واضح نہ ہو تو سرمایہ کار اور عالمی آئی ٹی کلائنٹس اعتماد کھو دیتے ہیں، جس سے ڈیجیٹل معیشت متاثر ہوتی ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان مکمل طور پر فائر وال نظام ختم کرے گا یا اسے نئے سیکیورٹی ماڈل سے تبدیل کیا جائے گا۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت سائبر سیکیورٹی اور تیز رفتار انٹرنیٹ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ 5G، آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو نقصان نہ پہنچے۔

    ماہرین کے مطابق آئندہ ماہ میں فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی اور نئی ڈیجیٹل پالیسی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ پاکستان کا انٹرنیٹ مستقبل نگرانی پر مبنی ہوگا یا کھلے اور تیز رفتار نیٹ ورک کی طرف جائے گا۔

    فی الحال عوام کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہے: کیا انٹرنیٹ واقعی تیز ہوگا یا فائر وال کسی نئی شکل میں واپس آئے گا؟