Tag: زیرو پوائنٹ

  • سمندر کا دروازہ، سندھ اور پاکستان کا معاشی دل: سر میری ویدھر کے ‘زیرو پوائنٹ’ سے ‘وال اسٹریٹ’ تک کا سفر

    سمندر کا دروازہ، سندھ اور پاکستان کا معاشی دل: سر میری ویدھر کے ‘زیرو پوائنٹ’ سے ‘وال اسٹریٹ’ تک کا سفر

    اگر آپ کو انیسویں صدی کے اواخر کے کراچی کا سفر کرنے کا موقع ملے اور آپ کیماڑی کی نوخیز بندرگاہ پر اتریں تو آپ کے سامنے ریت کے ٹیلوں، ملاحوں اور مچھیروں کے کچے جھونپڑوں کے درمیان ایک پسماندہ ساحلی قصبہ ہوگا۔

    لیکن اسی قصبے کے دہانے پر برطانوی راج کے انجینئروں اور مقامی سنگ تراشوں نے ایک ایسا ‘زیرو پوائنٹ’ قائم کیا جس نے آگے چل کر نہ صرف پورے برصغیر کی تجارتی تقدیر بدل دی بلکہ وسطی ایشیا کا دروازہ بھی بنا۔ یہ زیرو پوائنٹ آج کا میری ویدھر کلاک ٹاور ہے۔

    وہ دور تو بیت گیا جب یہ ٹاور کراچی کی ابتدائی حد اور شہر کا واحد دروازہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اس ٹاور کے سائے سے شروع ہونے والی معاشی لہریں آج بھی پاکستان کی شہ رگ بن کر دوڑ رہی ہیں۔

    آج کراچی شمال اور مشرق کی طرف بحریہ ٹاؤن اور ڈیفنس تک میلوں پھیل چکا ہے، لیکن معاشی اور مالیاتی طور پر اس شہر کا دل اب بھی اسی اولڈ ٹاؤن زون میں دھڑکتا ہے جس کی بنیاد نوآبادیاتی دور کے معماروں نے رکھی تھی۔

    سر ولیم میری ویدھر: جدید کراچی کے اولین معمار

    اس داستان کا آغاز فروری 1825 میں پیدا ہونے والے ایک برطانوی عسکری اور سول افسر سر ولیم لاکیر میری ویدھر سے ہوتا ہے۔ میری ویدھر محض ایک نوآبادیاتی حاکم نہیں تھے بلکہ وہ سندھ اور کراچی کے اس دور کے نبض شناس تھے جب اس خطے کو ایک جدید تجارتی مرکز میں ڈھالنے کی کوششیں شروع ہورہی تھیں۔

    انہوں نے 1867 سے 1877 تک پورے دس سال سندھ کے آٹھویں کمشنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کا یہ طویل دور کمشنری کراچی اور سندھ کی تاریخ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا عہد مانا جاتا ہے۔ کمشنر سندھ بننے سے قبل وہ ‘سندھ ہارس’ رجمنٹ کے ایک مایہ ناز عسکری افسر بھی تھے، اس لیے وہ بالائی سندھ اور بلوچستان کی سرحدوں کی سیاسی اور تجارتی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔

    میری ویدھر کے دور کمشنری کے بڑے کارنامے

    کراچی بندرگاہ کی جدید خطوط پر استواری: انہوں نے کیماڑی کے مقام پر ایک طویل پتھریلی دیوار، سی وال، کی تعمیر مکمل کروائی، جس نے بندرگاہ کے چینل کو مٹی اور ریت سے محفوظ رکھا۔ اس کے نتیجے میں بڑے بین الاقوامی تجارتی اور مال بردار بحری جہاز براہ راست کراچی کے ساحل تک آنے لگے۔

    انڈس ویلی ریلوے نیٹ ورک: انہوں نے اندرون سندھ اور پنجاب کی زرعی اجناس، کپاس اور گندم، کو کراچی کی بندرگاہ تک لانے کے لیے ریلوے لائن کے منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام کروایا۔

    مواصلاتی انقلاب: ان کے دور میں کراچی سے مکران کے ساحل، گوادر، اور خلیج فارس تک ٹیلی گراف لائن کے منصوبوں کو مستحکم کیا گیا، جس نے کراچی کو عالمی مواصلاتی نیٹ ورک سے جوڑ دیا۔

    وہ اس شہر کی سماجی زندگی کے بھی روح رواں تھے۔ انہوں نے 1871 میں یہاں کے مشہور سندھ کلب کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے صدر بنے۔ 1880 میں جب ان کا انتقال ہوا تو کراچی کے شہریوں اور تاجروں نے ان کی خدمات کے اعتراف میں اپنی جیبوں سے چندہ جمع کرکے ایک شاندار یادگار بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہی یادگار میری ویدھر کلاک ٹاور کہلائی، جسے 1892 میں عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

    پیلے پتھر کا سحر: اولڈ ٹاؤن کا نوآبادیاتی فن تعمیر

    میری ویدھر ٹاور سے لے کر بندر روڈ، ایم اے جناح روڈ، اور میکلوڈ روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، کے بازاروں تک پھیلا یہ پورا زون فن تعمیر کا ایک کھلا عجائب گھر ہے۔ کراچی کے اس وقت کے میونسپل انجینئر جیمز اسٹرچن نے میری ویدھر ٹاور کو وکٹورین انگلینڈ میں مقبول نیو گوتھک طرز تعمیر پر ڈیزائن کیا تھا۔

    102 فٹ بلند اس ٹاور کو تراشنے کے لیے کراچی کے مقامی علاقے گزری کی کانوں سے نکالا گیا ہلکا پیلا بلووا پتھر استعمال کیا گیا۔ اس پر کی گئی باریک نقاشی مقامی سلاوٹ برادری کے سنگ تراشوں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    اس پورے تجارتی زون کے فن تعمیر میں انڈو گوتھک اسلوب کا ایک انوکھا امتزاج ملتا ہے۔ انگریزوں نے برطانوی طرز کی بند عمارات بنانے کے بجائے کراچی کے تپتے ہوئے اور حبس زدہ موسم کو مات دینے کے لیے مقامی راجستھانی اور گجراتی طرز کے چوڑے چھجے، کھلی بالکونیاں اور بلند محرابیں بنائیں۔

    عمارات کے اندر دکانوں اور گوداموں کی چھتیں 14 سے 18 فٹ تک بلند رکھی جاتی تھیں تاکہ گرم ہوا اوپر اٹھ جائے اور سمندری ہوا کی گزرگاہ بند نہ ہو۔

    اس کی ایک بہترین مثال بولٹن مارکیٹ کے وسط میں واقع لکشمی بلڈنگ ہے، جس کا افتتاح 1938 میں سروجنی نائیڈو نے کیا تھا۔ اپنے دور میں کراچی کی یہ بلند ترین عمارت امریکہ کے شکاگو اور نیویارک کے ابتدائی فلک بوس عمارات کے طرز تعمیر کی عکاس تھی، جو کراچی کے جدید تجارتی فن تعمیر کا نقطہ آغاز تھا۔

    جغرافیائی مرکز کی تبدیلی اور معاشی مرکزیت کا تسلسل

    تقسیم ہند کے بعد جب لاکھوں مہاجرین کراچی آئے تو شہر کا جغرافیائی مرکز تیزی سے مشرق اور شمال کی طرف منتقل ہونا شروع ہوگیا۔ ناظم آباد، گلشن اقبال اور بعد میں کلفٹن اور ڈیفنس جیسی آبادیاں جدید کراچی کا چہرہ بن گئیں۔ عام شہریوں اور رہائشیوں کے لیے اب یہ نئے علاقے شہر کا مرکز ہیں اور میری ویدھر ٹاور اب شہر کا آخری سرا معلوم ہوتا ہے۔

    لیکن معاشی حقیقت اس جغرافیائی پھیلاؤ سے بالکل مختلف ہے۔ وہ مرکزیت جو سر میری ویدھر اور نوآبادیاتی دور کے دیگر معماروں، جیسے ٹھٹہ کے سپوت اور کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کے صدر راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وازیرانی، نے قائم کی تھی، وہ معاشی طور پر آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔

    آج بھی کراچی کا 90 فیصد ہول سیل کاروبار اور تمام بڑے کاروباری مراکز میری ویدھر ٹاور سے شروع ہونے والے میکلوڈ روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، اور ملحقہ بندر روڈ، ایم اے جناح روڈ، پر ہی واقع ہیں۔

    آئی آئی چندریگر روڈ، پاکستان کی وال اسٹریٹ: برطانوی دور کا میکلوڈ روڈ آج پاکستان کا مالیاتی مرکز ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، ملک کے تمام بڑے تجارتی بینکوں کے کارپوریٹ ہیڈکوارٹرز اور بڑے میڈیا ہاؤسز اسی علاقے میں واقع ہیں۔ پاکستان کے جی ڈی پی اور وفاقی ٹیکس ریونیو کا ایک بہت بڑا حصہ اسی سڑک پر پروسیس ہوتا ہے۔

    جوڑیا بازار، پاکستان کا فوڈ کنٹرولر: قیام پاکستان سے قبل کا یہ بازار تقسیم کے بعد ملک کی سب سے بڑی اجناس کی منڈی بنا ہوا ہے۔ پورے ملک میں دالوں، چینی، چاول، چائے اور گرم مصالحوں کی تھوک قیمتیں اسی بازار کی روزمرہ سپلائی اور طلب سے طے ہوتی ہیں۔ پاکستان سالانہ جو اربوں ڈالر کی غذائی اشیا درآمد کرتا ہے، ان کا ایک بہت بڑا حصہ پہلے اسی مارکیٹ کے گوداموں میں پہنچتا ہے۔

    بولٹن مارکیٹ: برطانوی راج کے دوران 1883 میں میونسپل کمشنر سی ایف بولٹن کے نام پر قائم ہونے والی یہ مارکیٹ آج پلاسٹک مصنوعات، کاسمیٹکس، کپڑوں اور الیکٹرانکس کی بڑی تھوک سپلائی منڈی ہے۔ ملک بھر کے چھوٹے تاجر تھوک نرخ پر سامان خریدنے کے لیے اسی مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں۔

    تحفظ، بحالی اور ایک نیا خواب: اولڈ ٹاؤن بطور ‘ہیریٹیج ٹورازم زون’

    آج ان شاہراہوں کی قدیم تاریخی عمارات اشتہاری بورڈز، ٹریفک کے دھوئیں، غیر قانونی تجاوزات اور زنگ آلود تاروں کے جال میں چھپ چکی ہیں۔ اگرچہ حکومت سندھ نے ‘سندھ کلچرل ہیریٹیج پروٹیکشن ایکٹ 1994’ کے تحت اس زون کی کئی عمارات کو محفوظ قرار دے رکھا ہے، لیکن انہیں مسمار ہونے اور خستہ حالی سے بچانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

    مگر مایوسی کے اس اندھیرے میں پاکستان کی پہلی خاتون معمار یاسمین لاری اور ان کی تنظیم ‘ہیریٹیج فاؤنڈیشن آف پاکستان’ نے ایک نئی امید جگائی ہے۔ ان کے ‘ڈینسو ہال راہداری منصوبے’ کے تحت ایم اے جناح روڈ کی ایک تاریخی گلی کو گاڑیوں کے لیے بند کرکے پیدل چلنے والوں کے راستے میں تبدیل کیا گیا، عمارات کے پیلے پتھروں کو کیمیکلز سے صاف کیا گیا اور وہاں خوبصورت فرش بنا کر درخت لگائے گئے۔

    یہ کامیاب تجربہ اس بات کی دلیل ہے کہ کراچی کے اس اولڈ ٹاؤن زون کو یورپ کے تاریخی شہروں، جیسے روم، پراگ یا ایڈنبرا، کی طرز پر ایک باقاعدہ ‘ہیریٹیج ٹورازم زون’ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین تعمیرات درج ذیل عملی نقشہ پیش کرتے ہیں:

    ویک اینڈ پیدل راہ داری: چونکہ یہ ایک مصروف تجارتی مرکز ہے، اس لیے ہفتے کے عام دنوں میں ٹریفک بند کرنا ممکن نہیں۔ تاہم ہفتے کی شام سے اتوار کی رات تک میری ویدھر ٹاور سے لائٹ ہاؤس تک کے پورے علاقے کو گاڑیوں کے لیے مکمل بند کرکے صرف پیدل چلنے والوں اور برقی شٹل بسوں کے لیے مخصوص کردیا جائے۔

    ثقافتی بازار اور فوڈ اسٹریٹس: اتوار کے پرسکون دن ان تاریخی عمارات کے سائے تلے مقامی دستکاریوں کے اسٹالز لگائے جائیں، اسٹریٹ تھیٹر اور صوفی موسیقی کے پروگرام منعقد کیے جائیں جو دنیا بھر کے سیاحوں کو راغب کرسکیں۔

    مطابق استعمال: ان عمارات کی اوپر والی منزلیں جو اب گوداموں کے طور پر استعمال ہورہی ہیں، انہیں خوبصورت ورثہ کیفے، آرٹ گیلریوں اور بوتیک ہوٹلوں میں تبدیل کیا جائے، جس سے تاجروں کو متبادل آمدنی بھی ہوگی اور عمارات کی دیکھ بھال بھی۔

    بصری صفائی: تمام دکانوں کے لیے ایک یکساں سائز اور رنگ کے ورثہ سائن بورڈز لازمی قرار دیے جائیں اور بجلی و انٹرنیٹ کے تاروں کے جال کو زیر زمین منتقل کیا جائے تاکہ پیلے پتھر کی اصل خوبصورتی نظر آسکے۔

    تاریخ کا قرض

    کراچی پورٹ سے نکلنے والی معاشی لہروں کو جب سر ولیم میری ویدھر نے ایک جدید رخ دیا تھا تو شاید انہوں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ ان کا قائم کردہ یہ ‘زیرو پوائنٹ’ ایک صدی بعد بھی ایک ایٹمی طاقت کی معیشت کا انجن بنا رہے گا۔

    کراچی کا جغرافیہ بھلے ہی بدل چکا ہو لیکن اس کی روح اب بھی اسی پیلے پتھر کی عمارات اور مصروف بازاروں میں بستی ہے۔ اگر حکومت سندھ، بلدیہ اور تاجر برادری مل کر ایک باقاعدہ ‘اولڈ ٹاؤن اتھارٹی’ قائم کریں تو یہ خطہ صرف ایک تپتا ہوا تجارتی مرکز نہیں رہے گا بلکہ یہ کراچی کے شاندار ماضی اور روشن مستقبل کا سب سے بڑا گڑھ بن جائے گا۔

    یہ تاریخ کا وہ قرض ہے جو اس شہر کے باسیوں پر اب واجب الادا ہے۔