Tag: زہران ممدانی

  • ایپسٹین اور زہران ممدانی کے ساتھ تصاویر  بھی وائرل: حقیقت کیا ہے؟

    ایپسٹین اور زہران ممدانی کے ساتھ تصاویر بھی وائرل: حقیقت کیا ہے؟

    جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین فائلز منظر عام پر آنے کے بعد کئی ممتاز شخصیات کی جعلی تصاویر بھی ایپسٹین کے ساتھ سامنے آرہی ہیں جو سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہورہی ہیں ، ایسی ہی کچھ جعلی تصاویر نیو یارک کے میئر زہران ممدانی کی بھی ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہے۔

    ان تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ نیو یارک کی نوجوان میئر زہران ممدانی اور ان کی والدہ جنسی جرائم کے سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ کھڑے ہیں ، یہ تصاویر توجہ کا مرکز بھی بنی اور سوشل میڈیا پر لاکھوں ویوز بھی ملے ، مگر کیسے ؟؟

    ایلکس جونز کی X پر شیئر کی گئی پوسٹ جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ زہران ممدانی اپنی والدہ کے ساتھ ایپسٹین کے ساتھ تصویر میں موجود ہیں ،جعلی ثابت ہوئی ،یہ تصویر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی محکمہ انصاف نے جیفری ایپسٹین کی فائلز جاری کی ہیں جس میں ان کے جرائم کی تفصیلات کے علاوہ اہم شخصیات سے تعلقات کے شواہد بھی ہیں ،ان فائلوں میں اکتوبر 2019 کی ایک ای میل بھی شامل ہے جو پیگی سیگل نے ایپسٹین کو بھیجی تھی۔

    اس ای میل میں سیگل ایک پارٹی میں شرکت کا زکر کررہی ہے سزا یافتہ انسانی اسمگلر گیلین میکسویل کے گھر منعقد ہوئی تھی ، اور وہ پارٹی ممدانی کی والدہ میرا نائر کی ہدایت میں بننے والی فلم کے سلسلے میں تھی، سیگل کے مطابق اس پارٹی میں میرا نائر،ایمازون کے سی ای اوجیف بیزوس اورسابق امریکی صدر بل کلنٹن بھی شریک تھے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پیروڈی اکائونٹ نے جعلی تصویر پوسٹ کردیں،بظاہر جعلی تصاویر طنزیہ انداز میں شیئر کی گئیں ، صارفین نے سورس کا زکر کیے بغیر یہ تصویر بڑے پیمانے پر شیئر کیں ۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بی بی سی نے متعلقہ ٹولز کے زریعے ان تصاویر کی جانچ کی تو ثابت ہوا کہ یہ تصویر گوگل سے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہیں۔ان تصاویر میں تکنیکی غلطیاں بھی ہیں جیسا کہ پس منظر سے ظاہر ہورہا ہے کہ وہ باالکل الگ ہے ، اسی طرح زہران ممدانی کو بھی غلط عمر میں دکھایا گیا ہے ۔ 2009 میں ان کی عمر 18 سال تھی ۔

  • زہران ممدانی نے نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر حلف اٹھا لیا

    زہران ممدانی نے نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر حلف اٹھا لیا

    زہران ممدانی نے امریکی شہر نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر حلف اٹھایا لیا۔ پہلے مسلمان میئر کے ساتھ وہ تاریخ میں نیو یارک کے سب سے کم عمر میئر بھی بن گئے۔

    حلف برداری کی تقریب کے دوران ان کی اہلیہ روما دواجی نے قران کے دو نسخے اٹھا رکھے تھے، جن پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے حلف لیا۔

    ان کے ترجمان کے مطابق زہران ممدانی قرآن کے جن نسخوں پر حلف لیا ان میں ایک ان کے اپنے دادا کا قرآن اور ایک سیاہ فام مصنف اور مورخ آرتورو شومبرگ کا قرآن استعمال کیا جو نیو یارک پبلک لائبریری سے لیا گیا تھا۔

    ان کی حلف برداری کی تقریب نئے سال کے آغاز پر پرانے سٹی ہال سب وے سٹیشن پر منعقد ہوئی۔ جہاں زہران ممدانی نے باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ اس موقع پر شہر کی سیاسی، سماجی اور شہری قیادت موجود تھی جبکہ دنیا بھر میں اس واقعے کو غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی۔

    حلف برداری کے بعد اپنے پہلے خطاب میں زہران ممدانی نے کہا کہ وہ نیو یارک کو تمام شہریوں کے لیے قابلِ رہائش، منصفانہ اور محفوظ شہر بنانے کے عزم کے ساتھ کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیو یارک تنوع کا شہر ہے اور یہی تنوع اس کی اصل طاقت ہے۔

    زہران ممدانی کب منتخب ہوئے

    زہران ممدانی کو نیو یارک سٹی کے میئر کے طور پر حالیہ بلدیاتی انتخابات میں منتخب کیا گیا۔ انتخابی عمل کئی مراحل پر مشتمل تھا جس میں ابتدائی ووٹنگ کے بعد حتمی نتائج سامنے آئے۔ زہران ممدانی نے واضح اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور یوں وہ نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہوئے۔ ان کی کامیابی کو شہر کی بدلتی ہوئی سماجی اور سیاسی ترجیحات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

    الیکشن مہم کیسے چلائی گئی

    زہران ممدانی کی انتخابی مہم روایتی سیاست سے مختلف نظر آئی۔ انہوں نے بڑی ریلیوں کے ساتھ ساتھ گلی محلوں میں جا کر براہ راست عوام سے ملاقاتوں پر زور دیا۔ کرایوں میں اضافے، رہائش کے بحران، پبلک ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم ان کی مہم کے مرکزی نکات رہے۔ انہوں نے نوجوانوں، محنت کش طبقے اور اقلیتی برادریوں کو منظم کیا اور ایک ایسی مہم چلائی جس میں سادہ زبان اور واضح وعدے شامل تھے۔

    انتخابی مہم کے دوران زہران ممدانی نے کہا کہ شہر میں رہنا ایک حق ہے، کسی کی مالی حیثیت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی مہم میں رضاکاروں کا کردار نمایاں رہا جو گھر گھر جا کر ووٹرز سے رابطہ کرتے رہے۔

    زہران ممدانی کون ہیں؟

    زہران ممدانی ایک نوجوان سیاست دان ہیں جو طویل عرصے سے نیو یارک کی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔ وہ اس سے قبل ریاستی اسمبلی کے رکن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں جہاں انہوں نے رہائش، ٹرانسپورٹ اور سماجی انصاف سے متعلق قانون سازی پر کام کیا۔ ان کی سیاست کا مرکز عام شہری اور کم آمدنی والے طبقات رہے ہیں۔

    زہران ممدانی نے اپنی ابتدائی تعلیم امریکہ میں حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے اعلیٰ تعلیم مکمل کی جہاں ان کا جھکاؤ سماجی علوم اور عوامی پالیسی کی طرف رہا۔ میئر منتخب ہونے کے وقت ان کی عمر 34 بتائی جاتی ہے، جس کے باعث وہ نیو یارک کی تاریخ کے کم عمر ترین میئرز میں شامل ہو گئے ہیں۔

    زہران ممدانی کی ازدواجی زندگی نسبتاً سادہ اور نجی رہی ہے۔ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کی اہلیہ روما دواجی سماجی شعبے سے وابستہ بتائی جاتی ہیں۔ زہران ممدانی متعدد مواقع پر یہ بات دہرا چکے ہیں کہ ان کی ذاتی زندگی انہیں عوامی خدمت میں توازن سکھاتی ہے۔

    زہران ممدانی کو ‘مسٹر الائچی’ کیوں کہا جاتا تھا؟

    زہران ممدانی کو نوجوانی کے دور’مسٹر کارڈیمم‘ یعنی ‘مسٹر الائچی’ کے نام سے ریپ گانا گایا کرتے تھے۔ اس لیے ان کو لقب ‘مسٹر الائچی’ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔  اور 2019 میں ان کا گانا ’نانی‘ خاصا زیر بحث رہا۔

    الیکشن مہم کے نعرے

    زہران ممدانی کی انتخابی مہم کے نعرے سادہ مگر مؤثر تھے۔ ان کے نعروں میں سب کے لیے رہائش، قابلِ برداشت کرائے، مفت اور بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ شہر کی پالیسیاں صرف امیر طبقے کے لیے نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے ہونی چاہئیں۔

    انہوں نے بار بار کہا کہ نیو یارک کو ایک ایسا شہر بنایا جائے گا جہاں محنت کش خاندان عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

    سوشل میڈیا پر ردعمل

    زہران ممدانی کے حلف اٹھانے کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل کا ایک طوفان نظر آیا۔ فیس بک اور ایکس پر ہزاروں صارفین نے انہیں مبارکباد دی۔ بہت سی پوسٹس میں انہیں تاریخ ساز میئر قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ لمحہ امریکی سیاست میں ایک نئی سمت کی علامت ہے۔

    کئی صارفین نے لکھا کہ ایک مسلمان میئر کا منتخب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ نیو یارک واقعی تنوع کو قبول کرتا ہے۔ کچھ پوسٹس میں نوجوان قیادت اور سماجی انصاف کے بیانیے کو سراہا گیا۔
    دوسری جانب تنقیدی آوازیں بھی سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے ان کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے اور خدشات کا اظہار کیا کہ آیا وہ اپنے انتخابی وعدے پورے کر پائیں گے یا نہیں۔

    سیاسی مبصرین اور شہری حلقے

    شہر کے سیاسی حلقوں میں زہران ممدانی کی کامیابی کو ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی نے روایتی سیاست کو چیلنج کیا ہے اور شہری مسائل کو مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب اصل امتحان اقتدار میں آنے کے بعد شروع ہوگا۔
    زہران ممدانی کو میئر کے طور پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ شہر میں رہائش کا بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ٹرانسپورٹ کا دباؤ اور موسمیاتی اثرات ان کے سامنے بڑے مسائل ہوں گے۔ ان کے حامیوں کو امید ہے کہ وہ عملی اقدامات کے ذریعے ان مسائل کا حل تلاش کریں گے۔