Tag: ریگستان

  • سندھ کے مشہور عشقیہ لوک داستان مومل راڻو میں ڈھاٹی اُونٹ کے چرچے، یہ اونٹ آج بھی مقبول کیوں؟

    سندھ کے مشہور عشقیہ لوک داستان مومل راڻو میں ڈھاٹی اُونٹ کے چرچے، یہ اونٹ آج بھی مقبول کیوں؟

    سندھ کے مشہور عشقیہ لوک داستان مومل راڻو میں ڈھاٹی اُونٹ کا خاص ذکر ملتا ہے۔ اس داستان کے مرکزی کردار راڻو مہندر امرکوٹ سے جیسلمیر تک رات کی تاریکی میں سفر کر کے اپنی محبوبہ مومل سے ملنے جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی رات میں یہ طویل فاصلہ طے کر کے ملاقات کے بعد واپس آ کر آرام کرتا تھا۔ یہ روایت صحرائی سفر میں ڈھاٹی اُونٹ کی رفتار اور برداشت کی علامت بن چکی ہے۔

    سندھی شاعری کے سرتاج شاہ لطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں مومل راڻو پر پورا ایک سر تخلیق کیا ہے۔ اس سر میں ڈھاٹی اُونٹ کا ذکر بار بار آتا ہے، جو نہ صرف سواری بلکہ عشق، جدوجہد اور سفر کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اُونٹ تھر کی زندگی میں محض ایک جانور نہیں بلکہ تہذیبی اور علامتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔

    اُونٹ کو ریگستان کا جہاز کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ اُونٹ سندھ کے ضلع تھرپارکر میں پائے جاتے ہیں۔ اسلام کوٹ پاکستان کا واحد شہر ہے جہاں ہر بدھ کے روز اُونٹوں کی باقاعدہ منڈی لگتی ہے۔ اس منڈی میں ملک کے مختلف حصوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک سے آنے والے تاجر بھی اپنی ضرورت کے مطابق اُونٹ خریدتے ہیں۔ یہ منڈی صحرائی معیشت کے ساتھ ساتھ صدیوں پرانی ثقافتی روایت کی بھی نمائندہ ہے۔

    تھر کے علاقے میں اُونٹوں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جن میں مہراںوی، کھارائی، ہائبرڈ، سندھی اور ڈھاٹی اُونٹ شامل ہیں۔ یہ اقسام سرحد کے دونوں جانب تھر، راجستھان اور مارواڑ کے علاقوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔

    ان اُونٹوں کو کھیتی باڑی، بوجھ اٹھانے، پانی بھرنے، کنوؤں سے پانی کھینچنے، تیل کے گھان چلانے، اُونٹ گاڑیوں اور سواری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ صحرائی زندگی میں یہ جانور انسانی بقا کا ایک اہم سہارا رہا ہے۔

    ان اقسام میں ڈھاٹی اُونٹ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ واحد قسم ہے جسے خاص طور پر سواری کے لیے پالا جاتا ہے۔ ڈھاٹی اُونٹ اپنی جسامت میں دوسرے اُونٹوں کے مقابلے میں دبلا، اونچا اور متوازن ہوتا ہے۔ یہ کم خوراک میں گزارا کر لیتا ہے، وزن میں ہلکا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے تیز رفتار سفر کرتا ہے۔ طویل فاصلے طے کرتے ہوئے یہ کم تھکتا ہے، اسی لیے قدیم زمانے میں شاہی قاصد، سوداگر اور مسافر اسے ترجیح دیتے تھے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اُونٹ اپنے جسمانی درجہ حرارت کو خود منظم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شدید گرمی میں اس کا جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور رات کے وقت کم ہو جاتا ہے، جس سے پانی کی بچت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُونٹ کئی دن تک بغیر پانی کے زندہ رہ سکتا ہے، اور ریتلے طوفانوں میں بھی اپنا راستہ پہچاننے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اگرچہ آج سڑکوں، گاڑیوں اور جدید سفری سہولتوں نے صحرائی علاقوں میں آمد و رفت کو آسان بنا دیا ہے، پھر بھی تھر، راجستھان اور گجرات کے کئی علاقوں میں اُونٹ کی اہمیت برقرار ہے۔ جدید دور میں بھی یہاں کے لوگ گھریلو کام کاج، روزمرہ ضروریات اور بعض سفری مقاصد کے لیے اُونٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ جانور آج بھی صحرائی تہذیب، معیشت اور ثقافت کا ایک زندہ استعارہ ہے۔