مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت نے دنیا بھر میں ملازمتوں کے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے، لیکن اس تبدیلی کے نتیجے میں ایک دلچسپ اور اہم رجحان سامنے آیا ہے: بہت سے تجربہ کار اور عمر رسیدہ ملازمین نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے بجائے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کو ترجیح دے رہے ہیں۔
امریکی بزنس جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق خاص طور پر 55 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ میں اس عمر کے افراد کی ملازمت میں شمولیت کی شرح کم ہو کر تقریباً 37.2 فیصد رہ گئی ہے، جو گزشتہ بیس سالوں کی کم ترین سطح ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں سب سے اہم مصنوعی ذہانت کا تیزی سے نفاذ، کام کے ماحول میں تبدیلی، اور نئی مہارتیں سیکھنے کا دباؤ شامل ہیں۔
کئی دہائیوں تک مسلسل اضافے اور پھر 2010 کی دہائی میں تقریباً 40 فیصد کے قریب رہنے کے بعد، اب امریکا میں 55 سال سے زائد عمر کے افراد کا افرادی قوت میں حصہ کم ہو کر 37.2 فیصد رہ گیا ہے، جو بیس سال سے زیادہ عرصے میں سب سے کم سطح ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور ریٹائرمنٹ کے مشیر کہتے ہیں کہ گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اسٹاک مارکیٹ سے حاصل ہونے والے منافع نے کچھ لوگوں کو مالی طور پر سہارا دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ کمی آئی ہے۔
تاہم کچھ عمر رسیدہ پیشہ ور افراد کے لیے معاملہ صرف پیسے تک محدود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیریئر کے آخری سال مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے دوران پیدا ہونے والی ہلچل میں نہیں گزارنا چاہتے، جہاں نئے اوزار، نئی توقعات اور غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔
نئی ٹیکنالوجی کا دباؤ
رپورٹ میں ایک 68 سالہ ملازم لیوک مشیل کی مثال دی گئی ہے، جنہوں نے اپنی زندگی میں کئی ٹیکنالوجیکل تبدیلیاں دیکھی تھیں، جیسے کہ 1980 کی دہائی میں ڈیسک ٹاپ پبلشنگ اور بعد میں انٹرنیٹ کا دور۔ مگر ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کا دور ان کے لیے مختلف اور زیادہ مشکل ثابت ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ نئی ٹیکنالوجی سیکھنے کے لیے جو وقت اور توانائی درکار ہوتی ہے، وہ ان کے لیے اب ممکن نہیں رہی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ وہ مزید کچھ سال کام کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
یہ مثال صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ہزاروں ایسے ملازمین کی نمائندگی کرتی ہے جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے آخری مرحلے میں ایک اور بڑی تبدیلی کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔
ایک سروے کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں سے تقریباً 25 فیصد نے بتایا کہ وہ کام کے دباؤ اور تھکن کی وجہ سے جلد ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے استعمال نے نہ صرف کام کے طریقے بدل دیے ہیں بلکہ ملازمین سے نئی توقعات بھی وابستہ کر دی ہیں۔ اب کئی کمپنیوں میں ملازمین سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اے آئی ٹولز کا استعمال کریں، اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں، اور مسلسل نئی مہارتیں سیکھتے رہیں۔
یہ مسلسل تبدیلی اور سیکھنے کا عمل خاص طور پر عمر رسیدہ ملازمین کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے، جو اپنی زندگی کے اس مرحلے میں نسبتاً استحکام چاہتے ہیں۔
کام کی نوعیت میں تبدیلی
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ملازمت کے اہم پہلو بیک وقت بدل جاتے ہیں، جیسے کہ خودمختاری میں کمی، ساتھیوں کا چھوڑ جانا، یا کمپنی کی پالیسیوں میں تبدیلی، تو لوگ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت ان تمام عوامل کو ایک ساتھ متاثر کرتی ہے۔ یہ نہ صرف کام کے طریقے بدلتی ہے بلکہ ملازمین کے کردار اور اہمیت کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے کئی افراد خود کو غیر متعلق یا غیر ضروری محسوس کرنے لگتے ہیں۔
کچھ ملازمین کے لیے مسئلہ صرف ٹیکنالوجی سیکھنے کا نہیں بلکہ اس کے اخلاقی پہلو بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک خاتون ملازم نے اپنی ملازمت اس لیے چھوڑ دی کیونکہ وہ اے آئی کے استعمال سے مطمئن نہیں تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت تخلیقی کام کرنے والے افراد کی محنت کو استعمال کرتی ہے، مگر انہیں اس کا معاوضہ نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ انہیں خدشہ تھا کہ اے آئی انسانوں کی سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
نوجوان اور بزرگ ملازمین میں فرق
تحقیقی اداروں کے مطابق نوجوان ملازمین کے مقابلے میں عمر رسیدہ افراد مصنوعی ذہانت کے استعمال میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 30 سے 49 سال کے افراد میں اے آئی کے استعمال کی شرح تقریباً 30 فیصد ہے، جبکہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح اس سے کہیں کم ہے۔
اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ نوجوان افراد نئی ٹیکنالوجی کو جلدی اپناتے ہیں، جبکہ عمر رسیدہ افراد کے لیے یہ عمل زیادہ مشکل اور وقت طلب ہوتا ہے۔
مالی استحکام بھی ایک وجہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ افراد کے لیے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ مالی طور پر بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ گھروں کی قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاک مارکیٹ میں بہتری نے کئی افراد کو مالی طور پر مستحکم بنایا ہے، جس کی وجہ سے وہ ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
لیکن یہ بھی واضح ہے کہ تمام افراد کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں ہوتا، اور بہت سے لوگ مجبوری میں بھی ملازمت جاری رکھتے ہیں۔
کمپنیوں کا کردار
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کمپنیاں اپنے تجربہ کار ملازمین کو نئی ٹیکنالوجی سکھانے میں خاطر خواہ مدد فراہم نہیں کر رہیں۔ اگر ادارے بہتر تربیت اور سہولت فراہم کریں تو ممکن ہے کہ زیادہ لوگ ملازمت جاری رکھ سکیں۔
یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف معیشت بلکہ انسانی رویوں اور فیصلوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ایک طرف نوجوان نسل اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے تیار ہے، تو دوسری طرف بڑی عمر کے افراد اس سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو اس کے اثرات لیبر مارکیٹ، معیشت، اور اداروں کی کارکردگی پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ تجربہ کار افراد کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مصنوعی ذہانت جہاں نئی مواقع پیدا کر رہی ہے، وہیں یہ ایک چیلنج بھی بن چکی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے آخری مراحل میں ہیں اور مزید تبدیلی کے لیے تیار نہیں۔

