Tag: رکشے

  • حیدرآباد کے منفرد فور سیٹر رکشوں کی دلچسپ تاریخ، یہ رکشے پاکستان کے کسی اور شہر میں نہیں ملتے۔

    حیدرآباد کے منفرد فور سیٹر رکشوں کی دلچسپ تاریخ، یہ رکشے پاکستان کے کسی اور شہر میں نہیں ملتے۔

    سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے فور سیٹر رکشے انتہائی منفرد ہیں۔ مقامی لوگ نہ تو انہیں رکشہ کے نام سے پکارتے ہیں اور نہ ہی چنگچی کہتے ہیں، بس سادہ نام فور سیٹر ہے۔

    مخصوص پیلے اور کالے رنگ والے ان فور سیٹروں کی ساخت منفرد ہے، یہ چھوٹی گاڑی کی طرح لگتے ہیں۔ اگلے حصے کے ایک کنارے پر ایک چھوٹا سا بورڈ لگا ہوا ہے، جس پر درج ہوتا ہے کہ ایک فور سیٹر کس علاقے سے کہاں تک چلتا ہے۔ جیسے آنکھوں کا ہسپتال سے بدین اسٹاپ، نواب شاہ اسٹاپ سے ہیرآباد مارکیٹ، نیا پل، بدین اسٹاپ۔

    ان فور سیٹروں کی تاریخ انتہائی منفرد ہے۔ شہر کی پہچان بننے والی یہ سواری کسی منصوبے کے تحت وجود میں نہیں آئی بلکہ یہ دراصل ایک حادثاتی ایجاد ہے جس نے بعد میں شہر کی ثقافت کا حصہ بننے کی منزل طے کی۔

    فور سیٹر کی کہانی کا آغاز 1965 میں اس وقت ہوا جب جاپان کے سفیر نے حیدرآباد کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے شہر میں بڑھتے ہوئے کوڑے کے مسئلے کو دیکھا، جس کے بعد انہوں نے سینکڑوں گاڑیاں صفائی کے کام کے لیے پاکستان بھیجیں۔

    یہ گاڑیاں میونسپلٹی کے حوالے کر دی گئیں اور کچھ عرصے تک انہیں کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ مگر پھر کچھ ایسا ہوا کہ یہ گاڑیاں وقت کے ساتھ ساتھ کچرا اٹھانا چھوڑ کر لوگوں کو ڈھونے لگیں۔

    آج یہ فور سیٹر رکشے حیدرآباد کی گلی محلوں کی رونق ہیں اور شہر کی ثقافت اور تہواروں کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔ ان کی چند خاص باتیں یہ ہیں:

    منفرد نشست: ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مسافروں کی نشستیں آمنے سامنے ہوتی ہیں، جو دوسرے شہروں کی رکشوں سے بالکل مختلف ہے۔
    زیادہ گنجائش: یہ نام کے فور سیٹر ہیں، مگر ان میں کبھی پانچ، چھ، آٹھ اور کبھی کبھی دس لوگ بھی سوار ہوتے ہیں۔ آمنے سامنے بیٹھے ہوئے مسافروں کی ٹانگیں آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگوں سے جڑی ہوتی ہیں۔

    صرف حیدرآباد کی پہچان: یہ رکشے صرف حیدرآباد کی خاص پہچان ہیں۔

    سستی سواری: یہ رکشے عام لوگوں کے لیے سستی اور آسان سواری کا ذریعہ ہیں، اور اسی وجہ سے عوام میں بے حد مقبول ہیں۔

    حیدرآباد کا یہ فور سیٹر محض ایک گاڑی نہیں بلکہ اس شہر کی تہذیب، جدت اور عوام کی بے باک زندگی کی ایک زندہ علامت ہے۔