Tag: رَن آف کچھ

  • تھرپارکر کے رَن آف کچھ میں گلابی فلیمنگو پرندوں کی افزائش نسل کے موسم کا آغاز ہوگیا

    تھرپارکر کے رَن آف کچھ میں گلابی فلیمنگو پرندوں کی افزائش نسل کے موسم کا آغاز ہوگیا

    سندھ کے تھرپارکر میں واقع رَن آف کچھ میں مختلف ممالک سے آنے والے مہمان گلابی فلیمنگو پرندوں کی افزائش نسل کے موسم کا آغاز ہوگیا ہے۔

    پاکستان کے جنوب مشرق میں واقع تھرپارکر کا رَن آف کچھ بظاہر ایک بے آب و گیاہ، سفید نمکین میدان دکھائی دیتا ہے، مگر جون سے ستمبر کے درمیان مون سون کی بارشیں اس منظر کو مکمل طور پر بدل دیتی ہیں۔ بارش کا پانی جمع ہوتے ہی یہ وسیع نمک زار ایک عارضی ویٹ لینڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے، جہاں ہزاروں فلیمنگو افزائش نسل کے لیے پہنچتے ہیں اور فطرت کا ایک نادر منظر تخلیق ہوتا ہے۔

    رَن آف کچھ دنیا کے ان چند مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں فلیمنگو قدرتی ماحول میں بڑے پیمانے پر اجتماعی انداز میں گھونسلے بناتے ہیں۔ یہ پرندے کم گہرے نمکین پانی اور کیچڑ والے میدانوں کو اس لیے منتخب کرتے ہیں کیونکہ یہاں شکاری جانور نسبتاً کم پہنچ پاتے ہیں، جبکہ ان کی خوراک بھی وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے۔

    فلیمنگو درختوں پر گھونسلہ نہیں بناتے۔ وہ مٹی اور کیچڑ سے تقریباً ایک فٹ اونچا مخروطی ٹیلہ تیار کرتے ہیں، جس کی چوٹی پر عموماً صرف ایک انڈا دیا جاتا ہے۔ یہ اونچا گھونسلہ انڈے کو پانی اور گرمی دونوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ نر اور مادہ دونوں باری باری انڈے سیتے ہیں اور بچے کی پرورش بھی مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ نومولود فلیمنگو گلابی نہیں بلکہ سرمئی یا سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان کی مشہور گلابی رنگت وقت کے ساتھ نمکین پانی میں موجود خردبینی الجی، ڈائیاٹمز اور چھوٹے کرسٹیشینز میں پائے جانے والے قدرتی روغن کیروٹینائڈز کھانے سے پیدا ہوتی ہے۔ جتنا بہتر خوراک کا معیار ہوگا، فلیمنگو کا رنگ اتنا ہی شوخ گلابی ہوگا۔

    رَن آف کچھ صرف فلیمنگوؤں کی نرسری نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے اہم ترین موسمی ویٹ لینڈز میں شمار ہوتا ہے۔ مون سون کے دوران یہاں پیلیکن، ایوو سیٹ، اسٹلٹ، سینڈ پائپر، گل، ٹرن، مختلف اقسام کی بطخیں اور دیگر آبی پرندے بھی بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ سردیوں میں یہی علاقہ وسطی ایشیا اور سائبیریا سے آنے والے مہاجر پرندوں کی اہم پناہ گاہ بن جاتا ہے۔

    رَن آف کچھ دراصل ایک منفرد جغرافیائی خطہ ہے جہاں صحرائے تھر، نمک زار، عارضی جھیلیں اور ساحلی ماحولیاتی نظام ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یہی تنوع اسے حیاتیاتی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ یہ خطہ صدیوں پہلے بحیرہ عرب کا حصہ تھا، لیکن دریائے سندھ کے لائے ہوئے گاد (سلٹ) اور قدرتی زمینی تبدیلیوں نے اسے آہستہ آہستہ موجودہ نمکین میدانوں میں تبدیل کر دیا۔

    رَن آف کچھ کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ گریٹر رَن آف کچھ، جس کا ایک حصہ پاکستان کے تھرپارکر سے متصل ہے، جبکہ لِٹل رَن آف کچھ مکمل طور پر بھارت کی ریاست گجرات میں واقع ہے۔ دونوں علاقوں کو عالمی سطح پر فلیمنگو کی اہم آبادیوں کے لیے نہایت اہم مسکن سمجھا جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق مون سون کی بارشوں میں کمی، موسمیاتی تبدیلی، غیر منصوبہ بند ترقیاتی سرگرمیاں اور انسانی مداخلت مستقبل میں اس حساس ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ چونکہ فلیمنگو اپنی افزائش نسل کے لیے مخصوص پانی کی گہرائی اور نمکیات پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے معمولی ماحولیاتی تبدیلی بھی ان کی کامیاب افزائش کو متاثر کر سکتی ہے۔

    ہر سال جب بارش کے بعد رَن آف کچھ زندگی سے بھر جاتا ہے تو یہ منظر اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کے صحراؤں میں بھی ایسے قدرتی عجائبات موجود ہیں جن کی عالمی سطح پر اہمیت ہے، مگر ان کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

    فطرت، ماحول اور جنگلی حیات سے جڑی ایسی ہی مستند اور منفرد کہانیوں کے لیے دیکھتے رہیے ‘ساگا ڈیجیٹل’۔