Tag: رانو ملانی

  • رانو ملانی: تھر میں تعلیم کا ایک دور

    رانو ملانی: تھر میں تعلیم کا ایک دور

    سائیں رانو مل ملانی تھر میں تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے والے ایک بااصول، سچے اور کھرے استاد تھے، جنہوں نے اپنی پوری عمر تھر کے ریتلے ٹیلوں میں علم کی شمع روشن کرنے کی جستجو میں گزار دی۔ زبان اور آرٹ کے مضامین کے ساتھ ساتھ انہوں نے طلبہ میں سائنس کے مضامین پڑھنے کا بھی زبردست شوق اور جوش پیدا کیا۔

    سائیں رانو مل ملانی ہائی اسکول کے استاد تو تھے ہی، لیکن وہ ہائی اسکول کے طلبہ کے ساتھ ساتھ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی فزکس، کیمسٹری، ریاضی، گرامر اور دیگر مضامین بڑی مہارت اور استعداد کے ساتھ پڑھایا کرتے تھے۔ سائیں رانو مل ملانی مخصوص ڈگری کی تعلیم سے بڑھ کر، صحیح معنوں میں پڑھنے، سمجھنے، پرکھنے اور عقلیت پسندی کی بنیاد پر جاننے کی تعلیم پر زور دیتے تھے۔

    سائنس، شعور اور عقلیت پسندی کا سفر

    سائیں رانو مل ملانی نے نہ صرف سائنس کو گہرائی سے پڑھا، سمجھا اور سمجھانے کے بعد پڑھایا، بلکہ اپنی روزمرہ زندگی سے جہالت، اندھ وشواس (وہم پرستی)، وہم اور وسوسوں کی گرد ہٹا کر جینے کے ہر پہلو کو صاف شفاف بنایا۔ فزکس کے ماہر اس استاد کی ہر بات اور جینے کے ہر انداز میں جدت، ایمانداری اور سچائی جھلکتی تھی۔

    سائیں رانو مل کے پاس جب کوئی سائنسی سوال آتا تھا تو وہ اپنے سارے کام بھول کر اس کا جواب دیتے تھے۔ اگر وہ کسی سوال کے جواب سے خود مطمئن نہیں ہوتے تھے یا سامنے والا مزید سوال کرتا تھا تو سائنس کی کتابیں اور میگزین کھل جاتے۔ سائیں رانو جب کسی طالب علم کے دل میں سائنس کو سمجھنے کی تڑپ دیکھتے تھے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتے اور مزید تعلیم کے لیے ہر ممکن تعاون کرتے تھے۔ انہیں یہ پختہ یقین تھا کہ انسان کے شعور کا ارتقا سائنس کے بغیر ممکن نہیں۔

    وہ تھر کے ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سائنسی سوچ و بچار کو پوری طرح اپنایا اور اس کے فروغ کے لیے روشن راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی اور ایک مقصدی اور بامعنی زندگی گزاری۔

    عملی جدوجہد اور علمی بے باکی

    سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنا تعلیمی مرکز ‘بینظیر بھٹو غریب نواز سینٹر’ قائم کیا اور کتنے ہی غریب طلبہ کو مفت تعلیم دے کر اس قابل بنایا کہ وہ یونیورسٹیوں تک پہنچ سکیں۔ یونیورسٹیوں کے انٹری ٹیسٹ کے نتائج پر ان کی گہری نظر رہتی تھی کہ کہیں تھر کے کسی غریب طالب علم کے ساتھ ناانصافی تو نہیں ہو رہی۔

    سائنس کی درسی کتابوں میں موجود غلطیوں کی مختلف اوقات میں نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ سائیں رانو مل نے آغا وقار کے پانی پر گاڑی چلانے کے مبینہ تجربے کو بھی کھلا چیلنج دیا تھا۔ مختلف اوقات میں انہوں نے میڈیکل کے ٹیسٹ کے نتائج کو دلائل کے ساتھ پریس کانفرنسیں کرکے چیلنج کیا تھا۔ اس وقت اگر رانو مل ملانی زندہ ہوتے تو تھر کے طلبہ کی ذہانت کو جب کراچی سے للکارا جاتا تو طلبہ کے ساتھ سائیں رانو مل ملانی کی پہلی پریس کانفرنس سامنے آتی۔

    شاگردوں کے لیے مشعلِ راہ

    سائیں رانو مل ملانی نے مٹھی ہائی اسکول میں شام کے وقت کچھ دنوں کے لیے مفت ٹیوشن کی کلاسیں شروع کی تھیں۔ اس وقت میں نے سائیں رانو مل کے لیکچر سنے تھے۔ ان لیکچرز کے بعد مختلف اوقات میں دوسرے دوستوں کے ساتھ بھی سائیں رانو مل کو سننے کا موقع ملا۔ سائیں ہم سے سائنسی مضامین کے ساتھ ساتھ ادب اور آرٹ کی باتیں بھی کیا کرتے تھے۔

    رانو مل ملانی کی آنکھوں میں ان کے کمرے میں رکھی کتابوں کے ڈھیر سے بھی کہیں زیادہ بڑے خواب تھے۔ یہ خواب انہوں نے اپنے شاگردوں کی عقاب جیسی تیز آنکھوں میں بونے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کے پاس تھر کے کتنے ہی خاندانوں کی دو سے زیادہ نسلوں نے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے اپنے شاگردوں کو ایک حقیقی ‘کل گرو’ (خاندان کا استاد) کی حیثیت سے گیان کا آشیرواد (دعا) دیتے ہوئے کہا تھا کہ اپنی پوری ایمانداری کے ساتھ جہالت کے اندھیرے کے خلاف مستقل بنیادوں پر لڑنے کی جستجو کرنا۔

    رانو مل کا اپنے شاگردوں کے لیے حکم تھا کہ تعلیم کا سلسلہ جاری رہے اور وہ جہاں بھی ہوں، ثابت قدم رہیں۔ سائنس کے راستے پر چلتے ہوئے اگر کسی کے قدم کمزور ہو کر دوبارہ پرانے وہموں، اندھ وشواس اور جہالت کی طرف گئے تو یہ بات سائیں کو قبول نہیں ہوتی تھی۔

    فکری بلندی اور خوددار شخصیت

    سائیں رانو ملانی کی سرپرستی میں ملانی خاندان نے سیاست کے صحرا میں اپنا راستہ خود بنایا۔ امر جگدیش کمار ملانی، امر موتی رام ملانی، ڈاکٹر مہیش کمار ملانی اور ڈاکٹر منوج ملانی کی کامیابی میں سائیں رانو مل ملانی کی قیمتی رہنمائی کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔

    سائیں رانو مل ایک سیاسی خاندان کے سرپرست ہونے کے باوجود ایک استاد کی حیثیت سے کھلے ذہن کے مالک تھے۔ اگر وہ کسی علمی، ادبی، سیاسی یا سماجی بات پر اعتراض کرتے اور سامنے والا عقلی و منطقی دلائل کی بنیاد پر جواب دیتا تو وہ اتفاق بھی کر لیتے تھے، ورنہ فرماتے تھے کہ یہ آپ کی اپنی رائے ہے اور اسے رکھنا بھی آپ کا بنیادی حق ہے۔ ان کی خوددار طبیعت کی وجہ سے کبھی کبھار اختلافِ رائے کے وقت ان کا لہجہ تھوڑا سخت ہو جاتا تھا۔

    عام و خاص لوگوں میں ان کی مقبولیت ایک نظریاتی و آدرشی شخصیت کے طور پر تھی۔

    2 جولائی 1947 کو مہراج مہادیو کے گھر جنم لینے والے سائیں رانو مل ملانی اپنے پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔

    مہراج مہادیو کی وفات کے بعد وہ ملانی خاندان کے سربراہ تھے۔ خاندان کے ایک بڑے کی حیثیت سے انہوں نے مکمل ذمہ داری نبھانے کی کوشش کی۔ اپنے چھوٹے بھائی اور سیاسی رہنما جگدیش ملانی کی وفات (ویرگتی) کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کو رہائشی کمرے اور ٹیوشن سینٹر تک محدود کر لیا تھا۔ وہ بہت کم وہاں سے نکلتے تھے۔

    سائیں رانو مل ملانی کی تعلیم بی ایس سی اور ایم اے تھی، لیکن خود مطالعے (سیلف اسٹڈی) کے ذریعے انہوں نے بہت زیادہ پڑھا تھا۔

    رابرٹ لیہرمن (Robert Lehrman) کی فزکس، یانگ اینڈ فریڈمین (Young and Freedman) کی یونیورسٹی فزکس، جان ایرینڈ ٹِم (John Arrend Timm) کی کیمسٹری، نیل اے کیمپبیل (Neil A. Campbell) کی بائیولوجی اور اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) کی ‘اے بریف ہسٹری آف ٹائم’ (A Brief History of Time) کو پسند کرنے والے رانو مل ان کتابوں کے ساتھ قرۃ العین حیدر کی کتاب ‘آگ کا دریا’ کو بھی پسند کرتے تھے اور دوسروں کو بھی یہی کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیتے تھے۔

    ان کے قریبی دوستوں میں پروفیسر ریجھومل، پروفیسر ضیاء، پروفیسر خورشید کے کے (KK)، عثمان کھٹھی، پروفیسر روی شنکر (پرنسپل ڈی جے کالج کراچی)، پروفیسر بھوانی شنکر، پروفیسر چینگر گوسوامی، پروفیسر رامچند، یونس ساہڑ، پربھو لال پانچانی، پروفیسر آچارعابد، پروفیسر سائینداد ساند، مہراج جھامن داس اور دیگر شامل تھے۔ لیکن وہ پروفیسر ریجھومل اور پربھو لال کو اپنے خاندان کا فرد سمجھتے تھے۔

    ارجن لال سوٹھڑ اور نصیر کمہار ان کے قریبی نوجوان معاون ساتھی تھے، جنہوں نے سائیں رانو مل کی رہنمائی میں ‘غریب نواز سینٹر’ چلایا۔

    سائیں رانو مل کے سینٹر پر کچھ وقت انجینئر وینجھراج نے بھی پڑھایا، لیکن سائیں ارجن اور سائیں نصیر کمہار آخر تک ان کے ساتھ رہے۔

    رانو مل کی موجودگی میں مٹھی ایک چھوٹی، لیکن غریب نواز ہارورڈ یونیورسٹی لگتی تھی۔ سائیں رانو مل ملانی کی وفات پر مجھے مٹھی میں شاہ لطیف کا یہ بیت یاد آ گیا:

    ‘ڈونگر مون سان روءِ، کڍي پار پنہونءَ جا…’

    (اے پہاڑ! میرے ساتھ رو، پنہون کے پار نکال کر…)

    کارونجھر کا پہاڑ بہت دور تھا، مٹھی کے گڈھی بھٹ نے ٹیگور کی نظم سنانا شروع کر دی۔

    ڈوبتے ہوئے سورج نے پوچھا:

    ‘کوئی ہے جو میرے بعد روشنی کرے؟’

    اس پر جھونپڑی میں موجود ایک دیے نے انکساری سے جواب دیا:

    ‘میں کوشش کروں گا۔’

    مجھے یقین ہے کہ سائیں رانو مل کے ساتھیوں اور شاگردوں میں سے کوئی دیا بن کر سامنے آئے گا اور روشنی کے تسلسل کو قائم رکھنے کی کوشش کرے گا۔