Tag: راجستھان

  • ریگِ صحرا سے ساحلِ سمندر تک: سندھ اور راجستھان کے ازلی تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی اور تجارتی رشتے

    ریگِ صحرا سے ساحلِ سمندر تک: سندھ اور راجستھان کے ازلی تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی اور تجارتی رشتے

    جب سندھ اور راجستھان کے رشتوں پر پلٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض دو ہمسایہ خطوں یا مشترکہ جغرافیائی حدود کا نام نہیں، بلکہ ایک ہی تہذیبی وجود کی دو دھڑکنیں ہیں۔

    مشرق میں راجستھان کے بلند و بالا قلعے، زرد ریت کے ٹیلے اور رنگ برنگی ثقافت ہے تو مغرب میں سندھ کی سرسبز وادی، قدیم بستیاں اور مہران کا شاندار دریا۔ ان دونوں خطوں کے مابین پھیلا ہوا صحرائے تھر کبھی ان کے درمیان رکاوٹ نہیں بنا، بلکہ اس نے صدیوں تک ایک ایسے قدرتی پل کا کردار ادا کیا جس پر دونوں طرف کے قافلے، بولیاں، گیت اور داستانیں بلا روک ٹوک سفر کرتی رہیں۔

    سندھ کی قدیم وادی مہران سے لے کر راجستھان کی راجپوتانہ وسعتوں تک، اور بعد ازاں 19ویں اور 20ویں صدی میں کراچی کی تاریخ ساز گلیوں تک، ان دونوں خطوں کا باہمی تعلق انسان، فطرت اور تجارت کی ایک ایسی لازوال داستان ہے جو وقت اور سیاست کی لکیروں سے بالاتر ہے۔

    قدیم تجارتی روابط: کالی بنگن، موہن جو دڑو اور کھیتڑی کے تانبے کی کہانی

    سندھ اور راجستھان کے تعلقات کی جڑیں قبل از تاریخ کی وادی سندھ کی تہذیب میں پیوست ہیں۔ ہزاروں برس قبل، جب موہن جو دڑو، چھنوں دڑو اور آمری اپنے عروج پر تھے، راجستھان کی سرزمین بھی اسی عظیم تہذیبی دھارے کا حصہ تھی۔ شمال مغربی راجستھان میں دریائے گھاگر، قدیم سرسوتی، کے کنارے آباد ’کالی بنگن‘ کا شمار وادی سندھ کے اہم ترین شہری اور تجارتی مراکز میں ہوتا تھا۔

    ان قدیم شہروں کے درمیان سب سے اہم اور مضبوط بندھن تانبے اور دھات کاری کی تجارت تھی۔ راجستھان کے علاقے جھنجھنو میں واقع ’کھیتڑی‘ کی کانیں اس دور میں برصغیر میں تانبے کا اہم ذریعہ تھیں۔ آثار قدیمہ کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ موہن جو دڑو اور ہڑپہ کے کاریگروں تک تانبے کی خام دھات کھیتڑی کی کانوں سے پہنچتی تھی۔

    وہاں سے آنے والے تانبے سے سندھی دستکار نہ صرف روزمرہ کے اوزار اور آلات بناتے تھے بلکہ وادی سندھ کی مشہور مہریں، برتن اور زیورات بھی تیار کرتے تھے۔

    اس کے علاوہ راجستھان اور گجرات کی سرحدوں سے نایاب پتھر اور سنگ سلیمانی سندھ کے کاریگروں تک لائے جاتے تھے، جہاں ان سے منکے تیار کیے جاتے تھے۔ 

    یہ منکے قدیم دنیا کی مختلف بندرگاہوں اور بین النہرین تک پہنچتے تھے۔ یوں کھیتڑی کا تانبا اور کالی بنگن کے راستے ہونے والی تجارت نے قدیم دنیا میں سندھ اور راجستھان کے معاشی تعلقات کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔

    صحرائے تھر کی جغرافیائی تقسیم اور وسعت

    صحرائے تھر دنیا کے عظیم اور گنجان ترین صحراؤں میں شمار ہوتا ہے، جو تقریباً 200,000 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہے۔ یہ برصغیر کا ایک ایسا عظیم قدرتی خطہ ہے جو پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کا تقریباً 15 فیصد حصہ پاکستان میں واقع ہے، جس کا بڑا حصہ صوبہ سندھ کے اضلاع تھرپارکر، عمرکوٹ، سانگھڑ، خیرپور اور گھوٹکی پر مشتمل ہے، جو رقبے کے لحاظ سے تقریباً 28,000 سے 30,000 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔

     پاکستان میں اس صحرا کا شمالی حصہ پنجاب سے لگتا ہے، جہاں اسے ’صحرائے چولستان‘ یا روہی کہا جاتا ہے۔ اس صحرا کا باقی ماندہ 85 فیصد حصہ بھارت میں واقع ہے، جس کی وسعت راجستھان میں سب سے زیادہ ہے اور اس کا رقبہ تقریباً 120,000 سے 124,000 مربع کلومیٹر ہے، جبکہ کچھ حصہ گجرات، پنجاب اور ہریانہ تک جاتا ہے۔ 

    راجستھان میں یہ صحرا جیسلمیر، جودھپور، بیکانیر اور باڑمیر کے اضلاع کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس سیاسی تقسیم کے باوجود پورا صحرائے تھر ایک وسیع ماحولیاتی و معاشی خطہ ہے، جہاں سرحد کے دونوں پار ریت کے ٹیلے، نباتات اور موسمی خصوصیات میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔

    تاریخی، سیاسی اور سماجی بندھن: عمرکوٹ، سوڈھا راجپوت اور مغل دور

    قرون وسطیٰ اور بعد کے ادوار میں سندھ اور راجستھان کے سیاسی اور سماجی تعلقات نے مزید گہرائی اختیار کی۔ اس رشتے کا ایک اہم مرکز سندھ کا تاریخی شہر ’عمرکوٹ‘ رہا ہے۔ صحرائے تھر کے دہانے پر واقع یہ شہر صدیوں تک سندھیوں اور راجستھانی راجپوتوں کے باہمی اختلاط کا مظہر رہا۔

    عمرکوٹ کی تاریخ ’سوڈھا راجپوت‘ قبیلے کے بغیر ادھوری ہے۔ سوڈھا راجپوتوں کی شاہی اور خاندانی رشتہ داریاں جیسلمیر، جودھپور اور بیکانیر کی راجپوت ریاستوں سے تھیں، جبکہ وہ سندھ کے حکمران خاندانوں، سومرہ، سما، کلہوڑا اور ٹالپر، کے ساتھ بھی قریبی سماجی، سیاسی اور سفارتی تعلقات رکھتے تھے۔

    اسی تاریخی تعامل کی ایک روشن مثال مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کی ولادت ہے۔ 1542 میں جب مغل شہنشاہ ہمایوں شیر شاہ سوری سے شکست کھا کر دربدر پھر رہا تھا تو عمرکوٹ کے راجپوت حکمران رانا پرساد نے اسے پناہ دی اور احترام کے ساتھ اپنے قلعے میں ٹھہرایا، جہاں اکبر اعظم کی ولادت ہوئی۔ 

    یہ واقعہ مغل، سندھ اور راجستھان کے درمیان اس دور کے سیاسی تعلقات کی ایک اہم مثال ہے، جس نے برصغیر کی آنے والی تاریخ پر اثر ڈالا۔

    سیاسی تعلقات کے علاوہ، جب بھی راجستھان میں قحط یا جنگی حالات پیدا ہوتے تو وہاں کے لوگ اونٹوں پر اپنے مال و اسباب کے ساتھ صحرائے تھر کو پار کر کے سندھ کے سرسبز اضلاع، سانگھڑ، میرپورخاص، بدین اور حیدرآباد، کا رخ کرتے، جہاں سندھ کی دھرتی نے ان کے لیے پناہ اور روزگار کے مواقع فراہم کیے۔

    سرحدی برادریاں اور پرانی شادی بیاہ کی روایات

    تھر کے دونوں اطراف بسنے والے لوگوں کی سماجی ساخت بڑی حد تک ایک جیسی ہے۔ سرحد کی دونوں جانب صدیوں سے سندھی اور مارواڑی برادریاں آباد ہیں، جن میں سوڈھا راجپوت، میگھواڑ، بھیل، کولہی، راٹھوڑ، لانگا، منگھنیار اور مسلمان سندھی قبائل، مثلاً سمے، سومرے، مہر، کلہوڑا اور ٹالپر، شامل ہیں۔ راجستھان کے سرحدی اضلاع باڑمیر اور جیسلمیر میں آج بھی بڑی تعداد میں سندھی زبان بولنے والے اور سندھی نژاد لوگ آباد ہیں، جو اپنی روزمرہ بول چال اور ثقافت میں سندھی روایات کے امین ہیں۔ 

    اسی طرح سندھ کے اضلاع تھرپارکر اور عمرکوٹ میں مارواڑی اور ڈھاٹکی بولنے والے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

    صحرائے تھر کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ 1947 کی تقسیم اور بعد کی جنگوں کے باوجود دونوں طرف کی برادریوں کے مابین خاندانی رشتے قائم رہے۔ خصوصاً ’سوڈھا راجپوت برادری‘ میں راجپوتانہ روایات اور گوت کے اصولوں کے تحت ایک ہی گوت میں شادی کرنا ممنوع ہے۔ 

    یہی وجہ ہے کہ سندھ میں رہنے والے سوڈھا راجپوتوں کے رشتے راجستھان، باڑمیر اور جیسلمیر، کے راجپوت خاندانوں میں طے ہوتے ہیں اور راجستھان کے سوڈھاؤں کی شادیاں سندھ میں ہوتی ہیں۔ اسی طرح میگھواڑ، بھیل اور مسلمان قبائل کی قریبی رشتہ داریاں بھی سرحد کے آر پار موجود ہیں، جو اس جذباتی تعلق کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

    راجا کی ریل اور کھوکھرا پار روٹ

    سندھ اور راجستھان کے باہمی تعلقات کی تاریخ میں کھوکھرا پار سندھ اور مونا باؤ راجستھان کی ریلوے لائن ایک علامتی اور تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ نوآبادیاتی دور میں برطانوی حکومت نے 1906 میں حیدرآباد سندھ کو جودھپور راجستھان سے جوڑنے کے لیے یہ میٹر گیج ریلوے لائن بچھائی تھی۔ جودھپور کے مہاراجہ کی سرپرستی اور اس خطے سے گزرنے کی وجہ سے عوامی زبان میں اس ٹرین کو ’راجا کی ریل‘ یا ’جودھپور میل‘ کہا جاتا تھا۔

    یہ ریل گاڑی صرف سفر کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ صحرائے تھر کے سینے پر دو ثقافتوں کو ملانے والی شریان تھی۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ تک کھوکھرا پار روٹ کے ذریعے دونوں طرف کے لوگ نسبتاً آسانی سے آمد و رفت کرتے تھے۔ شادی کے قافلے، تجارتی مال اور بچھڑے ہوئے رشتہ دار اسی ’راجا کی ریل‘ کے ذریعے ایک دوسرے سے ملتے تھے۔

    اگرچہ 1965 میں یہ روٹ معطل ہوا اور بعد میں فروری 2006 میں اسے ’تھر ایکسپریس‘ کے نام سے کچھ عرصے کے لیے بحال بھی کیا گیا، مگر مقامی لوک گیتوں اور شاعری میں ’راجا کی ریل‘ اور کھوکھرا پار کا سفر آج بھی اس تاریخی تعلق کی یادگار ہیں۔

    صحرا کی بانسری اور لوک ادب: سر مومل رانو اور منگھنیار فنکار

    سندھ اور راجستھان کا رشتہ صرف تجارتی اور سیاسی نہیں بلکہ روحانی اور جذباتی بھی ہے۔ دونوں خطوں کی زبان، موسیقی اور لوک داستانیں ایک دوسرے میں اس طرح رچی بسی ہیں کہ انہیں الگ کرنا مشکل ہے۔

    سندھ کے عظیم صوفی شاعر ’شاہ عبداللطیف بھٹائی‘ نے اپنے شاہکار ’شاہ جو رسالو‘ میں راجستھان اور سندھ کی مشترکہ رومانوی اور تاریخی داستانوں کو لازوال بنا دیا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں داستان ’مومل رانو‘ ہے۔ اس داستان کی ہیروئن مومل راجستھان کے علاقے جیسلمیر میں رہنے والی ایک خوبصورت اور ذہین شہزادی تھی۔ 

    مومل نے وہاں اپنی سات بہنوں کے ساتھ مل کر ایک خوبصورت اور طلسمی محل تعمیر کیا تھا جسے ’کاک محل‘ کہا جاتا تھا، جبکہ ہیرو ’رانو میندھرو‘ سندھ کے علاقے عمرکوٹ کا راجپوت شہزادہ تھا۔ شاہ لطیف نے ’سر مومل رانو‘ میں صحرا کے ملاپ، جدائی اور دھرتی کی خوشبو کو صوفیانہ رموز کے ساتھ پرویا ہے۔ 

    اسی طرح ’عمر ماروی‘ اور ’ڈھولا مارو‘ جیسی داستانیں بھی تھر کے دونوں اطراف یکساں عقیدت سے گائی اور سنی جاتی ہیں۔

    زبان و موسیقی کے میدان میں تھرپارکر اور عمرکوٹ کی ’ڈھاٹکی‘ بولی سندھی اور راجستھانی، مارواڑی، کا ایک حسین امتزاج ہے۔ موسیقی کی بات کی جائے تو راجستھان اور سندھ کے صحرائی علاقوں میں آباد ’منگھنیار‘ اور ’لانگا‘ گائیک برادریاں اس مشترکہ موسیقی کی امین ہیں۔ 

    کمائچہ، کھڑتال، الغوزہ اور دھنبورا جیسے روایتی سازوں پر جب منگھنیار فنکار شاہ لطیف کے بیت، سچل سرمست کے کلام یا راجستھانی لوک گیت چھیڑتے ہیں تو صحرا کی خاموشی گونج اٹھتی ہے۔

    کراچی کی گلیوں تک: 19ویں اور 20ویں صدی کی مارواڑی آمد اور شہری نقوش

    19ویں صدی کے وسط میں جب انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کیا اور کراچی کی قدرتی بندرگاہ کو ایک جدید تجارتی مرکز کے طور پر تیار کرنا شروع کیا تو اس نے سندھ اور راجستھان کے رشتوں میں ایک نیا اور تاریخی باب رقم کیا۔ راجستھان کے مارواڑ خطے، جودھپور، جیسلمیر اور جے پور، کے تاجروں، صرافوں اور معماروں نے کراچی کے وسیع تر معاشی امکانات کو فوراً بھانپ لیا۔

    جیسلمیر اور جودھپور سے اونٹوں کے قافلے نصرپور اور حیدرآباد سے ہوتے ہوئے کراچی کے ساحل تک پہنچنے لگے۔ راجستھان سے آنے والے مارواڑی تاجر، بانیہ اور جین برادریوں نے کراچی کے پرانے شہر میں اپنی تجارتی کوٹھیاں قائم کیں۔

    کراچی کی شہری زندگی پر راجستھانی اثرات 

    مارواڑی محلے

    کراچی کے قدیم علاقوں جیسے کھارادر، میٹھادر، رنچھوڑ لائن، برنس روڈ، نیپئر روڈ اور رام سوامی وغیرہ میں مارواڑی، راجپوت اور میگھواڑ برادریوں کے باقاعدہ محلے آباد ہوئے۔ ان تاجروں نے کراچی کی برآمدی و درآمدی تجارت، کپڑے کے کاروبار اور صرافی میں اہم کردار ادا کیا۔

    فن تعمیر اور سنگ تراشی

    راجستھان کے معمار اور سنگ تراش، خصوصاً جودھپور کے کاریگر، اپنے ساتھ جودھپوری زرد اور سرخ پتھر اور نقش و نگار کا روایتی علم لے کر کراچی آئے۔ انہوں نے کراچی کی کلاسیکی عمارتوں کی تعمیر میں نمایاں حصہ لیا۔ پرانے شہر کی عمارتوں کے جھروکے، بالکونیاں، جالیاں اور اینٹوں کا باریک کام راجستھانی اور مغل فن تعمیر کا عکس پیش کرتا ہے۔

    صحراثقافتی و سماجی زندگی

    کراچی کی ان گلیوں میں راجستھانی کھانے، چولی گھاگھرے کے کپڑے، گوٹا پٹی کا کام اور روایتی زیورات کراچی کی شہری ثقافت کا مستقل حصہ بن گئے۔ 1947 کی تقسیم سے قبل تک کراچی کا پرانا شہر سندھی، مارواڑی اور گجراتی تاجروں کی ہم آہنگی کی ایک مثال تھا۔

    خلاصہ کلام یہ کہ سندھ اور راجستھان کا تعلق صرف تاریخی کتب کے ورق تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک زندہ ثقافتی حقیقت ہے۔ وادی سندھ کی قدیم ترین ہڑپائی مہروں سے لے کر کھیتڑی کے تانبے تک، عمرکوٹ کے راجپوت قلعوں سے لے کر شاہ لطیف کے ’سر مومل رانو‘ تک، اور راجستھانی منگھنیاروں کے کمائچے سے لے کر کراچی کے لیاری اور رنچھوڑ لائن کی تاریخی گلیوں تک، یہ رشتہ مسلسل، مربوط اور دیرینہ ہے۔

    سیاسی حدود اور جدید جغرافیائی سرحدیں چاہے کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو جائیں، لیکن صحرائے تھر کی ریت پر لکھی گئی یہ داستان محبت اور تجارت آج بھی یہی بتاتی ہے کہ سندھ اور راجستھان کے درمیان صدیوں پرانے ثقافتی اور سماجی روابط آج بھی کئی شکلوں میں موجود ہیں۔