Tag: ذواالفقار علی بھٹو

  • ذواالفقار علی بھٹو کی مقبول جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا نام سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کی سیاسی جماعت سے لیا گیا تھا؟

    ذواالفقار علی بھٹو کی مقبول جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا نام سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کی سیاسی جماعت سے لیا گیا تھا؟

    کیا آپ کو معلوم ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے نام کی بنیاد سندھ پیپلز پارٹی سے جڑی بتائی جاتی ہے، جس کی قیادت سائیں جی۔ ایم۔ سید کے پاس تھی؟

    پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام سے قبل سندھ میں سندھ پیپلز پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت وجود میں آئی۔ اس جماعت کے پہلے صدر ذوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو نامزد ہوئے، جنہیں بھٹو خاندان کی سیاسی بنیاد رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو نے اسی نام کو اختیار کرتے ہوئے سندھ تک محدود رہنے کے بجائے ملکی سطح پر پاکستان پیپلز پارٹی قائم کی۔

    سندھ پیپلز پارٹی کا قیام سائیں جی۔ ایم۔ سید کی سربراہی میں کراچی میں واقع ان کی رہائش گاہ حیدر منزل میں عمل میں آیا۔ سائیں جی۔ ایم۔ سید کو سندھ کے معروف قوم پرست رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے، اور وہ وہی رہنما تھے جن کی سربراہی میں سندھ قانون ساز اسمبلی سے قرارداد پاکستان منظور کی گئی۔

    سر شاہنواز بھٹو کو سائیں جی۔ ایم۔ سید کی رضامندی سے سندھ پیپلز پارٹی کا صدر مقرر کیا گیا۔

    یہ دن 12 جون 1934 تھا، جب حیدر منزل میں سندھ کے سینئر سیاست دانوں کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سندھ پیپلز پارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔

    اس اجلاس میں سر شاہنواز بھٹو، خان بہادر اللہ بخش سومرو، سید میران محمد شاہ، حاتم علوی، مولا بخش، سید محمد علی شاہ دربیلائی، سید محمد علی شاہ آف مٹیاری، پیر بہادر شاہ اور میزبان سائیں جی۔ ایم۔ سید شریک تھے۔

    اسی اجلاس میں اتفاق رائے سے سندھ پیپلز پارٹی کی تنظیمی ساخت طے کی گئی، جس کے تحت صدر سر شاہنواز بھٹو، نائب صدر خان بہادر اللہ بخش سومرو، اور جنرل سیکریٹری حاتم علوی مقرر کیے گئے۔