برکس کا اٹھارواں سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہوا، جس کی میزبانی بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کی۔ اس اجلاس میں برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، بھارت، انڈونیشیا، ایران، روس، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے شرکت کی، جو اس تنظیم کے آغاز کے بیس سال مکمل ہونے کا عکاس ہے۔ اس سال کا مرکزی خیال لچکدار سفارت کاری،
تعاون اور پائیداری کو فروغ دینا تھا، جو اس بات کا ایک پروقار اندازِ بیان ہے کہ یہ گروپ باقی دنیا کے سامنے خود کو مضبوط اور متحد دکھانا چاہتا ہے۔
آخر میں، تمام ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کیا۔ اس میں مشرقِ وسطیٰ میں امن کا مطالبہ کیا گیا اور سب سے کہا گیا کہ تجارت اور توانائی کی ترسیل کو بلا تعطل جاری رکھیں۔
بظاہر یہ سادہ سی بات لگتی ہے، لیکن اتنے مختلف ممالک کا ایک ہی کمرے میں جمع ہو کر کسی بھی بات پر متفق ہونا آسان نہیں ہوتا، اس لیے یہ واقعی اس گروپ کے لیے ایک چھوٹی سی فتح تھی۔
کیا بھارت اور چین کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں؟
ہاں، اور یہ اس سمٹ کی سب سے بڑی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ تقریباً سات سال میں پہلی بار بھارت آئے۔ یہ ایک بڑی بات ہے کیوں کہ 2020 میں لداخ میں ہونے والے خونی سرحدی تصادم کے بعد سے،جہاں دونوں طرف کے فوجی ہلاک ہوئے تھے،بھارت اور چین کے تعلقات میں شدید تناؤ چلا آ رہا ہے۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان اعلیٰ سطح پر بمشکل ہی بات چیت ہوئی تھی۔
اس سمٹ میں شی اور مودی نے ایک ساتھ بیٹھ کر دوستانہ زبان استعمال کی۔ شی نے کہا کہ یہ تعلقات ایک نئی پیش رفت پر پہنچ چکے ہیں اور مودی سے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو حریف کے بجائے شراکت دار سمجھنا چاہیے۔
مودی نے سرحد پر امن برقرار رکھنے اور پہلے سے موجود معاہدوں پر سختی سے قائم رہنے کی بات کی۔
یہ فضا پچھلے دو سال سے روس اور چین میں ہونے والی سابقہ ملاقاتوں کے ذریعے بن رہی تھی، اور اب معاشی عوامل کی بدولت حالات آہستہ آہستہ سازگار ہو رہے ہیں۔
تاہم، چین اور بھارت کے درمیان ابھی مکمل دوستی قائم نہیں ہوئی۔ دونوں کے درمیان اب بھی اعتماد کا ایک بڑا فقدان ہے۔
بھارت چین سے جتنا سامان خریدتا ہے، اس کے مقابلے میں وہاں بہت کم برآمد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی جانب سے چینی سرمایہ کاری پر بھی پابندیاں عائد ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان حتمی سرحدی حدود کے تعین پر اختلاف اب بھی موجود ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان کا کیا مقام ہے؟
پاکستان اس سمٹ میں شریک نہیں تھا اور نہ ہی برکس کا رکن ہے ۔ اس سال بھارت کے پاس برکس کی صدارت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کو تجارت، ترقی اور ‘گلوبل ساؤتھ’ کے بیانیے کی تشکیل کا بڑا موقع مل گیا ہے، اس میز پر پاکستان کا کوئی نمائندہ موجود نہیں۔
جہاں تک اتحادوں کا تعلق ہے، بھارت امریکہ کے قریب ہے لیکن چین کے نہیں۔ پاکستان چین کے قریب ہے لیکن بھارت کے نہیں۔ بھارت روس کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھتا ہے اور چین کے تعلقات روس سے بہت گہرے ہیں۔
اس طرح ایک عجیب سا مثلث بنتا ہے جہاں چین بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتا ہے، پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے بالکل خلاف ہیں، اور روس سب کا دوست ہے لیکن یوکرین جنگ اور مغربی پابندیوں کی وجہ سے ان دنوں چین کو قدرے ترجیح دیتا ہے۔
اگر بھارت اور چین برکس جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے واقعی اپنے اختلافات مٹا لیتے ہیں تو یہ پاکستان پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
چین تاریخی طور پر پاکستان کا قریبی اتحادی رہا ہے، خاص طور پر سی پیک
جیسے منصوبوں کے ذریعے۔ اگر چین بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات اور بڑے تجارتی حجم کو ترجیح دینا شروع کر دے، تو پاکستان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اس دوستی میں کم اہم شراکت دار نہ بن جائے۔ ساتھ ہی، پاکستان کو جلد برکس میں دعوت ملنے کا بھی کوئی امکان نہیں، کیونکہ بھارت اس کی بھرپور مخالفت کرے گا۔
سی پیک کا کیا حال ہے، اور کیا اس سے چین کے ساتھ تعلقات میں تناؤ ہے؟
سی پیک کو کافی عرصے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ بالخصوص گوادر کے قریب بلوچستان میں چینی ورکرز کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کی وجہ سے چین اپنے شہریوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے حوالے سے پریشان ہے۔
بیجنگ میں اس بات پر بھی مایوسی پائی جاتی ہے کہ پاکستان کی طرف سے فیصلہ سازی کا عمل سست ہے، کرپشن موجود ہے، اور کئی منصوبے طے شدہ وقت سے سالوں پیچھے ہیں۔
عالمی سیاست اور وسیع تر منظر نامے کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
برکس بنیادی طور پر مغرب کی قیادت میں کام کرنے والے گروپوں جیسے کہ جی-7 (امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان) کے متبادل کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی اور عالمی معیشت کے بڑھتے ہوئے حصے کی نمائندگی کرتا ہے، اور اس کا مسلسل پھیلنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مغرب سے باہر کے ممالک بھی عالمی قوانین کی تشکیل میں زیادہ اثر و رسوخ چاہتے ہیں۔
لیکن برکس کو داخلی طور پر ایک ہی صفحے پر رہنے میں اب بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ گروپ یوکرین کے معاملے پر کوئی سخت موقف اپنانے پر متفق نہ ہو سکا، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ روس اس کا ایک بانی رکن ہے۔
برکس نے احتیاط کے ساتھ کسی پر براہِ راست الزام لگانے سے گریز کیا تاکہ کوئی ناراض نہ ہو۔ چنانچہ برکس جہاں ایک طرف اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے، وہیں یہ اکثر جان بوجھ کر ایسے نرم بیانات جاری کرتا ہے ۔
دوسرا بڑا موضوع پیسہ اور پابندیاں ہیں۔ برکس کے ارکان نے ان ممالک کے خلاف آواز اٹھائی جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر یکطرفہ پابندیاں عائد کرتے ہیں۔
یہ موقف گلوبل ساؤتھ کے بہت سے ممالک (بشمول پاکستان) کے اس دیرینہ موقف سے میل کھاتا ہے کہ پابندیاں غیر منصفانہ طور پر استعمال ہوتی ہیں اور حکومتوں کے بجائے اکثر عام لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
آسان الفاظ میں کہیں تو، برکس شاید راتوں رات امریکہ کی قیادت والے عالمی نظام کی جگہ نہ لے سکے، لیکن اس طرح کا ہر اجلاس دنیا کو ایک سے زیادہ طاقت کے مراکز کی طرف ضرور دھکیلتا ہے۔
یہ کہنا بھی بجا ہوگا کہ دنیا ایک بار پھر دو دھڑوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔ کیا برکس مستقبل میں صرف ایک معاشی اتحاد رہنے کے بجائے ’نیٹو‘ کی طرح ایک مکمل فوجی اور سیاسی اتحاد بن جائے گا؟
اگرچہ بھارت اور چین اس وقت ایک دوسرے پر مکمل بھروسہ نہیں کرتے، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ مستقبل کے دامن میں کیا چھپا ہے۔





