Tag: دہشت گردی

  • 6 اپریل 1990: جب کراچی میں ایم کیو ایم کے دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیلی

    6 اپریل 1990: جب کراچی میں ایم کیو ایم کے دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیلی

    بینظیر بھٹو کی حکومت کا پہلا دور تھا۔ ابتدائی دنوں میں مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحادی تھی، لیکن بعد میں ایم کیو ایم پیپلز پارٹی سے الگ ہو کر مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میں شامل ہو گئی۔ اس کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں فسادات اور قتل و غارت کے واقعات شروع ہو گئے۔

    1989 میں ایم کیو ایم کی طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او (APMSO) نے تعلیمی اداروں پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے لیے پرتشدد طریقہ اختیار کیا، جسے پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پی ایس ایف (PSF) کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں کراچی میں تشدد کی ایک نئی لہر جنم لینے لگی۔

    کراچی کے تعلیمی اداروں میں روزانہ طلبہ تنظیموں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں، جو بعد میں مسلح حملوں میں تبدیل ہو گئیں، جن میں کئی نوجوان طلبہ جان سے گئے۔ جولائی 1989 میں کراچی یونیورسٹی میں ایم کیو ایم کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں تین طلبہ اور ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق جبکہ 13 طلبہ زخمی ہوئے۔

    اس کے جواب میں پی ایس ایف کے صدر نجیب احمد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی رہائش گاہ نائن زیرو، عزیزآباد گئے اور وہاں فائرنگ کی۔ اس واقعے کے بعد طلبہ تنظیموں کے درمیان قتل و غارت اور لسانی فسادات میں اضافہ ہو گیا۔

    نتیجتاً فروری 1990 میں کراچی شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ اپریل کا مہینہ نہایت دردناک ثابت ہوا۔ چھ اپریل 1990 کو ایم کیو ایم کے مسلح افراد نے ایک ہی دن میں اندھا دھند فائرنگ کے ایک واقعے میں 16 افراد کو موقع پر قتل کر دیا جبکہ 45 افراد شدید زخمی ہوئے، جن میں پی ایس ایف کراچی کے صدر سید نجیب احمد بھی شامل تھے۔ اس واقعے نے کراچی کو ہلا کر رکھ دیا۔

    پولیس نے فائرنگ کے الزام میں اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم کے کچھ کارکنوں کو گرفتار کر لیا، جن میں ایم کیو ایم کے کونسلر خالد بن ولید بھی شامل تھے۔

    اس موقع پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا اور ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکن بھی اپنے قائد کی حمایت میں بھوک ہڑتال میں شامل ہو گئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے۔ الطاف حسین کی حمایت میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نواز شریف دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ کراچی آئے۔

    صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب شہر میں مسلح جھڑپوں اور فسادات کے خدشے کے پیش نظر فوج طلب کی گئی اور فوجی دستوں نے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ شہر کا کنٹرول سنبھال لیا۔