Tag: دھارسی لوہانہ دھرم شالہ

  • زرد پتھروں کا نوحہ: جوڑیا بازار کا ‘دھارسی لوہانہ دھرم شالہ’ اور کراچی کا گم شدہ اخلاقی آئین

    زرد پتھروں کا نوحہ: جوڑیا بازار کا ‘دھارسی لوہانہ دھرم شالہ’ اور کراچی کا گم شدہ اخلاقی آئین

    سندھو دریا کے ڈیلٹا سے ذرا فاصلے پر واقع کراچی کا جوڑیا بازار آج بھلے ہی صرف ہول سیل مارکیٹ کی ہٹ دھرمی، مصالحوں کی تیز چبھتی خوشبوؤں، اناج کی بوریوں کی نقل و حمل اور تجارتی چیخ و پکار کا ایک بے ہنگم، گنجان اور ساختیاتی طور پر بدصورت مرکز دکھائی دیتا ہو، لیکن اس دم گھونٹتے ہوئے تجارتی ہجوم کے عین درمیان ماضی کا ایک ایسا حصار آج بھی سسکیاں لے رہا ہے جو تقسیم ہند 1947 سے قبل کے کراچی کے فلاحی، اخلاقی اور کثیر الثقافتی چہرے کی خاموش گواہی دیتا ہے۔

    کراچی کی تاریخی پہچان کہلائے جانے والے ‘گزری کے زرد پتھروں’ سے تعمیر شدہ ایک سو برس سے زائد پرانی عمارت کے ماتھے پر، آزادی کے اتنے برسوں بعد بھی، واضح حروف میں گجراتی زبان کا یہ کتبہ کندہ ہے:

    ‘ધારસી હાલાઇ લોહાણા ધમશાળા ૧૯૧૮’

    ترجمہ: دھارسی ہالائی لوہانہ دھرم شالہ 1918

    آزادی کے بعد اردو زبان کے غالب بیانیے اور زبردستی مسلط کردہ حافظے والے اس شہر کے قلب میں گجراتی رسم الخط اور ہندسوں میں لکھی یہ تحریریں محض پتھر پر کھدی ہوئی چند علامات نہیں، بلکہ یہ شہر قائد کے اس مایہ ناز اور گمنام ماضی کا دستاویزی ثبوت ہیں جب یہ بندرگاہی شہر ہندو، مسلم، پارسی اور عیسائی برادریوں کی مشترکہ معاشی دانش اور رواداری پر استوار ہو رہا تھا۔

    لوہانہ تاجر اور 1947 کا تاریخی المیہ

    ‘لوہانہ’ بنیادی طور پر سندھ، گجرات اور کاٹھیاواڑ کے ہندو تاجروں کی ایک انتہائی معزز، متمول، تزویراتی طور پر بیدار اور سخی برادری رہی ہے۔ یہ عمارت 1918 میں، یعنی پہلی جنگ عظیم کے خاتمے اور جدید دنیا کے ابھرنے کے سال، کراچی آنے والے ہندو مسافروں، غریب زائرین اور چھوٹے بیوپاریوں کی پناہ کے لیے ایک فلاحی مسافر خانے کے طور پر قائم کی گئی تھی، تاکہ باہر سے آنے والے کسی اجنبی کو کراچی بے آسرا نہ لگے۔

    لیکن تاریخ کا سب سے سفاک اور دردناک موڑ 1947 میں آیا۔ 1918 میں بنی اس عمارت کے اصل معمار اور رکھوالے، جن کے آباؤ اجداد نے اس بندرگاہی شہر کو عام ملاحوں، مچھیروں اور مزدوروں کی ایک چھوٹی بستی سے بدل کر برصغیر کا سب سے بڑا تجارتی بندرگاہی شہر بنانے میں اپنا خون پسینہ بہایا تھا، ٹھیک 29 برس بعد راتوں رات اپنے عالیشان گھر، محنت سے کھڑے کیے گئے کاروبار اور ایسی سخی دھرم شالائیں ہمارے سپرد کر کے صرف جنونی جتھوں کے ہاتھوں اپنی جانیں بچانے کی خاطر ‘شرنارتھی’ بن کر ہندوستان پہنچے۔

    جو عمارت دوسروں کو آسرا دینے کے لیے بنی تھی، اس کے اپنے وارث خود اپنے ہی وطن سے سدا کے لیے مسافر بن گئے۔

    عامل، بھائی بند اور بین الاقوامی نیٹ ورکس

    ریاست اور 1947 کے بعد کے درباری مورخین نے بھلے ہی اس معاشی تاریخ کو نصاب سے خارج کر دیا ہو، لیکن جوڑیا بازار کی منڈیاں اور زرد پتھروں کے ڈھانچے آج بھی ان تاجروں کی جغرافیائی تزویراتی عقل اور تجارتی مہارت کا اعتراف کرتے ہیں۔

    تقسیم سے قبل کے کراچی میں چیمبر آف کامرس، بینکاری اور ہول سیل منڈیوں کو قائم کرنے میں لوہانہ ہندو تاجروں، جن میں گجراتی اور سندھی لوہانہ شامل تھے، کے کردار کا تجزیہ کیا جائے تو یہ برادری دو بنیادی حصوں میں منقسم تھی۔

    عامل: پڑھے لکھے، نظم و نسق اور بیوروکریسی کو چلانے والے ماہرین۔

    بھائی بند: مقامی اور عالمی تجارت کے منجھے ہوئے کھلاڑی۔

    انہوں نے بمبئی، مسقط اور افریقہ کے جزیرے زنجبار تک بحری راستوں سے کپاس، چاول، مصالحے اور خشک میوہ جات کی برآمد و درآمد کا ایسا پائیدار نیٹ ورک قائم کیا جس کا پیدا کردہ توازن آج بھی کراچی کی ہول سیل مارکیٹ کا ڈھانچہ سنبھالے ہوئے ہے۔

    سیٹھ مولجی جیٹھالال جیسے لوہانہ تاجروں نے 1914 میں کھارادر میں اس دور کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل مارکیٹ قائم کی، جو بعد میں کوچین والا مارکیٹ کہلائی، اور جس سے منسلک ‘مولجی اسٹریٹ’ کا نام بدل کر ‘اسمعیل گیگا روڈ’ کر دیا گیا۔ اسی طرح دھارسی ہالائی جیسے مخیر بیوپاری اپنے منافع کا بڑا حصہ شہر کے بنیادی ڈھانچے، ہسپتالوں اور دھرم شالاؤں پر خرچ کرتے تھے۔

    پرمان’ کا زوال، اخلاقی تجارتی کلچر کا خاتمہ

    تجارتی اور سماجی تاریخ کے شیشے میں دیکھا جائے تو گجراتی زبان کا جوڑیا بازار اور کراچی کی قدیم منڈیوں سے برائے نام غائب ہونا محض ایک لسانی خسارہ نہیں تھا، بلکہ یہ کراچی کے اس روایتی، اخلاقی اور جڑوں سے جڑے کاروباری کلچر کا المناک خاتمہ تھا۔

    پرانے کراچی کے گجراتی بولنے والے لوہانہ، میمن، بوہری اور پارسی تاجروں کا پورا نظام ‘بہی کھاتوں’ پر چلتا تھا جو گجراتی رسم الخط میں تحریر کیے جاتے تھے۔ اس عہد میں چیمبر آف کامرس یا عدالتوں کے چکر کاٹنے کے بجائے ایک زبانی بول کی بنیاد پر لاکھوں روپے کے سودے طے پا جاتے تھے، جسے گجراتی تجارتی لغت میں ‘پرمان’ یعنی وعدہ یا ساکھ کہا جاتا تھا۔

    گجراتی زبان اور لوہانہ تاجروں کے انخلا سے وہ قدیم تجارتی نیٹ ورک بکھر گیا جس کی بنیاد خاندانی اعتبار اور اخلاقی ذمہ داری پر تھی۔ اس کی جگہ ایک ایسے بے لچک اور لٹیرے کاروباری ماحول نے لے لی جہاں تحریری معاہدوں اور قانونی پیچیدگیوں کی موجودگی کے باوجود بدعنوانی، جعلی دستاویزات اور راتوں رات مارکیٹ ڈیفالٹ کر کے فرار ہو جانے کا مذموم رجحان عام ہو گیا۔

    متروکہ املاک کی لوٹ مار اور ‘تطبیقی بحالی’ کا حل

    آج اس تاریخی دھرم شالہ کی پہلی منزل کے نیچے اردو بورڈ والی دکانیں، جیسے ‘ایم ایس ٹریڈرز’، سج چکی ہیں، شٹر گرا دیے گئے ہیں اور اوپری منزلوں کی لوہے کی زنگ آلود سلاخیں اداس کھڑی ہیں۔ یہ پاکستان میں ‘متروکہ وقف املاک’ کا وہ تاریک اور الم ناک پہلو ہے جہاں تاریخی ہندو اور سکھ عمارات بیوروکریٹک بدعنوانی، قانونی تنازعات اور تجارتی لالچ کے گٹھ جوڑ کا شکار ہو کر مٹائی جا رہی ہیں۔ اکثر رات کی تاریکی میں ان عمارتوں پر لگے گجراتی یا گورمکھی کتبے توڑ دیے جاتے ہیں تاکہ ان پر آثارِ ورثہ کے قوانین لاگو نہ ہو سکیں اور انہیں گرا کر بے ہنگم تجارتی پلازے کھڑے کیے جا سکیں۔

    اگر ہم اس بچی کھچی تاریخ کو مٹنے سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں ‘تطبیقی بحالی’ کا جدید ماڈل اختیار کرنا ہوگا۔

    طویل مدتی لیز اور بحالی

    حکومت دکانداروں کو ہٹائے بغیر انہیں اس شرط پر لیز دے کہ وہ عمارت کے بیرونی زرد پتھروں اور گجراتی کتبے کی اصل حالت میں بحالی کے اخراجات خود برداشت کریں گے۔

    کراچی تجارتی عجائب گھر

    عمارت کا ویران اوپری حصہ، جو اس وقت محض گودام بنا ہوا ہے، اسے ایک چھوٹے ‘کراچی تجارتی عجائب گھر’ یا ثقافتی مرکز میں تبدیل کیا جائے۔

    تھری ڈی ڈیجیٹل نقشہ سازی

    کراچی کی تمام متروکہ وقف املاک کی فوری تھری ڈی ڈیجیٹل نقشہ سازی اور جغرافیائی اندراج کیا جائے تاکہ لینڈ مافیا اگر کل کو کوئی کتبہ مٹائے تو قانون کے پاس اس کا اٹل ڈیجیٹل ثبوت موجود ہو۔

    سب سے بڑی اور بنیادی ضرورت اس حاکمانہ ذہنیت کو بدلنے کی ہے کہ ‘یہ ہندوؤں یا غیر مسلموں کا ورثہ ہے، اس لیے اس کی حفاظت ہماری قومی ذمہ داری نہیں’۔ حکومتی و ریاستی مقتدرہ، محققین اور محکمہ تعلیم کو یہ سچ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ زرد پتھر اور گجراتی رسم الخط کسی دوسرے ملک کا اثاثہ نہیں، بلکہ اس مٹی اور کراچی کا اپنا اصل چہرہ ہیں۔

    جب تک ہم تاریخ کو سیکیورٹی اور مذہبی تعصب کی عینک سے دیکھتے رہیں گے، ہم اپنی ہی کثیر الثقافتی جڑوں کو کاٹتے رہیں گے۔ جوڑیا بازار کی یہ خاموش عمارتیں دراصل کراچی کے اسی معاشی، اخلاقی اور ثقافتی المیے کا نوحہ ہیں، جس کی قیمت یہ شہر آج تک چکا رہا ہے۔ (آئی ایس ایم)