Tag: دریا

  • سیاسی کشمکش سے ماحولیاتی المیے تک: دریاؤں میں پھینکی گئی لوہے کی رکاوٹیں، ایک خاموش خطرہ

    سیاسی کشمکش سے ماحولیاتی المیے تک: دریاؤں میں پھینکی گئی لوہے کی رکاوٹیں، ایک خاموش خطرہ

    سیاسی احتجاج، لانگ مارچ، دھرنے اور جلسے جمہوری معاشروں میں معمول کی سیاسی سرگرمیاں ہیں۔ ان مواقع پر حکومتیں امن و امان برقرار رکھنے، اہم تنصیبات کی حفاظت اور ٹریفک کی روانی کو منظم رکھنے کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات کرتی ہیں۔ سڑکوں اور پلوں پر کنٹینرز، لوہے کی رکاوٹیں اور نوکیلے فولادی ڈھانچے نصب کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

    لیکن سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سیاسی سرگرمی ختم ہونے کے بعد یہ رکاوٹیں سڑکوں سے ہٹا کر دریاؤں، نہروں اور دیگر آبی ذخائر میں پھینک دی جاتی ہیں۔ بظاہر ایک راستہ کھل جاتا ہے، مگر اس کے ساتھ ایک نیا، خاموش اور زیادہ خطرناک مسئلہ جنم لیتا ہے۔

    حالیہ واقعات میں سڑکوں اور پلوں پر نصب نوکیلی لوہے کی رکاوٹوں کو پانی میں پھینکے جانے کے مناظر نے ایک اہم سوال ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے: کیا حفاظتی انتظامات کی ذمہ داری صرف احتجاج ختم ہونے اور راستے کھلنے تک محدود ہے؟

    یقیناً حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ حساس مواقع پر امن و امان برقرار رکھے۔ لیکن انتظامی ذمہ داری کا تقاضا یہ بھی ہے کہ کسی کارروائی کے نتیجے میں نیا خطرہ پیدا نہ ہو۔ حفاظتی رکاوٹیں نصب کرنا ایک انتظامی فیصلہ ہو سکتا ہے، مگر ان کا استعمال ختم ہونے کے بعد انہیں محفوظ مقام پر واپس پہنچانا بھی اسی فیصلے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔

    حفاظتی کارروائی اس وقت ختم نہیں ہوتی جب سڑک کھل جائے؛ یہ اس وقت مکمل ہوتی ہے جب خطرہ مکمل طور پر ختم ہو جائے۔

    دریا میں پھینکا گیا لوہے کا ایک نوکیلا ٹکڑا شاید فوری طور پر کسی کو دکھائی نہ دے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بے ضرر ہو گیا۔ پانی کی تہہ میں چھپا ہوا فولادی ٹکڑا کسی تیرنے والے شخص، ماہی گیر، بچے یا پانی میں اترنے والے عام شہری کے لیے سنگین حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔

    گدلے پانی، گہرے دریاؤں اور تیز بہاؤ والے علاقوں میں پانی کے اندر موجود ایسی اشیا کا اندازہ لگانا تقریباً ناممکن ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ پانی کا بہاؤ ان رکاوٹوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کر سکتا ہے۔ یوں جس جگہ پر یہ سامان پھینکا گیا، خطرہ ضروری نہیں کہ وہیں رہے؛ وہ دریا کے بہاؤ کے ساتھ مزید دور تک سفر کر سکتا ہے۔

    یہ مسئلہ صرف انسانی جانوں تک محدود نہیں۔ دریاؤں اور نہروں کا اپنا ایک مکمل ماحولیاتی نظام ہوتا ہے۔ مچھلیاں، آبی پودے، چھوٹے جاندار اور دیگر حیاتیاتی انواع اسی نظام کا حصہ ہیں۔ پانی میں پھینکے گئے لوہے کے ڈھانچے ان جانداروں کو زخمی کر سکتے ہیں، آبی پودوں میں پھنس سکتے ہیں اور قدرتی ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    وقت کے ساتھ دھات زنگ آلود ہوتی ہے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے۔ اس لیے یہ تصور کرنا بھی درست نہیں کہ پانی میں پھینکا گیا لوہا محض ایک بے ضرر چیز ہے جو وقت کے ساتھ خود بخود غائب ہو جائے گا۔ پاکستان پہلے ہی آبی آلودگی، صنعتی اور گھریلو فضلے اور پانی کے وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں مزید خطرناک دھاتی فضلے کو دریاؤں میں ڈالنا کسی بھی صورت دانش مندانہ طرز عمل نہیں۔

    اس مسئلے کا ایک کم زیر بحث پہلو مویشی بھی ہیں۔

    پاکستان کے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں دریا اور نہریں انسانوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کی زندگی کا بھی اہم حصہ ہیں۔ گائیں، بھینسیں، بکریاں اور دیگر جانور پانی پینے کے لیے ان آبی ذرائع کا رخ کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ پانی کے نیچے کوئی نوکیلا لوہے کا ٹکڑا چھپا ہوا ہے۔

    ایسی رکاوٹیں جانوروں کے پاؤں زخمی کر سکتی ہیں، گہرے زخم کا باعث بن سکتی ہیں اور بعض صورتوں میں ان کی زندگی بھی خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ غریب کسان اور مویشی پالنے والے خاندانوں کے لیے ایک گائے یا بھینس محض ایک جانور نہیں بلکہ آمدنی اور روزگار کا ذریعہ ہوتی ہے۔ چنانچہ کسی جانور کو پہنچنے والا نقصان ایک خاندان کے معاشی مسائل میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔

    یہاں ایک بنیادی اصول کو سمجھنا ضروری ہے:

    ایک جگہ سے خطرہ ہٹا کر دوسری جگہ منتقل کرنا خطرے کا خاتمہ نہیں۔

    اگر سڑک سے رکاوٹ ہٹا کر دریا میں پھینک دی جائے تو سڑک تو صاف ہو جاتی ہے، مگر دریا کے اندر ایک نیا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جو چیز پہلے سب کو نظر آ رہی تھی، اب پانی کے نیچے چھپ جاتی ہے — اور شاید اسی لیے زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔

    اس معاملے میں عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے خطرناک سامان کو دریاؤں، نہروں، نالوں یا قدرتی مقامات پر نہ پھینکیں۔ تاہم، جب حفاظتی رکاوٹیں سرکاری انتظامات کے تحت نصب کی گئی ہوں تو ان کے محفوظ انتظام اور واپسی کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ سرکاری اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے تمام مقامات کا فوری سروے کیا جائے جہاں حالیہ حفاظتی کارروائیوں کے دوران لوہے کی رکاوٹیں استعمال کی گئی تھیں۔ دریاؤں، نہروں اور پلوں کے اطراف کا معائنہ کیا جائے اور اگر کوئی خطرناک سامان پانی میں موجود ہو تو اسے ماہر عملے اور مناسب مشینری کے ذریعے نکالا جائے۔

    صرف سامان نکال لینا کافی نہیں۔ متاثرہ علاقوں کی دوبارہ جانچ بھی ضروری ہے تاکہ پانی کی تہہ میں کوئی نوکیلا ٹکڑا باقی نہ رہ جائے۔ جہاں ضرورت ہو، وہاں ماحولیاتی ادارے پانی کے معیار اور آبی حیات پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیں۔

    ساتھ ہی مستقبل کے لیے واضح انتظامی ضابطہ وضع کیا جانا چاہیے، جس میں حفاظتی رکاوٹوں کی تنصیب سے لے کر ان کی واپسی، منتقلی، ذخیرہ اور محفوظ تلفی تک ہر مرحلے کی ذمہ داری متعین ہو۔

    سیاسی احتجاج ختم ہو جاتے ہیں۔ حکومتیں بدل جاتی ہیں۔ راستے بند ہوتے ہیں اور پھر کھل جاتے ہیں۔ کنٹینر ہٹا دیے جاتے ہیں اور زندگی دوبارہ معمول پر آ جاتی ہے۔

    لیکن دریا باقی رہتے ہیں۔

    وہ نسل در نسل بہتے ہیں۔ ان کے پانی سے انسانوں کی زندگی وابستہ ہے، زراعت کا نظام چلتا ہے، مویشی اپنی پیاس بجھاتے ہیں اور آبی حیات اپنا وجود برقرار رکھتی ہے۔

    اس لیے یہ مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کا نہیں۔ یہ ریاستی ذمہ داری، انسانی سلامتی اور ماحولیاتی شعور کا سوال ہے۔

    سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، احتجاج شہری حق ہے اور حفاظتی انتظام حکومت کی ضرورت ہو سکتی ہے؛ مگر ان سب کے درمیان قدرتی ماحول کو خاموش فریق بنا دینا کسی صورت درست نہیں۔

    دریا میں پھینکا گیا ہر نوکیلا لوہے کا ٹکڑا محض ایک بے کار شے نہیں۔ وہ کسی بچے، ماہی گیر، تیرنے والے شخص، کسان یا جانور کے لیے ایک چھپا ہوا خطرہ ہے۔

    احتجاج ختم ہو جائیں گے، کنٹینر ہٹا دیے جائیں گے، سڑکیں کھل جائیں گی — مگر دریا کی تہہ میں چھوڑا گیا خطرہ شاید برسوں باقی رہے۔

    اقتدار کی کشمکش عارضی ہوتی ہے، مگر فطرت کو پہنچنے والے نقصان کی قیمت اکثر آنے والی نسلیں ادا کرتی ہیں۔

  • لیاری کو اس کی جگہ واپس دیں، ورنہ دریا اپنی جگہ خود بنا لے گا

    لیاری کو اس کی جگہ واپس دیں، ورنہ دریا اپنی جگہ خود بنا لے گا

    شہر دریا نہیں بناتے، دریا شہروں کو جنم دیتے ہیں۔ مگر جب شہر پھیلتے پھیلتے دریاؤں کی گزرگاہیں چھین لیتے ہیں تو ایک دن یہی دریا اپنے وجود کا حساب مانگتے ہیں۔

    کراچی آج اسی امتحان کے دہانے پر کھڑا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ لیاری ندی کو صاف رکھا جائے یا اس کے کناروں کو خوب صورت بنایا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کراچی لیاری کو اس کی وہ جگہ واپس دینے کے لیے تیار ہے جو کبھی اس کا قدرتی حق تھی؟

    دریائے لیاری کراچی کے قدیم ترین قدرتی نکاسی آب کے نظاموں میں سے ایک ہے۔ یہ تقریباً 50 کلومیٹر طویل قدرتی گزرگاہ ہے، جس کا قدرتی بستر کئی مقامات پر تقریباً 150 میٹر تک چوڑا رہا ہے۔ مگر بڑھتی ہوئی آبادی، بے ہنگم تعمیرات، تجاوزات اور کچرے نے رفتہ رفتہ اس قدرتی راستے کو سکیڑ دیا۔ آج کئی مقامات پر اس کی چوڑائی صرف 15 سے 35 میٹر تک رہ گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب بارش کا پانی اپنی پرانی گزرگاہ تلاش کرے گا تو وہ کہاں جائے گا؟

    اسلام آباد اور راولپنڈی کا نالہ لئی ہمیں اس سوال کا خوف ناک جواب دے چکا ہے۔ یکم اور 2 ستمبر 2026 کو ہونے والی شدید بارشوں کے دوران نالہ لئی میں پانی کی سطح 29.5 فٹ تک پہنچ گئی۔ گھروں اور دکانوں میں کئی فٹ پانی داخل ہوا، شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ محض ایک قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ شہری منصوبہ بندی کے لیے ایک انتباہ بھی تھی۔

    جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے ریکارڈ کے مطابق 1944 سے 2004 تک نالہ لئی میں سیلاب کے 19 بڑے واقعات رونما ہوئے۔ 23 جولائی 2001 کو صرف 10 گھنٹوں میں 620 ملی میٹر بارش ہوئی، 74 افراد جاں بحق ہوئے اور تقریباً 3,000 مکانات تباہ یا متاثر ہوئے۔ یہ اعداد ہمیں بتاتے ہیں کہ قدرتی آبی گزرگاہ کو محدود کرنا دراصل مستقبل کے سانحے کو دعوت دینا ہے۔

    کراچی کو یہ سبق کسی اور شہر سے سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ لیاری خود اس کی اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

    لیاری ایکسپریس وے، صرف شاہراہ نہیں بلکہ ایک شہری دفاع

    لیاری ایکسپریس وے تقریباً 16.5 کلومیٹر طویل منصوبہ ہے جو سہراب گوٹھ سے موری پور تک پھیلا ہوا ہے۔ اس منصوبے کو عموماً ٹریفک کے متبادل راستے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ منصوبے کے دوران دریا کے کوریڈور کی 255 ایکڑ سے زائد زمین واپس حاصل کی گئی۔ تقریباً 15,000 مکانات منہدم ہوئے اور 24,400 خاندانوں کو منتقل کیا گیا۔

    اس منصوبے نے یہ ثابت کر دیا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور قدرتی نکاسی آب کے نظام کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کا معاون بنایا جا سکتا ہے۔

    لیاری ایکسپریس وے کا بنیادی مقصد کراچی پورٹ اور سپر ہائی وے کے درمیان بھاری ٹریفک کے لیے ایک متبادل اور تیز رفتار راستہ فراہم کرنا تھا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی تصور کو آگے بڑھایا جائے۔

    اگلا قدم، ناردرن بائی پاس تک توسیع

    سہراب گوٹھ سے ناردرن بائی پاس تک لیاری کوریڈور کا باقی حصہ کراچی کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اگر اس حصے میں دریا کا اصل فلڈ کوریڈور بحال کیا جائے اور اس کے دونوں اطراف مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ شاہراہیں تعمیر کی جائیں تو ایک ہی منصوبے سے دو بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں، سیلاب اور ٹریفک۔

    ایسی شاہراہ مال بردار اور شہر سے گزرنے والی ٹریفک کو مقامی ٹریفک سے الگ کر سکتی ہے، کراچی پورٹ اور صنعتی علاقوں تک رسائی بہتر بنا سکتی ہے اور شہر کی موجودہ شاہراہوں پر دباؤ کم کر سکتی ہے۔ دوسری طرف دریا کو اس کا قدرتی راستہ واپس مل سکتا ہے۔

    یہ صرف ایک سڑک نہیں ہوگی۔ یہ سیلابی پانی کے انتظام، ٹرانسپورٹ منصوبہ بندی، شہری ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کا مربوط منصوبہ ہو سکتا ہے۔

    دنیا نے دریاؤں سے سمجھوتہ نہیں، راستہ نکالا

    دنیا کے ترقی یافتہ شہر اس حقیقت کو بہت پہلے سمجھ چکے ہیں کہ دریا کو ختم نہیں کیا جا سکتا، صرف اس کے ساتھ بہتر انداز میں رہنا سیکھا جا سکتا ہے۔

    نیدرلینڈز میں ’روم فار دی ریور‘ پروگرام کے ذریعے دریاؤں کو مزید جگہ فراہم کی گئی، رکاوٹیں دور کی گئیں اور سیلابی میدان بحال کیے گئے۔ نائیمیخن میں دریا کے لیے جگہ پیدا کرنے کی خاطر بند کو تقریباً 350 میٹر پیچھے منتقل کیا گیا اور تقریباً 50 مکانات ہٹانے پڑے۔

    جاپان نے بھی ٹوکیو کو سیلاب سے بچانے کے لیے تقریباً 22 کلومیٹر طویل اراکاوا فلڈ وے تعمیر کیا۔ اس منصوبے کے لیے تقریباً 1,300 خاندانوں کو منتقل کیا گیا اور 1,098 ہیکٹر زمین حاصل کی گئی۔

    ان مثالوں کا بنیادی سبق ایک ہی ہے: جب شہر دریا کے لیے جگہ نہیں چھوڑتا تو ایک دن دریا شہر سے اپنی جگہ واپس لے لیتا ہے۔

    اب فیصلہ کراچی نے کرنا ہے

    سندھ حکومت کو چاہیے کہ لیاری کوریڈور، خصوصاً سہراب گوٹھ سے ناردرن بائی پاس تک کے حصے کا فوری طور پر جامع لائڈار، کیڈسٹرل، ٹوپوگرافک، ہائیڈرولوجیکل اور ہائیڈرولک سروے کرائے۔ اس سروے کی بنیاد پر دریا کے اصل فلڈ کوریڈور کی حدود متعین کی جائیں اور اسے مستقل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔

    تجاوزات کا خاتمہ ضروری ہے، لیکن اس عمل میں جائز آبادکاروں کے حقوق کو بھی قانون کے مطابق تحفظ، معاوضہ اور مناسب آبادکاری فراہم کی جانی چاہیے۔

    ہمیں لیاری کو صرف ایک نالے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ کراچی کے قدرتی دفاع کا حصہ ہے۔ اس کا فلڈ پلین کراچی کے لیے وہی اہمیت رکھتا ہے جو ایک شہر کے لیے حفاظتی دیوار رکھتی ہے۔

    کراچی کو آج ایک مشکل مگر دور اندیش فیصلہ کرنا ہوگا۔ لیاری کو جگہ دیں، پانی کو راستہ دیں اور ٹریفک کو متبادل راستہ دیں۔

    اگر ہم آج لیاری کو اس کی مطلوبہ جگہ واپس دینے میں ناکام رہے تو ممکن ہے کل دریا اپنی جگہ خود واپس لے لے۔ پھر نقصان کا حساب زمین کے ایکڑوں یا اربوں روپے میں نہیں ہوگا۔

    اس کی قیمت انسانی جانوں میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

    اور قوموں کی تاریخ میں کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بعد میں اربوں روپے خرچ کرکے بھی درست نہیں کیا جا سکتا۔