Tag: درسی کتابیں

  • زاویہ: پاکستان اور بھارت کی درسی کتابیں،ایک موازنہ

    زاویہ: پاکستان اور بھارت کی درسی کتابیں،ایک موازنہ

    بچپن سے ہم یہی سنتے آ رہے ہیں کہ بھارت کتنا برا ہے، وہ ہمارا کتنا بڑا دشمن ہے، یہاں تک کہ اگر درخت سے کوئی پتہ بھی گرتا ہے تو اس کا قصوروار کسی نہ کسی طرح بھارت ہی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔

     یہی سب کچھ بھارتیوں کو پاکستان کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔

     بھارت اور پاکستان کے معاشرتی علوم کے نصاب میں یہ ایک مشترکہ عنصر ہے جو  ظاہر کرتا ہے کہ کتنی ہوشیاری سے تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔

     بچپن اور لڑکپن میں ہم اکثر یہ بات کرتے تھے کہ کس طرح انگریزوں نے برصغیر پرحملہ کیا اور ہندو مسلمان دونوں کو غلام بنایا۔

    پھر میرا تعارف مطالعہ پاکستان سے ہوا۔ یہ دیکھ کر شدید جھٹکا لگا کہ غیرمنقسم ہندوستان کی تاریخ کو اس طرح لکھا گیا کہ جیسے سارا قصور صرف ہندوؤں (یعنی موجودہ بھارت) کا تھا۔ اس میں دکھایا گیا کہ انہوں نے کیسے مسلمانوں سے ملازمتوں کے مواقع، تعلیم اور تجارت کے حقوق چھین لیے اور مسلمانوں پر ظلم کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ اس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا مسلمان واقعی اتنے ہی مظلوم اور دب کر رہنے والے تھے؟

    میری اسی جستجو نے مجھے بھارت کے سوشل اسٹڈیز کے ماہرینِ تعلیم کی تحریریں پڑھنے پر ابھارا۔ انہیں پڑھ کر ایسا لگا جیسے میں اپنی ہی پرانی درسی کتاب پڑھ رہی ہوں، بس فرق یہ تھا کہ وہاں بھارت اور پاکستان کے نام آپس میں بدل دیے گئے تھے۔ یہ دیکھ کر ہنسی بھی آتی ہے کہ دونوں حکومتیں اس نفرت کو زندہ رکھنے کے لیے کتنی سخت محنت کرتی ہیں۔

    لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بچوں اور عام شہریوں کے ذہنوں کو بدل کر انہیں کیا حاصل ہوتا ہے؟ سیاست دانوں کے لیے تو یہ ان کی کرسیاں برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔ جہاں تک اساتذہ کا تعلق ہے، تو پرانی نسل خود اس پروپیگنڈے کا شکار رہی ہے، ان میں سے بہت سے لوگ،سب تو نہیں لیکن ایک بڑی تعداد، واقعی ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔

    بھارت اور پاکستان کی اس نفرت سے اصل فائدہ مغربی ملک اٹھاتے ہیں۔ ذرا اس پورے نظام کو دیکھیں: ہتھیاروں کی فروخت، پابندیاں، اور ایسی جنگیں جن کی کوئی ضرورت نہیں

     جب بھی بھارت اور پاکستان کا ٹکراؤ ہوتا ہے، مغربی ممالک امن قائم کرنے والے بن کر سامنے آتے ہیں، سیز فائر اور تجارتی معاہدے کرواتے ہیں، اور اس دوران دونوں کو ہتھیار بیچتے ہیں۔

    اگر یہ دونوں ملک  اپنے اختلافات ختم کر کے سیاست، تجارت، سفر، ٹیکنالوجی یا ثقافت میں ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد بنا لیں، تو وہ دوبارہ اتنے ہی مضبوط ہو جائیں گے جتنا کبھی یہ برصغیر ہوا کرتا تھا۔

    یہ سب راتوں رات تو نہیں ہو سکتا، لیکن ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اب نئی نسل کی اکثریت یہ سمجھنے لگی ہے کہ بھارت یا پاکستان سے نفرت کرنا کوئی فطری بات نہیں، بلکہ ان کے حقیقی جذبات اور جوانی کو کسی اور کے مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    الیکٹرانک میڈیا اور تعلیمی نظام ایسے اوزار ہیں جو حکومتوں کے کنٹرول میں ہوتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا ان کے قابو میں نہیں ہے۔ سوشل میڈیا وہ حقیقت دکھاتا ہے کہ کیوں بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے سے نفرت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

    تصور کریں، اگر بھارت اور پاکستان دوست بن گئے تو معاشی لحاظ سے دنیا میں سب سے اوپر کون ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جو دونوں حکومتیں نہیں چاہتیں کہ ہم کبھی پوچھیں۔