Tag: دارالحکومت

  • اسلام آباد: منصوبہ بندی سے قائم کیا جانے والا شہر

    اسلام آباد: منصوبہ بندی سے قائم کیا جانے والا شہر

    پاکستان کے قیام کے بعد کراچی کو دارالحکومت بنایا گیا، مگر وقت کے ساتھ یہ احساس بڑھتا گیا کہ ایک نیا، محفوظ اور منظم دارالحکومت درکار ہے۔ سنہ 1960 میں فیصلہ ہوا کہ دارالحکومت کراچی سے منتقل کیا جائے۔ مقصد ایک ایسا شہر بنانا تھا جو انتظامی فیصلوں کے لیے موزوں ہو اور سیاسی و حکومتی سرگرمیوں کا مرکز بن سکے۔

    اس مقام کے انتخاب میں جغرافیہ، موسم اور دفاعی پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا۔ مارگلہ کے پہاڑ، قدرتی نالے، سرسبز زمین اور نسبتاً معتدل موسم اس علاقے کی خاص پہچان تھے۔ اس سے پہلے یہاں چھوٹے گاؤں، کھیت اور کھلی زمین موجود تھی۔ یہی خاموش فضا بعد میں ایک منظم شہر کی بنیاد بنی۔

    اسلام آباد کو ایک واضح تصور کے تحت ڈیزائن کیا گیا۔ شہر کو باقاعدہ سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا، جہاں ہر سیکٹر کو ایک مکمل محلہ سمجھا گیا۔ ہر سیکٹر میں رہائش، بازار، مسجد، اسکول اور پارک رکھے گئے تاکہ روزمرہ زندگی کے لیے طویل سفر کی ضرورت نہ پڑے۔

    یہ منصوبہ بندی صرف عمارتوں تک محدود نہیں تھی۔ شہر کو پیدل چلنے کے اصول پر ڈیزائن کیا گیا تاکہ شہری زندگی میں آسانی رہے اور نقل و حرکت دباؤ کا باعث نہ بنے۔ سڑکوں کا جال، رہائشی فاصلے اور سبز مقامات سب ایک مربوط نظام کا حصہ تھے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام آباد کو ابتدا میں ایک پرسکون شہر کے طور پر تصور کیا گیا تھا۔ یہاں بھاری صنعتیں لگانے کا منصوبہ نہیں تھا۔ یہ شہر حکومتی کام، پالیسی سازی اور انتظامی امور کے لیے مخصوص رکھا گیا تاکہ شور اور آلودگی سے بچا جا سکے۔

    ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ فیصل مسجد شہر کے ابتدائی منصوبے کا حصہ نہیں تھی۔ بعد میں اسے شامل کیا گیا، اور وقت کے ساتھ یہ نہ صرف اسلام آباد بلکہ پورے پاکستان کی علامت بن گئی۔

    اسلام آباد کی گرین بیلٹس صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بنائی گئیں۔ ان کا مقصد ہوا کے قدرتی بہاؤ کو برقرار رکھنا، درجہ حرارت کو متوازن رکھنا اور شہریوں کو کھلی فضا فراہم کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شہر آج بھی نسبتاً کم درجہ حرارت اور صاف ماحول کے لیے جانا جاتا ہے۔

    یہاں تک کہ قبرستانوں کی جگہ بھی پہلے سے طے کی گئی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ شہر بے ترتیب انداز میں نہ پھیلے اور زندگی کے تمام مراحل ایک نظم کے تحت رہیں۔