خیرپور میں مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، شہید ذوالفقار علی بھٹو کیمپس کے ایک طالب علم کی یہ کوشش محض ایک تعلیمی پراجیکٹ نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
الیکٹرانک ڈیپارٹمنٹ کے فائنل ایئر کے طالب علم سید اویس شاہ نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک ایسا روبوٹک سسٹم تیار کیا ہے جو لیزر گن سے لیس ہے اور بغیر گولہ بارود کے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ سسٹم زمین اور فضا میں موجود اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ ٹارگٹ کر سکتا ہے۔
سید اویس شاہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک پروٹوٹائپ ہے، جسے انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے اس انداز میں تیار کیا ہے کہ یہ روایتی بلیسٹک ویپن سسٹمز کا متبادل بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے دوست اور دشمن کی شناخت ممکن ہے، جس سے سیکیورٹی آپریشنز میں جانی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔
اس سسٹم کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ بارودی مواد کے بغیر کام کرتا ہے، جس سے روایتی ہتھیاروں کے مقابلے میں ایک مختلف اور کنٹرولڈ طریقہ سامنے آتا ہے۔ تاہم یہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ایک تجرباتی ماڈل ہے جسے عملی سطح پر لانے کے لیے مزید تحقیق اور وسائل درکار ہوں گے۔
دنیا کے چند ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی اس نوعیت کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں، اور اگر پاکستان میں بھی اس سمت میں سنجیدہ پیش رفت کی جائے تو یہ دفاعی شعبے میں نئی جہت پیدا کر سکتی ہے۔
ساگا ڈیجیٹل ایسے نوجوان ذہنوں کی کہانیاں سامنے لاتا ہے جو محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھتے ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل، جہاں مقامی کہانیاں مستقبل کی سمت دکھاتی ہیں۔


