Tag: خیرپور

  • ریاستِ خیرپور کے آخری حکمران میر مراد علی ٹالپر کو خراجِ عقیدت: ایک ریاست، آٹھ حکمران اور پونے دو صدیوں کا علمی، ثقافتی اور عوامی ورثہ

    ریاستِ خیرپور کے آخری حکمران میر مراد علی ٹالپر کو خراجِ عقیدت: ایک ریاست، آٹھ حکمران اور پونے دو صدیوں کا علمی، ثقافتی اور عوامی ورثہ

    سابق ریاستِ خیرپور کے آخری حکمران، ہز ہائنس میر جارج علی مراد خان ٹالپر دوم، پانچ اکتوبر 2026 کی شام سکھر کے ایک نجی ہسپتال میں 93 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    یہ محض ایک سابق حکمران کی وفات نہیں، بلکہ سندھ کی ریاستی تاریخ سے جڑی ان آخری زندہ کڑیوں میں سے ایک کی جدائی بھی ہے، جنہوں نے برصغیر کی تاریخ کو بدلتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ان کے ساتھ ایک ایسا عہد بھی تاریخ کے اوراق میں سمٹ گیا جس کی جڑیں اٹھارہویں صدی کے سندھ میں پیوست تھیں۔

    میر جارج علی مراد خان ٹالپر دوم وہ شخصیت تھے جنہوں نے خیرپور کو ایک خودمختار نوابی ریاست کی حیثیت سے دیکھا، اسے پاکستان کا حصہ بنتے دیکھا اور پھر 1955 میں ون یونٹ کے قیام کے ساتھ اس کی الگ سیاسی شناخت کا خاتمہ بھی دیکھا۔

    ان کی زندگی ایک لحاظ سے ریاستِ خیرپور کے آخری باب اور جدید سندھ کے ابتدائی ابواب کے درمیان ایک زندہ پُل تھی۔

    میر صاحب اپنے پیچھے دو بیٹے، پرنس میر عباس رضا خان ٹالپر اور پرنس میر مہدی رضا خان ٹالپر، اور صاحبزادی پرنسس زہرہ ٹالپر سمیت خاندان، عزیز و اقارب، دوست اور بے شمار چاہنے والے چھوڑ گئے ہیں۔

    وہ 29 جون 1933 میں برائٹن، انگلینڈ میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم برصغیر اور برطانیہ کے تعلیمی ماحول سے وابستہ رہی، جبکہ زندگی کے آخری کئی عشرے خیرپور اور ٹالپر خاندان کے تاریخی ورثے، بالخصوص فیض محل، سے جڑے رہے۔

    خیرپور کے اس آخری میر کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس ریاست کی تقریباً پونے دو صدیوں پر محیط تاریخ کی طرف لوٹنا ہوگا۔

    ریاستِ خیرپور کی بنیاد 1783 میں میر سہراب خان ٹالپر نے رکھی۔ ٹالپروں کی سہرابانی شاخ کی اس ریاست پر بالترتیب میر سہراب خان ٹالپر، میر رستم علی خان ٹالپر، میر علی مراد خان ٹالپر اول، میر فیض محمد خان ٹالپر اول، میر امام بخش خان ٹالپر، میر علی نواز خان ٹالپر ‘ناز‘، میر فیض محمد خان ٹالپر دوم اور میر جارج علی مراد خان ٹالپر دوم حکمران رہے۔

    تاریخی ماخذ ان آٹھ حکمرانوں کے بعض ابتدائی ادوار کی تاریخوں کے بارے میں معمولی اختلاف رکھتے ہیں، لیکن حکمرانوں کا یہ سلسلہ مجموعی طور پر مسلمہ ہے۔

    خیرپور کی تاریخ سندھ کی دوسری ریاستی تاریخ سے ایک اہم اعتبار سے مختلف ہے۔ 1843 میں جب برطانوی افواج نے سندھ کے بیشتر حصے پر قبضہ کرلیا، تب بھی خیرپور اپنی نوابی ریاست کی حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ برطانوی بالادستی کے باوجود اس کا اپنا حکمران، انتظامی نظام اور مقامی ادارے قائم رہے۔

    ریاست مختلف تعلقوں میں تقسیم تھی اور گمبٹ اس انتظامی ڈھانچے کا ایک اہم تعلقہ تھا۔

    خیرپور کے میروں کے عہد کو صرف محلات، شاہی درباروں، شکار گاہوں اور سیاسی اقتدار کے آئینے میں دیکھنا اس تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ اس دور کی اصل اہمیت ان اداروں، روایات اور سماجی سرمایہ کاری میں بھی تلاش کرنی چاہیے جو آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑی گئی۔

    اس حوالے سے تعلیم کا شعبہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ میر امام بخش خان کے زمانے تک ریاست میں 98 سے زیادہ اسکولوں کا ذکر ملتا ہے جہاں تعلیم مفت تھی۔ طلبہ کو کھانے، رہائش اور بورڈنگ جیسی سہولیات بھی فراہم کی جاتی تھیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ایک نسبتاً چھوٹی ریاست کی جانب سے تعلیم پر اس نوعیت کی توجہ محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ سماجی ترقی میں ایک قابلِ ذکر سرمایہ کاری تھی۔

    تعلیم کا تصور بھی صرف پڑھنا لکھنا سکھانے تک محدود نہیں تھا۔ اسکولوں میں سائنس، ادب، اخلاقی تربیت اور جسمانی سرگرمیوں پر توجہ دی جاتی تھی۔ کئی تعلیمی اداروں کے ساتھ باغات اور کھیل کے میدان قائم کیے گئے اور بعض کے پاس کرکٹ کے میدان بھی تھے۔ خیرپور کے حکمران علی گڑھ سمیت برصغیر کی مختلف تعلیمی تحریکوں اور اداروں کی مالی معاونت کرتے رہے۔ مذہبی مدارس کے ساتھ سندھی اور انگریزی تعلیم کی سرپرستی بھی کی جاتی تھی۔

    اسی تعلیمی اور ادبی روایت کا ایک نمایاں نام میر علی نواز خان ٹالپر ‘ناز‘ ہے، جو 1921 سے 1935 تک خیرپور کے حکمران رہے۔ وہ صرف حکمران نہیں بلکہ شاعر اور فن و ادب کے سرپرست بھی تھے۔ ان کے شعری مجموعے شائع ہوئے اور ان کے نام سے قائم ناز ہائی اسکول خیرپور کے اہم تعلیمی اداروں میں شمار ہوا۔ ان کی شخصیت میں اقتدار، شاعری اور فن دوستی ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

    خیرپور کا دربار شاعری، موسیقی، ادبی محفلوں اور فنونِ لطیفہ سے بھی وابستہ رہا۔ سندھ میں شاعری اور موسیقی کبھی صرف تفریح نہیں رہیں۔ یہ عشق، تصوف، تاریخ، اجتماعی یادداشت اور سماجی اقدار کے اظہار کا ذریعہ رہی ہیں۔ میر علی نواز ‘ناز‘ کی شاعری سے گہری وابستگی نے اس روایت کو دربار کی سطح پر بھی تقویت دی۔

    شاعروں، گلوکاروں، سازندوں اور دوسرے اہلِ فن کی سرپرستی نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں ادب اور فن ریاستی و سماجی زندگی کا حصہ بن گئے۔

    ریاست کا تعمیراتی ورثہ بھی آج تک اس دور کی داستان سناتا ہے۔ فیض محل، کوٹ ڈیجی کا قلعہ اور دوسری تاریخی عمارات اس زمانے کے فنِ تعمیر، ذوق اور کاریگری کی نشانیاں ہیں۔ فیض محل آج بھی خیرپور کے شاہی ماضی کی نمایاں علامت ہے، لیکن اسے صرف ایک محل سمجھنا کافی نہیں۔ اس کی دیواریں اس سماجی، سیاسی اور ثقافتی دنیا کی گواہ ہیں جو کبھی ریاستِ خیرپور کے گرد آباد تھی۔

    خیرپور کی معیشت کا بنیادی رشتہ زمین اور پانی سے تھا۔ دریائے سندھ، روایتی آبپاشی، کنوؤں اور بعد میں جدید نہری نظام نے اس خطے کی زرعی معیشت کو مضبوط کیا۔ کھجور، گندم، کپاس اور دوسری زرعی اجناس مقامی معیشت کی بنیاد تھیں۔ 1931 کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست کی تقریباً دو تہائی آبادی زراعت سے وابستہ تھی۔ یوں پانی، زمین اور کسان خیرپور کی معاشی زندگی کے بنیادی ستون تھے۔

    میر جارج علی مراد خان دوم نے برطانیہ اور جرمنی کے دورے کیے، جہاں سے انہوں نے جدید صنعتی مشینری حاصل کی۔ اسی مشینری کی بدولت خیرپور میں خیرپور ٹیکسٹائل مل قائم ہوئی، جو اُس زمانے میں ایشیا کی سب سے بڑی کپڑا ساز فیکٹریوں میں شمار ہوتی تھی۔ انہوں نے جرمنی سے برصغیر ہندوستان کے سب سے بڑے تمباکو کو دوبارہ خشک کرنے والے کارخانے کے لیے بھی جدید مشینری منگوائی۔

    صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ انہوں نے فنی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی۔ خیرپور میں خواتین کے لیے ایک صنعتی تربیتی ادارہ قائم کیا گیا، جس کی سربراہی ایک جرمن خاتون کے سپرد کی گئی۔ مزید برآں، انہوں نے ایک صنعتی زون بھی قائم کیا، جس سے علاقے میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملا اور معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلیں۔

    ان کا منصوبہ اسی طرز کے مزید آٹھ صنعتی زون قائم کرنے کا تھا، لیکن ریاستِ خیرپور کے پاکستان میں الحاق کے باعث یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا۔

    میر صاحب عوامی سہولت اور معیارِ زندگی کی بہتری کو بھی خاص اہمیت دیتے تھے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے آٹھ جدید ایئرکنڈیشنڈ بسیں خریدیں۔ یہ بسیں اُس دور کے لحاظ سے نہایت جدید تھیں۔ ان کے دروازے خودکار طور پر کھلتے تھے اور مسافروں کے آسانی سے اترنے کے لیے بھی جدید نظام نصب تھا۔

    ان بسوں کو پرانی سرکاری بسوں کی جگہ چلانے کا مقصد عوام کو زیادہ آرام دہ، محفوظ اور بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا تھا۔ ریاست کے پاکستان میں الحاق کے بعد، میر صاحب کی خریدی ہوئی مزید ایسی جدید بسیں لاہور اور راولپنڈی بھیج دی گئیں۔

    میر جارج علی مراد خان دوم کے عہدِ حکومت میں سیاسی اصلاحات بھی متعارف ہوئیں۔ 1949 میں ریاستِ خیرپور میں بالغ رائے دہی (Universal Suffrage) کا نظام نافذ کیا گیا، جس کے تحت تمام بالغ شہریوں کو حقِ رائے دہی دیا گیا۔ اس نظام کے تحت ریاست میں منعقد ہونے والے انتخابات برصغیر ہندوستان میں اپنی نوعیت کے پہلے انتخابات تھے۔

    خیرپور کے ٹالپر دور پر ہونے والی تحقیق میں عوامی فلاح، تعلیم، معاشی ترقی اور انصاف کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور سے وابستہ ایک تحقیقی مقالے میں بالخصوص میر علی نواز ‘ناز‘ کے عہد میں سماجی و معاشی ترقی، تعلیم، انصاف اور عوامی مفادات کو حکمرانی کی اہم ترجیحات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

    لیکن کسی معاشرے کی شناخت صرف اس کے محلات، اسکولوں اور کھیتوں سے نہیں بنتی۔ اس کے کھیل، میلوں اور عوامی روایات میں بھی اس کی روح سانس لیتی ہے۔

    خیرپور کی ایسی ہی ایک زندہ روایت ملھ یا ملاکھڑا تھی۔ ملھ سندھ کا محض ایک دیسی کھیل نہیں، بلکہ ہمت، مہارت، جسمانی قوت، ضبط، عزت اور نیک نامی کی روایت رہی ہے۔ نامور پہلوانوں کو معاشرے میں غیر معمولی احترام حاصل ہوتا تھا اور حکمران اور بااثر خاندان بھی ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ گھڑسواری، شکار، نشانہ بازی اور دوسری روایتی سرگرمیاں بھی اس عہد کی سماجی زندگی کا حصہ تھیں۔

    اس مقام پر خیرپور کی تاریخ میرے لیے صرف کتابوں میں پڑھی جانے والی تاریخ نہیں رہتی بلکہ میرے اپنے خاندان کی یادداشت بن جاتی ہے۔

    میرے دادا لدھا رام پنہوار ریاستِ خیرپور کے زمانے کے ایک نامور ملھ پہلوان تھے۔ ان کے ذریعے ہمارے خاندان کا تعلق اس ریاست کی عوامی، کھیلوں اور ثقافتی زندگی سے جڑا ہوا تھا۔ اس دور میں پہلوان صرف اکھاڑے میں دوسرے پہلوان کو پچھاڑنے والا شخص نہیں ہوتا تھا۔ اس کا کردار، بہادری، جسمانی طاقت، دیانت اور اپنے علاقے کی نمائندگی بھی اس کی سماجی شناخت کا حصہ ہوتی تھی۔

    خیرپور سے ہمارے خاندان کا دوسرا اہم رشتہ گمبٹ اور تعلیم کے ذریعے قائم ہوا۔

    گمبٹ، جو کبھی ریاستِ خیرپور کا ایک اہم حصہ تھا، وہاں قائم مراد ہائی اسکول میرے لیے محض ایک پرانی عمارت یا تاریخی ادارہ نہیں۔ اسکول سے متعلق مقامی تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس تاریخی بوائز اسکول کا دوسرا حصہ 4 اپریل 1947 کو ہز ہائنس میر علی مراد خان ٹالپر نے تعمیر کروایا، یعنی اپنے حکمران بننے سے کچھ ہی عرصہ پہلے۔ بعد میں یہی ادارہ مراد ہائی اسکول کے نام سے معروف ہوا۔

    ہمارا خاندان 1970 میں کوٹ ڈیجی سے گمبٹ منتقل ہوا۔ یہ خیرپور کی الگ ریاستی حیثیت کے خاتمے کے پندرہ برس بعد کا زمانہ تھا۔ میں نے اسی مراد ہائی اسکول گمبٹ میں تعلیم حاصل کی اور 1985 میں یہاں سے میٹرک کیا۔

    یوں خیرپور کی تاریخ سے میرے خاندان کی دو نسلیں دو مختلف مگر نہایت خوبصورت حوالوں سے وابستہ ہیں۔ میرے دادا کی نسل کا رشتہ ملھ کے میدان سے تھا اور میری نسل کا رشتہ علم کی درسگاہ سے۔ ایک طرف جسمانی ہمت اور عوامی روایت کا اکھاڑا تھا، دوسری طرف کتاب، قلم اور تعلیم کا ادارہ۔ دونوں اپنے اپنے انداز میں خیرپور کے سماجی ورثے کی علامت ہیں۔

    خیرپور کے آخری میر کی زندگی خود بھی برصغیر کی تاریخ کے ایک عظیم موڑ پر شروع ہونے والے عہدِ حکمرانی سے وابستہ تھی۔ 19 جولائی 1947 کو میر فیض محمد خان ٹالپر دوم کے بعد نوجوان میر جارج علی مراد خان ٹالپر دوم ریاست کے حکمران بنے۔ اس وقت ان کی عمر صرف چودہ برس تھی، اس لیے ابتدائی طور پر ریاست کا انتظام ریجنسی کے ذریعے چلایا گیا۔

    صرف چند ماہ بعد، 3 اکتوبر 1947 کو خیرپور نے پاکستان سے الحاق کیا۔ اس کے باوجود خیرپور 1955 تک پاکستان کے اندر ایک الگ نوابی ریاست کی حیثیت سے قائم رہا۔ پھر ون یونٹ کے قیام کے ساتھ اس کی جداگانہ سیاسی حیثیت ختم ہوگئی اور خیرپور نئے انتظامی نظام کا حصہ بن گیا۔

    میر جارج علی مراد خان ٹالپر دوم کی زندگی اسی لیے غیر معمولی تاریخی معنویت رکھتی ہے۔ وہ ایک ایسی ریاست کے آخری حکمران تھے جس کی بنیاد اٹھارہویں صدی میں رکھی گئی تھی، مگر خود اکیسویں صدی تک زندہ رہے۔ انہوں نے اپنے خاندان کی حکمرانی کا اختتام دیکھا اور پھر سات دہائیوں سے زیادہ عرصے تک سندھ اور پاکستان کو مسلسل بدلتے ہوئے بھی دیکھا۔

    5 اکتوبر 2026 کو ان کی وفات کے ساتھ خیرپور کے شاہی دور کی آخری زندہ علامتوں میں سے ایک بھی تاریخ کا حصہ بن گئی۔ مگر تاریخ کا ایک سبق ہمیشہ باقی رہتا ہے: سیاسی اقتدار عارضی ہوتا ہے، علم، ثقافت اور عوامی خدمت کی عمر کہیں زیادہ طویل ہوتی ہے۔

    اسی لیے آج خیرپور کے میروں کو یاد کرتے ہوئے صرف کسی تخت، تاج یا شاہی دربار کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ فیض محل اور کوٹ ڈیجی کا قلعہ، ناز ہائی اسکول اور مراد ہائی اسکول، آبپاشی اور زراعت کی روایت، میر علی نواز ‘ناز‘ کی شاعری، موسیقی کی محفلیں اور ملھ کے اکھاڑے سب اسی تاریخ کے مختلف ابواب ہیں۔

    میرے لیے اس پوری تاریخ کی سب سے قریب اور مانوس تصویر گمبٹ میں موجود ہے۔ ایک طرف میرے دادا لدھا رام پنہوار کی یاد ہے، جو ریاستِ خیرپور کی ملھ کی ثقافت سے وابستہ تھے، اور دوسری طرف مراد ہائی اسکول ہے، جہاں میں نے خود تعلیم حاصل کی۔ ایک اکھاڑے کی یاد اور ایک درسگاہ کی یاد میرے خاندان کی ذاتی تاریخ کو خیرپور کی اجتماعی تاریخ سے جوڑ دیتی ہیں۔

    1783  میں میر سہراب خان ٹالپر سے شروع ہونے والی ریاستِ خیرپور کا 172 سالہ سیاسی سفر 1955 میں اختتام پذیر ہوا۔ اب اس ریاست کا آخری میر بھی رخصت ہوگیا۔

    مگر کسی ریاست اور کسی حکمران کی سب سے بڑی یادگار یہ نہیں ہوتی کہ اس کا محل کتنا عظیم تھا، اس کا تخت کتنا شاندار تھا یا اس کے پاس کتنا اختیار تھا۔ تاریخ آخرکار یہ سوال پوچھتی ہے کہ اس عہد نے اپنے لوگوں کے لیے کیا چھوڑا؟

    خیرپور کے معاملے میں اس سوال کا جواب اس کے تعلیمی اداروں، ثقافتی روایتوں، زرعی ترقی، فن و ادب، تاریخی عمارتوں اور عوامی اداروں میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ تخت ختم ہوگئے، ریاست کا نقشہ بدل گیا، نسلیں گزر گئیں، مگر علم کی درسگاہیں، ثقافت کی یادیں اور عوامی خدمت کے نقوش باقی رہے۔

    الوداع، ہز ہائنس میر جارج علی مراد خان ٹالپر دوم۔ ایک ریاست کا آخری حکمران رخصت ہوگیا، مگر خیرپور کی تاریخ، اس کا علمی و ثقافتی ورثہ اور اس کی اجتماعی یادداشت زندہ رہے گی۔ خیرپور کے آخری میر کو آخری سلام۔

  •  خیرپور: شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کا 1200 سے زائد مشتبہ ایل ایل بی ڈگریاں منسوخ کرنے کا فیصلہ

     خیرپور: شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کا 1200 سے زائد مشتبہ ایل ایل بی ڈگریاں منسوخ کرنے کا فیصلہ

    شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میرس نے مبینہ طور پر قانونی اور انتظامی ضوابط پورے کیے بغیر جاری کی گئی 12 سو سے زائد ایل ایل بی ڈگریوں اور امتحانی نتائج کی منسوخی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یونیورسٹی نے متاثرہ طلبہ کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور دستاویزی ثبوت جمع کرانے کے لیے 15 دن کی آخری مہلت دے دی ہے۔

    یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیے گئے عوامی نوٹس کے مطابق سنڈیکیٹ کے 92ویں اجلاس میں منظور کی گئی قراردادوں کے بعد ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے یونیورسٹی اور اس سے منسلک مختلف لا کالجوں کے ریکارڈ کی تفصیلی جانچ پڑتال کی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں متعدد طلبہ کا ریکارڈ مشکوک قرار دیا، جس کے بعد ان کی ڈگریوں اور امتحانی نتائج کی منسوخی کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

    نوٹس کے مطابق تحقیقات ایل ایل بی پانچ سالہ پروگرام کے 2017 کے بیچ اور ایل ایل بی تین سالہ پروگرام کے 2014 سے 2018 تک کے مختلف بیچوں کے ریکارڈ پر کی گئی۔ انکوائری کے دوران مجموعی طور پر ایک ہزار 61 طلبہ کا ریکارڈ مشکوک پایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ایل ایل بی پانچ سالہ پروگرام میں مختلف لا کالجوں کے 584 طلبہ کا ریکارڈ مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ ان میں قاضی میاں احمد قریشی لا  کالج مورو کے 62، اے بی ڈی لا کالج سکھر کے 28، مرزا لا کالج پنوعاقل کے 23، الفلاح لا کالج کشمور کے 36، سردار نور محمد خان لا کالج کندھ کوٹ کے 7، ایس ڈی کے لا کالج جیکب آباد کے 41، حاجی مولا بخش سومرو لا کالج کے 72، فیض محمد سہتو لا کالج کنڈیارو کے 75، مشعل لا کالج ڈہرکی کے 21، بی بی زیڈ لا کالج جیکب آباد کے 96، ایس بی بی لا کالج قمبر کے 23 اور عبدالواحد سومرو لا کالج کشمور کے 100 طلبہ شامل ہیں۔

    اسی طرح ایل ایل بی تین سالہ پروگرام کے مختلف بیچوں میں 477 طلبہ کا ریکارڈ مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ ان میں ایس ڈی کے لا کالج جیکب آباد، سردار نور محمد لا کالج کندھ کوٹ، ایس بی بی لا کالج لاڑکانہ، اے بی ڈی لا کالج سکھر، الفلاح لا کالج کشمور، مشعل لا کالج ڈہرکی، سردار نور محمد بجارانی لا کالج جیکب آباد، عبدالواحد لا کالج کشمور، قاضی میاں احمد قریشی لا کالج مورو اور شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے کانسٹیٹیونٹ لا کالج نوشہرو فیروز کے طلبہ شامل ہیں۔

    یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق جن طلبہ کے نام، ولدیت اور متعلقہ کالجوں کی تفصیلات یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی فہرست میں شامل ہیں، انہیں صفائی کا پورا موقع دیا جا رہا ہے۔ تمام متاثرہ طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نوٹس کی اشاعت کے 15 دن کے اندر اپنے دعوے کے حق میں تمام متعلقہ دستاویزی ثبوت کنٹرولر امتحانات، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کے دفتر میں جمع کرائیں۔

    یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ متاثرہ طلبہ کے لیے آخری موقع ہوگا۔ اگر مقررہ مدت کے اندر جواب جمع نہ کرایا گیا یا فراہم کیے گئے شواہد تسلی بخش نہ ہوئے تو متعلقہ ڈگری یا امتحانی نتیجہ بغیر کسی مزید نوٹس کے مستقل طور پر منسوخ کر دیا جائے گا۔

    یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد تعلیمی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا، ضابطوں پر عمل درآمد کو مضبوط بنانا اور ڈگریوں کے اجرا کے عمل کو قانون کے مطابق بنانا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں آئندہ بھی ایسے تمام معاملات کی جانچ جاری رکھی جائے گی تاکہ تعلیمی معیار اور ادارے کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے۔

    رپورٹ کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے، قانونی تقاضے پورے ہونے اور جامعہ کی اعلیٰ انتظامی باڈی کی منظوری کے بعد ڈگریاں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ موجودہ انتظامیہ کی احتسابی مہم کا تیسرا بڑا مرحلہ ہے۔

    اس سے قبل پہلے مرحلے میں مبینہ جعلی تعلیمی ریکارڈ کے سلسلے میں 128 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ دوسرے مرحلے میں آٹھ سے زائد جامعہ اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی گئی، انہیں معطل کیا گیا اور جامعہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

    تیسرے مرحلے میں 12 سو سے زائد مشتبہ ایل ایل بی ڈگریوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان ڈگریوں میں قانونی شعبے سے تعلق رکھنے والی بعض نمایاں شخصیات کے نام بھی شامل ہیں، تاہم یونیورسٹی نے کسی فرد کا نام سرکاری طور پر جاری نہیں کیا۔

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں تعلیمی اسناد کی تصدیق کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ جعلی ڈگریوں کی روک تھام کی جا سکے۔ ان کے مطابق اگر جامعات باقاعدگی سے اپنے ریکارڈ کا جائزہ لیں اور جدید ڈیجیٹل نظام اپنائیں تو اس قسم کی بے ضابطگیوں کو بروقت روکا جا سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں ان طلبہ اور وکلا کے مفاد میں بھی ہیں جنہوں نے اپنی تعلیم دیانت داری سے مکمل کی ہے، کیونکہ جعلی یا مشتبہ ڈگریاں نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ پورے قانونی شعبے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شفاف احتساب سے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

  • خیرپور: طالب علم نے مصنوعی ذہانت سے روبوٹ لیزر گن تیار کر لی، ‘یہ زمینی ڈرون ہے’

    خیرپور: طالب علم نے مصنوعی ذہانت سے روبوٹ لیزر گن تیار کر لی، ‘یہ زمینی ڈرون ہے’

    خیرپور میں مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، شہید ذوالفقار علی بھٹو کیمپس کے ایک طالب علم کی یہ کوشش محض ایک تعلیمی پراجیکٹ نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

    الیکٹرانک ڈیپارٹمنٹ کے فائنل ایئر کے طالب علم سید اویس شاہ نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک ایسا روبوٹک سسٹم تیار کیا ہے جو لیزر گن سے لیس ہے اور بغیر گولہ بارود کے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ سسٹم زمین اور فضا میں موجود اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ ٹارگٹ کر سکتا ہے۔

    سید اویس شاہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک پروٹوٹائپ ہے، جسے انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے اس انداز میں تیار کیا ہے کہ یہ روایتی بلیسٹک ویپن سسٹمز کا متبادل بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے دوست اور دشمن کی شناخت ممکن ہے، جس سے سیکیورٹی آپریشنز میں جانی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    اس سسٹم کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ بارودی مواد کے بغیر کام کرتا ہے، جس سے روایتی ہتھیاروں کے مقابلے میں ایک مختلف اور کنٹرولڈ طریقہ سامنے آتا ہے۔ تاہم یہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ایک تجرباتی ماڈل ہے جسے عملی سطح پر لانے کے لیے مزید تحقیق اور وسائل درکار ہوں گے۔

    دنیا کے چند ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی اس نوعیت کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں، اور اگر پاکستان میں بھی اس سمت میں سنجیدہ پیش رفت کی جائے تو یہ دفاعی شعبے میں نئی جہت پیدا کر سکتی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسے نوجوان ذہنوں کی کہانیاں سامنے لاتا ہے جو محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھتے ہیں۔
    ساگا ڈیجیٹل، جہاں مقامی کہانیاں مستقبل کی سمت دکھاتی ہیں۔

  • ریاستِ خیرپور کے تالپور نوابوں کی رہائش گاہ، فیض محل، ایک خودمختیار ریاست کی خاموش یاد

    ریاستِ خیرپور کے تالپور نوابوں کی رہائش گاہ، فیض محل، ایک خودمختیار ریاست کی خاموش یاد

    فیض محل، ایک عمارت جو صرف اینٹ اور پتھر کا ڈھانچہ نہیں تھی، بلکہ ایک خودمختار ریاست کی علامت تھی۔ سندھ کی ریاستِ خیرپور کے تالپور نوابوں کی رہائش گاہ، دربار، اور سیاسی مرکز، سب کچھ اسی کے اندر سمٹ آتا تھا۔

    خیرپور میرس میں واقع یہ شاہی محل انیسویں صدی کے اواخر میں تعمیر ہوا۔ اسے میر فیض محمد خان تالپور دوم کے دورِ حکومت میں بنایا گیا اور انہی کے نام سے اسے ‘فیض محل’ کہا جانے لگا۔

    ریاستِ خیرپور اُس زمانے میں ایک خودمختار نوابی ریاست تھی، جو تالپور میروں کے زیرِ اقتدار رہی۔ 1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد اس ریاست کا پاکستان سے الحاق کردیا گیا۔ تاہم 1955 تک اسے نیم خودمختار حیثیت حاصل رہی۔ فیض محل اسی دور کی سیاسی اور ثقافتی تاریخ کا گواہ ہے۔

    محل کی تعمیر میں اینٹ، چونا اور مقامی پتھر استعمال کیا گیا۔ اس کی طرزِ تعمیر میں برطانوی نوآبادیاتی انداز اور مقامی سندھی فنِ تعمیر کا امتزاج واضح نظر آتا ہے۔ وسیع برآمدے، بلند ستون، محرابی دروازے اور کشادہ ہال اس کی شان و شوکت کی عکاسی کرتے ہیں۔ سجاوٹی جھروکے اور متوازن نقش و نگار اس دور کی جمالیاتی حس کا پتہ دیتے ہیں۔

    مرکزی دربار ہال اس محل کا دل تھا۔ یہاں شاہی نشست سجتی، فیصلے ہوتے، اور مہمانوں کا استقبال کیا جاتا۔ اندرونی حصوں میں لکڑی کی نفیس نقش و نگاری، جھاڑ فانوس اور آرائشی فرنیچر شاہی زندگی کی جھلک پیش کرتے تھے۔

    فیض محل محض ایک رہائش گاہ نہیں تھا۔ یہ ریاستی تقاریب، سرکاری ملاقاتوں اور درباروں کا مرکز بھی تھا۔ نوابِ خیرپور یہاں غیر ملکی مہمانوں اور برطانوی حکام کا استقبال کرتے تھے۔ محل کے اردگرد پھیلے وسیع باغات اور سبزہ زار اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے تھے، گویا طاقت اور وقار کے ساتھ حسن بھی یہاں موجود تھا۔

    آج بھی فیض محل تالپور خاندان کی ملکیت ہے اور سندھ کے اہم تاریخی ورثے کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ یہ عمارت صرف ماضی کی یاد نہیں، بلکہ اس دور کی خاموش گواہ ہے جب خیرپور ایک الگ ریاست تھی، اپنی شناخت کے ساتھ۔

    فیض محل آج بھی کھڑا ہے، ایک تاریخ، ایک ریاست، اور ایک شاہی روایت کی یادگار کے طور پر۔