اکثر خواتین دن بھر کے کام کے بعد یہ کہہ کر بات ختم کر دیتی ہیں کہ تھک جانا تو عورت کی قسمت ہے۔ مگر یہ تھکن ہمیشہ معمول نہیں ہوتی۔ بہت سی خواتین جس مسلسل کمزوری، چکر، سانس پھولنے اور توجہ کی کمی کا شکار رہتی ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ آئرن کی کمی ہو سکتی ہے، جسے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
آئرن وہ معدنی عنصر ہے جو خون میں ہیموگلوبن بنانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ہیموگلوبن جسم کے ہر حصے تک آکسیجن پہنچاتا ہے۔ جب آئرن کم ہو جائے تو جسم کے خلیات کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی اور انسان مسلسل تھکا ہوا محسوس کرتا ہے، چاہے وہ پوری نیند ہی کیوں نہ لے۔
خواتین میں آئرن کی کمی کی سب سے بڑی وجہ ماہواری کے دوران خون کا ضیاع ہے۔ اس کے علاوہ حمل، زچگی اور دودھ پلانے کے مراحل میں بھی جسم کو آئرن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ دیہی علاقوں میں غذائی قلت اور شہری علاقوں میں غیر متوازن ڈائٹ اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آئرن کی کمی صرف جسمانی کمزوری تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا براہ راست اثر دماغ پر بھی پڑتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آئرن کی کمی سے یادداشت متاثر ہو سکتی ہے، فیصلہ کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ بعض خواتین میں بلا وجہ بے چینی اور چڑچڑاپن بھی اسی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔
ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ آئرن کی کمی سے بالوں کا غیر معمولی جھڑنا بھی شروع ہو سکتا ہے۔ بہت سی خواتین مہنگے شیمپو اور علاج استعمال کرتی ہیں، مگر اصل مسئلہ خون میں آئرن کی کمی ہوتا ہے۔ اسی طرح ناخنوں کا ٹوٹنا، جلد کا پیلا پڑ جانا اور ہونٹوں کا بے رنگ ہونا بھی اس کی علامات میں شامل ہیں۔
خواتین میں آئرن کی کمی کو اکثر شادی، عمر یا مصروف زندگی سے جوڑ دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی۔ کچھ کیسز میں یہ کمی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور معمولی محنت سے بھی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔
غذا کے حوالے سے ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ صرف سبزیاں کھانے سے آئرن کی کمی پوری ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پودوں سے حاصل ہونے والا آئرن جسم میں کم جذب ہوتا ہے۔ دالیں، پالک اور چنے فائدہ مند ہیں، مگر ان کے ساتھ وٹامن سی والی چیزوں کا استعمال آئرن کے جذب کو بہتر بناتا ہے۔ لیموں، مالٹا اور امرود اس سلسلے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
چائے اور کافی کا حد سے زیادہ استعمال بھی آئرن کے جذب میں رکاوٹ بنتا ہے۔ بہت سی خواتین کھانے کے فوراً بعد چائے پینے کی عادت رکھتی ہیں، جس سے آئرن جسم میں جذب نہیں ہو پاتا۔ یہ ایک چھوٹی سی عادت ایک بڑے مسئلے کو جنم دے سکتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق خواتین کو سال میں کم از کم ایک بار خون کا ٹیسٹ کروا کر آئرن کی سطح جانچنی چاہیے۔ اگر کمی ہو تو خود سے دوا لینے کے بجائے ڈاکٹر کے مشورے سے علاج ضروری ہے، کیونکہ غیر ضروری آئرن بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

