Tag: حسن علی آفندی

  • حیدرآباد کا یتیم بچہ جو سندھ کے مسلمانوں کا معمار بنا: حسن علی آفندی، سندھ مدرستہ الاسلام اور ایک عظیم تعلیمی سفر

    حیدرآباد کا یتیم بچہ جو سندھ کے مسلمانوں کا معمار بنا: حسن علی آفندی، سندھ مدرستہ الاسلام اور ایک عظیم تعلیمی سفر

    تخلیقِ تاریخ کا راز ان افراد کے ہاتھوں میں ہوتا ہے جو حالات کی سنگلاخ چٹانوں کو اپنی محنت، علم کی روشنی اور غیر متزلزل عزم سے توڑ کر قوموں کی سمت بدل دیتے ہیں۔

    انیسویں صدی کے وسط میں جب سندھ کے مسلمان تعلیم، معاشی ترقی اور فکری بیداری سے محروم ہو کر مایوسی اور سیاسی پسماندگی کا شکار تھے، تو حیدرآباد کے ایک غریب اور یتیم بچے نے اپنی انتھک محنت اور بصیرت سے ایسی تاریخ رقم کی جس نے آگے چل کر برصغیر کے مسلمانوں کو قائدِ اعظم محمد علی جناح جیسا عظیم قائد فراہم کیا۔

    یہ داستان ہے خان بہادر حسن علی آفندی اور ان کے شاہکار ادارے سندھ مدرستہ الاسلام کی، جس کی بنیاد کراچی کے دل میں رکھی گئی اور جس نے برصغیر کے مسلمانوں کی تعلیمی اور سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

    ایک یتیم بچے کا عزمِ مصمم اور جدوجہدِ حیات

    14 اگست 1830 کو حیدرآباد، سندھ کے آخوند خاندان میں آنکھ کھولنے والے حسن علی آفندی ابھی بچپن ہی میں تھے کہ ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ان کے بڑے بھائی نے ان کی پرورش کی اور خاندانی روایات کے مطابق انہیں مقامی مکتب میں عربی، فارسی اور قرآن کی تعلیم دلوائی۔

    تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں نوشہرو فیروز میں ڈپٹی کلکٹر کے دفتر میں ایک معمولی ملازمت مل گئی۔ لیکن یہیں سے ان کے سفر نے نیا موڑ لیا۔ ایک عیسائی دوست کے مشورے پر انہوں نے انگریزی زبان سیکھنا شروع کی۔ اس دور میں بہت سے مسلمان انگریزی کو غیر مسلموں کی زبان سمجھ کر اس سے اجتناب کرتے تھے، لیکن حسن علی آفندی کا نقطۂ نظر مختلف اور دور اندیشانہ تھا۔

    ان کے خیال میں زبان محض ابلاغ کا ذریعہ ہے اور اس کا تعلق اسے بولنے والوں کے مذہب سے نہیں۔ انگریزی زبان میں موجود علمی ذخیرے سے استفادہ مسلمانوں کی فکری اور مادی ترقی کے لیے ضروری تھا۔

    انہوں نے تیل کے چراغ کی مدھم روشنی میں راتوں کو جاگ جاگ کر انگریزی پڑھی۔ انڈس فلوٹیلا کے جھرک میں واقع بندرگاہی مرکز میں ملازمت کے دوران ان کی ملاقات برطانوی جج مسٹر مڈلٹن سے ہوئی۔ حسن علی کی انگریزی زبان پر مہارت اور علمی وسعت سے متاثر ہو کر جج صاحب انہیں کراچی کی صدر کورٹ لے آئے، جہاں ان کی قانونی قابلیت کی بنیاد پر انہیں رسمی ڈگری کے بغیر وکالت کرنے کی خصوصی اجازت ملی۔

    حسن علی آفندی سندھ کے ابتدائی مسلم وکلا میں شمار ہوتے تھے اور بعد میں مسلسل 14 سال تک پہلے غیر یورپی پبلک پراسیکیوٹر رہے۔ معاشی اور سماجی طور پر مستحکم ہونے کے بعد انہوں نے اپنی توانائیاں اور وسائل مسلمان برادری کی تعلیمی اور سماجی بیداری کے لیے وقف کر دیے۔

    سندھ مدرستہ الاسلام کا قیام: بولٹن مارکیٹ کے گودام سے شاندار عمارت تک

    سر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک سے متاثر ہو کر اور ان سے ملاقاتوں کے بعد حسن علی آفندی نے سندھ کے مسلمانوں کے لیے ایک جدید تعلیمی ادارے کا خواب دیکھا۔

    انجمنِ اسلام اور تعلیمی سفر کا آغاز

    انہوں نے 1884 میں انجمنِ اسلام قائم کی اور یکم ستمبر 1885 کو سندھ مدرستہ الاسلام کا باقاعدہ آغاز کراچی میں بولٹن مارکیٹ کے قریب ایک چھوٹی سی کرائے کی دو منزلہ عمارت میں کیا، جو اس سے پہلے گودام کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔

    سنگِ بنیاد اور تعمیراتی ارتقا

    چار نومبر 1887 کو وائسرائے ہند لارڈ ڈفرن نے ادارے کی موجودہ شاندار عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا۔

    عمر بن محمد داؤد پوتا کا دورِ پرنسپل شپ

    دادو کے ایک کسان کے بیٹے اور شمس العلماء ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا نے سندھ مدرستہ الاسلام سے میٹرک کیا، پھر کیمبرج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1930 میں اسی ادارے کے پرنسپل بنے۔ ان کے دور سے متعلق ایک روایت کے مطابق، رخصت ہوتے وقت طلبہ نے انہیں برقی کیتلی کا تحفہ پیش کیا تھا، جو اس زمانے میں جدت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔

    جیمز اسٹریچن کا تعمیراتی شاہکار

    سندھ مدرستہ الاسلام کی مرکزی عمارت محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ وکٹورین گوتھک اور نو ساراسینک طرزِ تعمیر کا ایک نمایاں نمونہ ہے۔

    عظیم الشان معمار

    اس خوبصورت عمارت کا نقشہ برطانوی انجینئر جیمز اسٹریچن نے تیار کیا تھا، جو اس وقت کراچی میونسپلٹی کے ممتاز انجینئر تھے۔

    تعمیراتی خصوصیات

    عمارت کی تعمیر میں گِزری کے پیلے تراشیدہ پتھر استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کی بلند قوسیں، محرابیں اور مرکزی گھڑیال کا مینار وکٹورین دور کی تعمیراتی خصوصیات کے ساتھ مقامی طرزِ تعمیر اور آرائشی عناصر کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔

    جامع تعلیمی کمپلیکس

    سندھ مدرستہ الاسلام کا کمپلیکس مختلف حصوں پر مشتمل تھا، جن میں ہندو اور مسلمان طلبہ کے لیے الگ الگ بورڈنگ ہاؤس، مرکزی ہال، مساجد اور پرنسپل کی وسیع رہائش گاہ شامل تھی۔ یہیں سے ادارے کے تعلیمی اور انتظامی امور چلائے جاتے تھے۔

    تاریخی دستاویزات اور قائدِ اعظم محمد علی جناح

    سندھ مدرستہ الاسلام کا سب سے بڑا تاریخی اعزاز یہ ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے یہاں تعلیم حاصل کی۔ ادارے کے آرکائیو میں محفوظ جنرل رجسٹر اس تعلق کا ایک اہم تاریخی ریکارڈ ہے۔

    قائدِ اعظم کا داخلہ

    محمد علی جناح کا نام سندھ مدرستہ الاسلام کے جنرل رجسٹر میں داخلہ نمبر 114 کے تحت درج ہے۔ وہ 4 جولائی 1887 کو پہلی بار اس ادارے میں داخل ہوئے، جہاں ان کا نام ‘محمد علی جناح بھائی’ درج کیا گیا۔ بمبئی اور گوادر کے سفر کے بعد وہ 23 دسمبر 1892 کو دوبارہ داخل ہوئے اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔

    وصیت اور تاریخی وابستگی

    قائدِ اعظم کو اپنے مادرِ علمی سے گہری وابستگی تھی۔ انہوں نے 1939 میں اپنی وصیت میں اپنی ذاتی جائیداد کا ایک تہائی حصہ سندھ مدرستہ الاسلام کے لیے مختص کیا۔ 1943 میں جب یہ ادارہ ڈگری کالج بنا تو قائدِ اعظم اس کے افتتاح کے لیے کراچی آئے تھے۔

    نامور فارغ التحصیل شخصیات اور معمارانِ قوم

    سندھ مدرستہ الاسلام محض ایک اسکول نہیں تھا بلکہ ایسا ادارہ تھا جہاں سے برصغیر کی سیاست، علم، ادب اور دفاع کے متعدد نامور افراد نے تعلیم حاصل کی۔

    قائدِ اعظم محمد علی جناح، بانیِ پاکستان۔

    سر عبداللہ ہارون، تحریکِ پاکستان کے اہم رہنما اور صنعت کار۔

    سر شاہنواز بھٹو، سندھ کے ممتاز رہنما اور بمبئی سے سندھ کی انتظامی علیحدگی کے حامی، جو ذوالفقار علی بھٹو کے والد تھے۔

    خان بہادر ایوب کھوڑو، سندھ کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور اہم سیاسی رہنما۔

    شمس العلماء ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا، معروف ماہرِ تعلیم اور عربی و فارسی کے عالم۔

    سر غلام حسین ہدایت اللہ، تحریکِ پاکستان کے رہنما اور قیامِ پاکستان کے بعد سندھ کے پہلے گورنر۔

    علامہ آئی آئی قاضی، فلسفی، دانشور اور سندھ یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر۔

    پیر الٰہی بخش، قیامِ پاکستان کے بعد سندھ کے پہلے وزیرِ تعلیم۔

    ایئر مارشل عظیم داؤد پوتا، پاکستان ایئر فورس کے نامور افسر اور سندھ کے سابق گورنر۔

    عبدالستار کوہاٹی، ماہرِ تعلیم اور منتظم

    عبدالستار کوہاٹی کا شمار سندھ مدرستہ الاسلام کے ممتاز منتظمین اور ماہرینِ تعلیم میں ہوتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اور ادارے کے کالج بننے سے پہلے انہوں نے اسکول میں ہیڈ ماسٹر اور بعد ازاں پرنسپل کی حیثیت سے انتظامی اور تدریسی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

    ان کے دورِ انتظامیہ کی نمایاں خصوصیات میں تعلیمی نظم و ضبط، اساتذہ کی تربیت اور بورڈنگ ہاؤس کا نظام شامل تھے۔ سندھ اور بلوچستان سے آنے والے طلبہ کی اخلاقی اور علمی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ وہ اس بات کے حامی تھے کہ سندھ مدرستہ الاسلام اپنی تاسیسی روایت برقرار رکھتے ہوئے طلبہ کو جدید علوم کے ساتھ اسلامی اقدار سے بھی جوڑے رکھے۔

    محمد ابراہیم جویو، طالب علم اور مدرس

    سندھ کے نامور روشن خیال دانشور، ادیب اور ماہرِ تعلیم محمد ابراہیم جویو کا بھی اس ادارے سے گہرا تعلق رہا۔ انہوں نے 1934 میں سندھ مدرستہ الاسلام سے میٹرک کیا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1941 میں اسی ادارے میں استاد کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔

    1947 میں انہوں نے جاگیردارانہ نظام اور تعلیمی پسماندگی کے خلاف اپنی معروف کتاب ‘Save Sindh, Save the Sub-Continent’ لکھی۔ اس دور کے صوبائی وزیرِ تعلیم پیر الٰہی بخش اور ادارے کی انتظامیہ نے ان کی سیاسی تحریروں کے باعث انہیں تدریسی ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔ تاہم، آگے چل کر وہ سندھی ادب اور تعلیمی بیداری کی ایک نمایاں آواز بنے۔

    یہ دونوں شخصیات اس بات کی مثال ہیں کہ سندھ مدرستہ الاسلام نے صرف قائدِ اعظم جیسے سیاست دان ہی پیدا نہیں کیے بلکہ عبدالستار کوہاٹی اور محمد ابراہیم جویو جیسے قابل اساتذہ اور تعلیمی منتظمین بھی دیے۔

    تحریکِ پاکستان کا فکری مرکز اور ادارے کا ارتقائی سفر

    1930 اور 1940 کی دہائیوں میں سندھ مدرستہ الاسلام محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں رہا تھا بلکہ سندھ میں مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان کی سرگرمیوں کا ایک اہم فکری اور سیاسی مرکز بن گیا تھا۔ یہاں کے اساتذہ اور طلبہ نے بمبئی سے سندھ کی علیحدگی کی تحریک، 1940 کی قراردادِ لاہور کی حمایت اور 1946 کے انتخابات کے سیاسی ماحول میں اہم کردار ادا کیا۔

    1885 میں بولٹن مارکیٹ کے قریب ایک گودام سے شروع ہونے والا یہ سفر 1943 میں کالج کے قیام تک پہنچا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ ادارہ قومی تعلیمی منظرنامے کا اہم حصہ رہا۔ بالآخر فروری 2012 میں اسے چارٹرڈ سرکاری جامعہ، سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی، کا درجہ دیا گیا۔ آج بھی یہ ادارہ اپنی تاریخی عمارت اور تعلیمی روایت کے ساتھ علم کی روشنی پھیلا رہا ہے۔

    حسن علی آفندی نے 20 اگست 1895 کو وفات پائی اور ان کی خواہش کے مطابق انہیں حیدرآباد کے آفندی باغ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن بولٹن مارکیٹ کی اس چھوٹی سی عمارت سے روشن ہونے والی شمع نے سندھ اور برصغیر کی تعلیمی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

    ایک یتیم بچے کی محنت، لگن اور تعلیمی وژن کا ثمر ہے کہ سندھ مدرستہ الاسلام آج بھی تاریخ کا ایک اہم مینار ہے، جس سے وابستہ شخصیات نے پاکستان کی سیاسی، علمی اور سماجی تشکیل میں اپنا کردار ادا کیا۔