یہ 30 اکتوبر 2015 کی ایک سرد رات تھی ۔۔ رومانیہ کے اس نائٹ کلب میں سینکڑوں افراد جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی کنسرٹ انجوائے کررہے تھے کہ اچانک آگ کے شعلے بلند ہوئے کچھ ہی منٹ میں پورے کلب کو آگ نے لپیٹ میں لے لیا ۔۔ باہر جانے کے صرف دو راستے تھے ہر کوئی بد حواسی کے عالم میں باہر بحفاطت نکلنا چاہتا تھا مگر 60 سے ذائد افرد جو چند لمحے قبل موسیقی پر رقص کررہے تھے اب شعلوں میں جل کر راکھ ہوچکے تھے۔
اس سے پہلے کہ حکومت اور انتظامیہ حرکت میں آتی رومانیہ کے نوجوان سڑکوں پر نکل آئے حکومت وقت پر کرپشن کے الزمات لگائے اور احتجاج کا دائرہ پھیلتا گیا ۔۔۔۔دوسری جانب نائٹ کلب انتظامیہ اور دیگر کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی تھی مگراحتجاج اتنا موثر تھا کے وزیر اعظم وکٹر پونٹا پانچ نومبر 2015 کو مستعفی ہوکر گھرچلے گئے – زندہ قوم سڑکوں پر رہی اور انسانی جانوں کے قاتلوں کی سزا کا مطالبہ جاری رہا ۔۔ انکوائری کمیشن تشکیل پایا۔ مقدمہ چلتا رہا اور باالآخر 12 مئی 2022 کو مقدمہ کا فیصلہ سنادیا گیا۔
نائٹ کلب کے مالک اور آتش بازی کرنے والی کمپنی کے ساتھ اس وقت کے مئیر بھی مجرم قرار پاے ۔۔ نائٹ کلب کے مالک اور آتش بازی کرنے والی کمپنی کے مالکان کو 6 سے 11 برس جبکہ مئیر کرسٹیان پوپیسکو کو 4 برس قید کی سنائی گئی۔
چھبیس نومبر2025 کو ہانگ کانگ کے علاقے وینگ فُک کورٹ میں ایک اکتیس منزلہ رہائشی عمارت میں آگ لگی تو دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک شعلوں نے پوری عمارت کو لپیٹ مں لے لیا ۔۔ شہر بھر کے فائر فائٹرز نے جدید آلات کی مدد سے ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر چالیس گھنٹوں بعد آگ پر قابو پایا مگراس دوران 160 سے ذائد انسان موت کے منہ جاچکے تھے۔
آگ ابھی مکمل طور پر بجھی نہیں تھی مگرہانگ پولیس نے 27 نومبر کو ہی عمارت میں تزئین و آرائش کا کام کرنے والی کنسٹرکشن کمپنی ڈائریکٹر اور بلڈر سمیت تین افراد کو گرفتار کرلیا۔۔۔ آگ لگنے کی ذمہ دار ہونے کے شبہ میں 3 دسمبر تک یعنی سات دنوں میں 16 افراد کو گرفتار کیا جاچکاتھا۔ اس کے بعد بھی کئی لوگ گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالےگئے اور انکوائی کمیشن نے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

عوام کی طاقت اور قانون کی بالادستی دیکھنی ہو تو مغربی ملکوں پر نظر ڈال لیں حالانکہ وہ کوئی انہونی نہیں کررہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انھوں نے مسلمانوں کی تاریخ سے ہی سب سیکھا ہے اب دیکھیں نا جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کٹہرے میں کھڑے ہوسکتے ہیں تو پھر یہ صدر وزیر اعظم کیا ہیں لیکن المیہ تو یہی ہے
کراچی وہ بدقسمت شہر ہے جہاں آگ لگتی بھی ہے اور لگائی بھی جاتی ہے
۔دسمبر 2023 میں عائشہ منزل پرعرشی شاپنگ سینٹر میں آگ لگی اور پانچ معصوم زندگیاں ختم ہوگئیں ۔۔ مقدمہ تو درج پوا مگر
پانچ لاشوں کے ساتھ یہ کہانی بھی دفن ہوگئی ۔۔۔اورآر جے مال میں خوفناک آگ نے گیارہ انسانوں کو خاکستر کردیا۔ پولیس نے عمارت کی تعمیر کی منظوری میں مبینہ غفلت پر مقدمہ درج کیا اور پھر یہ مقدمہ بھی فائلوں کے نیچے کہیں دب گیا۔
چیز اپ اسٹور،کوآپریٹیو مارکیٹ،ملینئیم مال،چاولہ مارکیت اور نجانے کتنے ہی واقعات صرف حالیہ سالوں میں رونما ہوئے ۔۔
عمارتیں صرف نہیں جلتیں نظام کو ہی جلادیا گیا ہے لوگ مرجاتے ہیں اور زندہ بچ جانے والوں سمیت مرجانے والوں کے خاندان کے خاندان جیتے جی مرتے رہتے ہیں مشکلات کی آگ میں جلتے رہتے ہیں
اتنا تو سب کو ہی سمجھ چکا ہے کہ ہمارے ہاں طاقتور ہی سب سے اوپر کیونکہ قانون بہت حد تک کمپرومائزڈ ہے اب بچی ہے تو صرف ایک عوام کی طاقت جس دن یہ ایکسرسائز ہوگئی تو سمجھ لیں بیڑہ پار ہے۔

