Tag: جی ایم سید

  • ‘میں نے سائیں جی ایم سید کو کیسے دیکھا’ ایک ملاقات

    ‘میں نے سائیں جی ایم سید کو کیسے دیکھا’ ایک ملاقات

    25 اپریل 1995

    سیاسی وابستگی اپنی جگہ، مگر اس مختصر زندگی میں میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ نامور اور بڑے سیاسی رہنماؤں اور شخصیات سے بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل کروں۔ اب تک مجھے ذوالفقار علی بھٹو، سائیں جی ایم سید، بینظیر بھٹو صاحبہ، میر مرتضیٰ بھٹو، نواب اکبر بگٹی، ولی خان، نواب خیر بخش مری، میر شیر محمد مری جنرل شیروف، سردار عطاء اللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو، رسول بخش پلیجو، شہید فاضل راہو، بشیر خان قریشی، کامریڈ جام ساقی، ڈاکٹر خالد محمود سومرو سمیت کئی قد آور سیاسی شخصیات سے ملنے کا موقع ملا۔

    سائیں جی ایم سید سے ملنے کی خواہش بھی تھی۔ یہ 1981 کا سال تھا، جب میں مارشل لا ریگولیشن 13 اور 33 کے تحت گرفتار تھا۔ میرا کیس سمری ملٹری کورٹ لاڑکانہ میں زیر سماعت تھا۔ کبھی قمبر جیل، کبھی لاڑکانہ جیل، اور کبھی عارضی طور پر تھانے کے لاک اپ میں رکھا جاتا تھا۔

    اسی دوران ایک خوبصورت نوجوان کو گرفتار کر کے لایا گیا۔ اس نے اپنا نام بشیر قریشی بتایا، جو زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کا طالب علم تھا اور ‘جیئے سندھ’ سے وابستہ تھا۔ ہم جلد ہی قریب ہو گئے اور ہماری دوستی اس کی شہادت تک قائم رہی۔

    میں نے اسی دوران اس سے کہا کہ میں سائیں جی ایم سید سے ملنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا: ‘آزادی کے بعد سن چلیں گے۔’

    وہ جلد رہا ہو گیا، مگر مجھے ایک سال قید مشقت کی سزا ہوئی۔ میں لاڑکانہ اور لانڈھی جیل میں قید رہا اور مارچ 1983 میں رہا ہوا۔

    سن میں پہلی ملاقات

    جون 1983 میں میں ٹرین کے ذریعے جا رہا تھا کہ ‘سن’ اسٹیشن پر اچانک اتر گیا تاکہ سائیں سے مل سکوں۔ ان دنوں وہ نظر بند تھے، مگر ملاقات کی اجازت تھی۔

    میں تانگے پر ان کی حویلی پہنچا۔ شدید گرمی تھی۔ وہاں ایک شخص نے بتایا کہ سائیں اندر ہیں، آپ کمرے میں انتظار کریں۔

    کمرے میں داخل ہوا تو دیوار پر سندھ کا نقشہ تھا جس پر زنجیریں بنی تھیں اور لکھا تھا:
    ‘A Nation in Chains’

    کمرے میں کتابیں، کرسیاں اور روایتی کھٹیں رکھی تھیں۔ میں تھکا ہوا تھا، لیٹ گیا اور سو گیا۔

    جب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک بزرگ میرے پاس والی کھٹ پر سو رہے ہیں، وہ سائیں جی ایم سید تھے۔

    بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے مجھے جگانے سے منع کیا تھا اور کہا تھا:
    ‘گرمی میں نہ جانے کہاں سے آیا ہے، اسے آرام کرنے دو۔’

    گفتگو

    میں نے ادب سے ملاقات کی اور کہا کہ میرا کسی تنظیم سے تعلق نہیں، صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔ سائیں مسکرائے اور کہا:
    ‘میرے لیے سب میرے بچے ہیں، چاہے کسی نظریے سے ہوں یا نہ ہوں۔’

    انہوں نے سب سے پہلے پوچھا: ‘کھانا کھایا ہے؟’ اور فوراً کھانا منگوا لیا۔

    میں نے پہلا سوال کیا:
    ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

    انہوں نے کہا:
    ‘بھٹو کا باپ شاہنواز میرا دوست تھا، بھٹو مجھے چاچا کہتا تھا۔ سندھ نے تین ذہین لوگ پیدا کیے: محمد علی جناح، پیر علی محمد راشدی، اور ذوالفقار علی بھٹو، مگر تینوں نے سندھ کے لیے وہ نہیں کیا جو کرنا چاہیے تھا۔’

    انہوں نے مزید کہا کہ بھٹو کو استعمال کیا گیا اور پھر ختم کر دیا گیا۔

    بینظیر بھٹو کے بارے میں

    انہوں نے کہا:
    ‘وہ ہماری بیٹی ہے، پڑھی لکھی اور بہادر ہے، مگر اگر وہ اپنے باپ کے راستے پر چلی تو وہی قوتیں اسے بھی نہیں چھوڑیں گی۔’

    بلوچوں اور سندھیوں کے بارے میں

    بلوچوں کے بارے میں کہا:
    ‘جتنے بلوچ مارے گئے ہیں، اگر آدھے بھی سندھی قربان ہوتے تو حالات بدل جاتے۔’

    سندھیوں کے بارے میں کہا:
    ‘انہوں نے ابھی تک اپنے دوست اور دشمن کو نہیں پہچانا، اور وہ بہت پچھتائیں گے۔’

    مہمان نوازی

    کھانے میں گوشت، مچھلی، سبزی، روٹی، چاول اور لسی تھی۔ سائیں خود کم کھاتے تھے، مگر مجھے خوب کھلایا۔ پھر شربت بھی پلایا۔

    واپسی پر انہوں نے مجھے تانگے میں بٹھایا اور کچھ پیسے بھی دیے۔ میں نے انکار کیا، مگر انہوں نے کہا:
    ‘رکھ لو، کام آئیں گے۔’

    آج تک میں سائیں جی ایم سید کے ساتھ گزاری وہ چند گھڑیاں نہیں بھلا سکا۔

  • ذواالفقار علی بھٹو کی مقبول جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا نام سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کی سیاسی جماعت سے لیا گیا تھا؟

    ذواالفقار علی بھٹو کی مقبول جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا نام سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کی سیاسی جماعت سے لیا گیا تھا؟

    کیا آپ کو معلوم ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے نام کی بنیاد سندھ پیپلز پارٹی سے جڑی بتائی جاتی ہے، جس کی قیادت سائیں جی۔ ایم۔ سید کے پاس تھی؟

    پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام سے قبل سندھ میں سندھ پیپلز پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت وجود میں آئی۔ اس جماعت کے پہلے صدر ذوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو نامزد ہوئے، جنہیں بھٹو خاندان کی سیاسی بنیاد رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو نے اسی نام کو اختیار کرتے ہوئے سندھ تک محدود رہنے کے بجائے ملکی سطح پر پاکستان پیپلز پارٹی قائم کی۔

    سندھ پیپلز پارٹی کا قیام سائیں جی۔ ایم۔ سید کی سربراہی میں کراچی میں واقع ان کی رہائش گاہ حیدر منزل میں عمل میں آیا۔ سائیں جی۔ ایم۔ سید کو سندھ کے معروف قوم پرست رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے، اور وہ وہی رہنما تھے جن کی سربراہی میں سندھ قانون ساز اسمبلی سے قرارداد پاکستان منظور کی گئی۔

    سر شاہنواز بھٹو کو سائیں جی۔ ایم۔ سید کی رضامندی سے سندھ پیپلز پارٹی کا صدر مقرر کیا گیا۔

    یہ دن 12 جون 1934 تھا، جب حیدر منزل میں سندھ کے سینئر سیاست دانوں کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سندھ پیپلز پارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔

    اس اجلاس میں سر شاہنواز بھٹو، خان بہادر اللہ بخش سومرو، سید میران محمد شاہ، حاتم علوی، مولا بخش، سید محمد علی شاہ دربیلائی، سید محمد علی شاہ آف مٹیاری، پیر بہادر شاہ اور میزبان سائیں جی۔ ایم۔ سید شریک تھے۔

    اسی اجلاس میں اتفاق رائے سے سندھ پیپلز پارٹی کی تنظیمی ساخت طے کی گئی، جس کے تحت صدر سر شاہنواز بھٹو، نائب صدر خان بہادر اللہ بخش سومرو، اور جنرل سیکریٹری حاتم علوی مقرر کیے گئے۔

  • سندھ اسمبلی سے پہلی بار قراردادِ پاکستان پاس کرانے والے جی ایم سید کا یومِ پیدائش 17 جنوری: ‘جب میں سائیں جی ایم سید سے ملا’

    سندھ اسمبلی سے پہلی بار قراردادِ پاکستان پاس کرانے والے جی ایم سید کا یومِ پیدائش 17 جنوری: ‘جب میں سائیں جی ایم سید سے ملا’

    میری سیاسی وابستگی اپنی جگہ، لیکن اس مختصر زندگی میں یہ خواہش ضرور رہی کہ نامور اور قد آور سیاسی رہنماؤں اور شخصیات سے بالمشافہ ملاقات اور گفتگو کا شرف حاصل ہو۔

    اب تک مجھے ذوالفقار علی بھٹو، سائیں جی ایم سید، محترمہ بینظیر بھٹو، میر مرتضیٰ، نواب اکبر بگٹی، ولی خان، نواب خیر بخش مری، میر شیر محمد مری المعروف جنرل شیروف، سردار عطا اللہ مینگل، رسول بخش پلیجو، شہید فاضل راہو، بشیر خان قریشی، کامریڈ جام ساقی، ڈاکٹر خالد محمود سومرو سمیت کئی بڑی سیاسی شخصیات سے ملنے کا موقع ملا۔

    سائیں جی ایم سید سے ملنے کی خواہش بھی دل میں تھی۔

    یہ 1981 کا سال تھا۔ میں مارشل لا ریگولیشن 13 اور 33 کے تحت گرفتار تھا۔ کیس سمری ملٹری کورٹ لاڑکانہ میں زیرِ سماعت تھا۔ کبھی قمبر جیل اور کبھی لاڑکانہ جیل میں رکھا جاتا۔ کیس کی سماعت کے دوران کبھی کبھار پولیس عارضی حوالگی پر تعلقہ تھانہ لاڑکانہ کے لاک اپ میں بھی رکھتی تھی۔

    اسی تھانے کے لاک اپ میں میرا بستر دروازے کے بالکل ساتھ تھا۔ ان دنوں تعلقہ تھانے کے ایس ایچ او شاہ محمد سنجراڻي تھے۔ ایک رات پولیس ایک قدآور، خوبصورت نوجوان کو گرفتار کر کے لائی اور لاک اپ میں بند کر دیا۔ چونکہ میرا بستر دروازے کے قریب تھا، اس لیے اس نئے آنے والے کی خیریت دریافت کرنے والا بھی میں ہی تھا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے بستر پر بیٹھنے کو کہا۔

    حال احوال کے بعد اس نوجوان نے بتایا: ‘میرا نام بشیر قریشی ہے، میں زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کا طالب علم ہوں، پولیس نے مجھے چانڈکا میڈیکل کالج سے گرفتار کیا ہے، جیئے سندھ سے تعلق ہے۔

    بس پھر بشیر خان اور میں جیل کی زبان میں ‘ہنڈی وال’ یعنی قریبی دوست بن گئے۔ بشیر خان جلد ہی سیشن کورٹ سے ضمانت پر رہا ہو گیا، مگر جو محبت، عزت، احترام اور دوستی کا رشتہ بنا، وہ اس کی شہادت تک قائم رہا۔

    قید کے دنوں ہی میں میں نے بشیر خان سے سائیں جی ایم سید سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس نے کہا: ‘خیر سے رِہا ہو جاؤ، پھر سَن (جی ایم سید کا آبائی گاؤں) چلیں گے۔’

    بشیر خان تو جلد آزاد ہو گیا، مگر مجھے سمری ملٹری کورٹ نے ایک سال قیدِ با مشقت کی سزا سنا دی۔ میں ڈسٹرکٹ جیل لاڑکانہ اور لانڈھی جیل کراچی میں رہا اور مارچ 1983 میں رہائی نصیب ہوئی۔

    جون 1983 میں میں جامشورو اسٹیشن سے مسافر ٹرین میں لاڑکانہ جا رہا تھا۔ جب ٹرین سَن ریلوے اسٹیشن پر رکی تو اچانک سائیں جی ایم سید سے ملنے کا خیال آیا۔ فوراً ٹرین سے اتر گیا۔ ان دنوں سائیں جی ایم سید سن میں نظر بند تھے، مگر ملاقات پر پابندی نہیں تھی، صرف سن سے باہر جانے کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی اجازت ضروری تھی۔

    میں نے ٹانگے والے سے کہا: ‘سائیں جی ایم سید کے پاس جانا ہے۔’

    اس نے بتایا کہ سائیں کبھی دریائے سندھ والی اوطاق میں بھی ہوتے ہیں، مگر اس وقت شدید گرمی ہے، اس لیے حویلی والی اوطاق میں ہوں گے۔

    دوپہر کی سخت گرمی تھی، گھوڑا بھی پسینے میں شرابور تھا۔ آخرکار ٹانگہ حویلی کے سامنے رکا۔ میں زندگی میں پہلی بار سن آیا تھا۔ گرمی ایسی کہ الامان! خیر، میں اوطاق پہنچا۔ وہاں کوئی نہیں تھا، صرف ایک شخص برآمدے میں چارپائی پر لیٹا تھا۔ اس نے پوچھا: ‘کس سے ملنا ہے؟’

    میں نے کہا: ‘سائیں جی ایم سید سے۔’

    اس نے بتایا کہ سائیں ابھی ملاقاتوں کے بعد اندر حویلی گئے ہیں، آپ اندر کمرے میں جا کر بیٹھ جائیں، جیسے ہی آئیں گے ملاقات ہو جائے گی۔

    میں اس کمرے میں گیا جہاں سائیں اکثر مہمانوں سے ملتے تھے۔ سامنے دیوار پر سندھ کا پینٹنگ والا نقشہ تھا، جس کی سرحدیں زنجیروں میں جکڑی دکھائی گئی تھیں اور انگریزی میں لکھا تھا: A Nation in Chains

    ایک کونے میں پلاسٹر آف پیرس سے بنا سائیں جی ایم سید کا مجسمہ رکھا تھا۔ ایک طرف کتابوں کی الماریاں تھیں، تاریخی کتابوں سے بھری ہوئی۔ درمیان میں نصرپور کی بنی ہوئی دو چارپائیاں تھیں جن پر سندھی رلیاں بچھی تھیں۔

    میں گرمی اور تھکن سے ایک چارپائی پر بیٹھا اور پتہ ہی نہ چلا کہ نیند آ گئی۔ جب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ساتھ والی چارپائی پر ایک بزرگ گہری نیند میں سو رہے ہیں۔ غور سے دیکھا تو سائیں جی ایم سید تھے۔

    بعد میں معلوم ہوا کہ سائیں نے مجھے سوتا دیکھا تو کہا: ‘گرمی میں کہیں دور سے آیا لگتا ہے، آرام کرنے دو۔’ اور خود بھی پاس لیٹ گئے۔

    جاگنے کے بعد میں ادب سے ان کے سامنے حاضر ہوا اور سچ سچ بتایا کہ میرا ان کی کسی تنظیم سے تعلق نہیں، بس ملاقات کی خواہش تھی۔ سائیں مسکرا کر بولے: ‘مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی میرے نظریے کا پیروکار ہے یا نہیں، تم سب میرے بچے ہو۔’

    سب سے پہلے پوچھا: ‘کھانا کھایا ہے؟’

    میں نے کہا: ‘نہیں۔’

    فوراً حکم دیا کہ مہمان کے لیے کھانا منگوایا جائے۔

    باتوں کے دوران میں نے بھٹو صاحب کے بارے میں سوال کیا۔ اس پر سائیں کے چہرے پر غصہ آیا، لمحہ بھر خاموش رہے، پھر بولے: ‘ذوالفقار علی بھٹو کے والد شاہنواز میرے دوست تھے۔ سندھ نے اپنی تاریخ میں تین ذہین انسان پیدا کیے: محمد علی جناح، پیر علی محمد شاہ راشدی اور ذوالفقار علی بھٹو۔ مگر تینوں سندھ کے لیے وہ نہ کر سکے جو کرنا چاہیے تھا۔’

    انہوں نے پنجاب کی بالادستی، 1972 کے عبوری آئین، 1973 کے آئین، بلوچ رہنماؤں کی گرفتاری اور بھٹو کی پھانسی تک پوری تفصیل بیان کی۔

    بینظیر بھٹو کے بارے میں فرمایا: ‘وہ ہماری بیٹی ہے، تعلیم یافتہ اور بہادر ہے، مگر اگر باپ کے نقش قدم پر چلی تو وہی طاقتیں اسے بھی نہیں چھوڑیں گی۔’

    بلوچوں کے بارے میں کہا: ‘اگر جتنے بلوچ مرے ہیں، ان کا آدھا بھی سندھ کے لیے سندھ نے قربان کیا ہوتا تو آج نقشہ بدل چکا ہوتا۔’

    سندھیوں کے بارے میں فرمایا: ‘سندھی ابھی اپنے دوست اور دشمن کو پہچان ہی نہیں سکے، بہت پچھتائیں گے۔’

    اتنے میں کھانا آ گیا: بکرے کا گوشت، تلی ہوئی مچھلی، بھنڈی، گندم اور چاول کی مکھن لگی روٹیاں، سفید چاول اور لسی۔ سائیں میرے ساتھ دسترخوان پر بیٹھے۔ بعد میں شربت بھی پلایا۔

    جب ٹرین کا وقت ہوا تو سائیں نے رخصت کرتے ہوئے مجھے ٹانگے تک پہنچانے کا کہا اور جیب میں کچھ رقم بھی رکھ دی۔ میں نے کہا: ‘سائیں، بہت ہو گیا۔’

    بولے: ‘رکھ لو، کام آئے گی۔’

    میں ٹانگے پر بیٹھ کر سن اسٹیشن کی طرف روانہ ہوا، مگر آج تک سائیں جی ایم سید کے ساتھ گزارے ہوئے وہ چند لمحے بھلا نہیں سکا۔

  • تقسیمِ ہند کے وقت جی ایم سید کا پارلیمانی کردار

    تقسیمِ ہند کے وقت جی ایم سید کا پارلیمانی کردار

    سندھ کی سیاست پر کئی دہائیوں تک اثر رکھنے والے معروف سیاست دان اور ادیب غلام مرتضیٰ سید المعروف جی ایم سید کی آج 17 جنوری کواُن کی 122 ویں سالگرہ ہے۔ وہ سندھ کی سیاست کی ایسی شخصیت تھے جنہیں محض ایک سیاست دان نہیں بلکہ مدبر، پارلیمانی رہنما اور مصنف کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

    برطانوی دور کے آخری برسوں میں وہ مسلم لیگ کے اہم حلقوں میں شمار ہوتے تھے اور ایک عرصے تک قائداعظم محمد علی جناح کے قریب سمجھے جاتے رہے۔

    یہ قربت بعد میں اختلاف میں بدل گئی۔ یہ اختلاف ذاتی کم اور سیاسی زیادہ تھا۔ سندھ میں حکومت سازی، جماعتی نظم، ٹکٹوں کی تقسیم اور صوبائی خودمختاری جیسے معاملات پر جی ایم سید کی رائے مرکزی قیادت سے مختلف ہوتی چلی گئی۔ اسی پس منظر میں انہوں نے مسلم لیگ اور جناح کی سیاسی سمت سے فاصلہ اختیار کیا اور سندھ کی سیاست میں ایک الگ راستہ منتخب کیا۔

    کراچی لوکل بورڈ کے صدر کی حیثیت سے سیاسی سفر شروع کرنے والے جی ایم سید 1930 کی دہائی میں قائم ہونے والی دو جماعتوں سندھ پیپلز پارٹی اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے بانی رہنما تھے۔ فروری 1937 کے انتخابات میں وہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کی ٹکٹ پر دادو سے سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

    سنہ 1937 سے 1942 تک سندھ میں بننے اور ٹوٹنے والی پانچ حکومتوں میں جی ایم سید مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے۔ سنہ 1940 میں وہ مختصر مدت کے لیے میر بندہ علی تالپور کی حکومت میں وزیرِ تعلیم بھی رہے۔

    سنہ 1942 میں سر حاجی عبداللہ ہارون کے انتقال کے بعد خان بہادر ایوب کھوڑو کو مسلم لیگ سندھ کا وقتی صدر بنایا گیا۔ تاہم قائداعظم محمد علی جناح نے جی ایم سید کو مسلم لیگ سندھ کا کل وقتی صدر مقرر کر دیا۔ اسی سال سندھ کے گورنر نے اللہ بخش سومرو کی حکومت برطرف کر دی، جس سے صوبے میں نئی سیاسی صف بندیاں ہوئیں۔

    اسی سیاسی ماحول میں سر غلام حسین ہدایت اللہ وزیرِاعظم بنے۔ اس تبدیلی کے ساتھ مسلم لیگ کی صوبائی سیاست مزید پیچیدہ ہوتی چلی گئی۔ سنہ 1943 میں اللہ بخش سومرو شکارپور میں قتل ہو گئے۔ اس مقدمے میں ایوب کھوڑو اور ان کے بھائی محمد نواز کھوڑو گرفتار ہوئے، جو اس وقت ایک بڑا سیاسی واقعہ بن گیا۔

    جی ایم سید چاہتے تھے کہ ایوب کھوڑو کی جگہ سید محمد علی شاہ کو وزیر بنایا جائے، مگر اقتدار کے فیصلے مقامی سطح تک محدود نہیں تھے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی مرکزی قیادت اور سیاسی ضرورتیں ان فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی تھیں۔ یہی وہ موقع تھا جہاں جی ایم سید کا مسلم لیگ کی مرکزی قیادت سے پہلا واضح اختلاف سامنے آیا۔

    سنہ 1945 میں سندھ میں وزارتِ اعلیٰ کے لیے کشمکش مزید گہری ہو گئی۔ ہاشم گزدر بھی اس دوڑ میں شامل تھے۔ 24 فروری 1945 کو سندھ اسمبلی میں شیخ عبدالمجید سندھی کی حکومت مخالف کٹوتی تحریک منظور ہوئی، جس سے حکومت کی پوزیشن کمزور پڑ گئی۔

    اس صورتحال میں جی ایم سید نے قائداعظم محمد علی جناح اور گورنر کو نئی وزارت کے قیام کی درخواست بھیجی۔ ان کی رائے تھی کہ مسلسل بحران کے باعث نیا سیاسی بندوبست ضروری ہے، مگر قائداعظم نے روز روز حکومتیں گرانے کے حق میں یہ رائے قبول نہ کی۔ یہاں سندھ کی پارلیمانی حقیقتوں اور مرکزی انتخابی حکمتِ عملی کے درمیان فرق کھل کر سامنے آ گیا۔

    یکم اکتوبر 1945 کو کراچی میں واقع جی ایم سید کی رہائش گاہ حیدر منزل میں ایک اہم اجلاس ہوا۔ مختلف دھڑوں نے امیدواروں کی فہرستیں پیش کیں۔ جی ایم سید نے اجلاس میں واضح کیا کہ مسلم لیگ کو اس کمیٹی پر اعتماد نہیں رہا۔ اسی موقع پر اختلاف کھل کر سامنے آ گیا اور مخالف ارکان اجلاس سے اٹھ گئے۔

    ٹکٹوں کی تقسیم کسی بھی جماعت میں سیاسی اختیار کی علامت ہوتی ہے۔ سندھ میں یہ معاملہ محض انتخابی نہ رہا بلکہ صوبائی قیادت اور مرکزی کنٹرول کے سوال سے جڑ گیا۔ مصالحت کے لیے پہلے لیاقت علی خان اور پھر قائداعظم خود پہنچے، مگر اختلاف ختم نہ ہو سکا۔

    اسی دوران دہلی کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کی سندھ مسلم نشست پر پیر علی محمد راشدی نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا۔ جی ایم سید نے مسلم لیگ کی پارٹی لائن کے بجائے ان کی حمایت کی۔ اس صورتحال کی جانچ کے لیے لیاقت علی خان اور قاضی محمد عیسی کراچی پہنچے۔

    نتیجتاً پیر علی محمد راشدی کو مسلم لیگ سے خارج کر دیا گیا اور جی ایم سید کو شوکاز نوٹس جاری ہوا۔ سندھ اسمبلی کے انتخابات کے لیے جی ایم سید کے نامزد کردہ چار امیدواروں کی مسلم لیگ ٹکٹ بھی منسوخ کر دی گئی۔ دسمبر 1945 میں جی ایم سید نے لیگ کی مرکزی ورکنگ کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا۔

    تین جنوری 1946 کو انہیں مسلم لیگ سندھ کی صدارت سے بھی ہٹا دیا گیا۔ یوں اختلاف ادارہ جاتی سطح پر آخری مرحلے میں داخل ہو گیا۔ اس کے بعد جی ایم سید نے مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کی اور پروگریسو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑا۔

    سنہ 1946 کے انتخابات میں جی ایم سید اور ان کے چار ساتھی کامیاب ہوئے۔ یہ نتیجہ اس بات کا ثبوت تھا کہ سندھ کی سیاست میں مقامی قوتیں محض مرکزی فیصلوں سے ختم نہیں ہوتیں اور جی ایم سید کی تنظیمی اور انتخابی بنیاد برقرار تھی۔

    مسلم لیگ سے علیحدگی کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں تھی۔ یہ ایک طویل سیاسی عمل تھا جس میں سندھ کی حکومت سازی، اسمبلی کی عددی سیاست، ٹکٹوں کی تقسیم اور مرکز و صوبے کے اختیارات بنیادی عوامل رہے۔

    سنہ 1946 کے انتخابات کے بعد سندھ میں ایک بار پھر مسلم لیگ کی حکومت بنی اور جی ایم سید کانگریس کی حمایت سے سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف منتخب ہوئے۔ اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی تعداد تقریباً برابر تھی۔ ایک موقع پر عدم اعتماد کی قرارداد کے لیے اکثریتی دستخط جمع ہو گئے، مگر گورنر نے اجلاس طلب نہ کیا۔

    بعد میں جب دوبارہ عدم اعتماد کی کوشش ہوئی تو حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی تعداد برابر نکلی۔ اسپیکر سید میران محمد شاہ اور ڈپٹی اسپیکر جیٹھی سپاہیملانی نے بیک وقت استعفیٰ دے دیا۔ چند ہی ماہ میں سندھ اسمبلی تحلیل کر دی گئی۔

    دسمبر 1946 کے انتخابات میں جی ایم سید قاضی اکبر کے مقابلے میں ہار گئے۔ بعد ازاں الیکشن ٹربیونل نے یہ انتخاب کالعدم قرار دیا، مگر اس وقت تک اسمبلی تحلیل ہو چکی تھی۔ یوں جی ایم سید کا پارلیمانی سفر ایک فیصلہ کن موڑ پر آ کر رک گیا، مگر سندھ کی سیاست پر ان کا اثر برقرار رہا۔